پانی سے ہائیڈروجن علیحدگی کا آسان ترین طریقہ دریافت!

اگر یہ ایجاد بڑے پیمانے پر بھی کارآمد ثابت ہوئی تو پھر ہائیڈروجن کو بطور تجارتی ایندھن استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ فوٹو: فائل

میری لینڈ -امریکا کی ایک فوجی تجربہ گاہ میں ماہرین نے المونیم میں کچھ اور دھاتیں شامل کرنے کے بعد ایک ایسا کم خرچ عمل انگیز (کیٹالسٹ) تیار کرلیا ہے جو پانی سے بہ آسانی ہائیڈروجن علیحدہ کر سکتا ہے۔ صاف ستھری توانائی کے حصول میں ہائیڈروجن کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ آکسیجن کے ساتھ مل کر پانی بناتی ہے جس سے کوئی آلودگی بھی خارج نہیں ہوتی لیکن ہائیڈروجن کا حصول بہت مشکل کام ہے۔

پانی کے ہر سالمے (مالیکیول) میں آکسیجن کا ایک ایٹم اور ہائیڈروجن کے دو ایٹم شامل ہوتے ہیں جنہیں ایک دوسرے سے الگ کرکے ہائیڈروجن اور آکسیجن گیسیں حاصل کی جاتی ہیں؛ لیکن اب تک اس کے تمام طریقے بہت مہنگے ثابت ہوئے ہیں کیونکہ ان میں عمل انگیز کے طور پر پلاٹینم دھات استعمال کی جاتی ہے۔ دوسری جانب کم خرچ طریقے اتنے سست رفتار ہیں کہ عملاً کسی بھی کام کے نہیں۔

لیکن ’’یو ایس آرمی ایبرڈین پروونگ گراؤنڈ ریسرچ لیبارٹری‘‘ کے سائنسدانوں نے اتفاقاً ایک ایسا عمل انگیز دریافت کر لیا ہے جو المونیم پر مشتمل ہے جبکہ غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ بڑی تیز رفتاری سے پانی کو آکسیجن اور ہائیڈروجن گیسوں میں توڑ سکتا ہے۔

اندازہ ہے کہ پورے سیارہ زمین پر موجود پانی کا حجم 1 ارب 38 کروڑ 60 لاکھ مکعب کلومیٹر ہے اور اگر ہم کسی طرح پانی کے سالمات کو توڑ کر آکسیجن اور ہائیڈروجن علیحدہ کرنے کا کوئی کم خرچ، تیز رفتار اور تجارتی پیمانے پر کام کرنے کے قابل طریقہ ایجاد کر لیں تو شاید یہ توانائی کے میدان میں دنیا کا سب سے بڑا کارنامہ ہو گا۔

اگرچہ اب تک یہ تو واضح نہیں کہ المونیم بھرت (ایلومینم ایلوئے) پر مشتمل اس عمل انگیز میں کون کونسے اجزاء شامل ہیں البتہ امریکی فوج کی جانب سے اتنا ضرور بتایا گیا ہے کہ اسے استعمال کرتے ہوئے چھوٹے پیمانے پر خالص ہائیڈروجن حاصل کرنے کے تجربات کامیاب رہے ہیں اور اگلے مرحلے میں اسے عملی میدان میں (یعنی فوجی اڈوں پر) پانی سے ہائیڈروجن الگ کرنے اور بجلی بنانے کے لیے آزمایا جائے گا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *