بے بسی

محمد طاہرM tahir

پاکستانی معاشرے میں ایک کربناک خلل پیدا ہو چکا ہے۔ حکمران جس پر توجہ دینے کو تیار ہی نہیں۔ ہرروز کچھ ایسی خبریں جنم لیتی ہیں جو اس معاشرے کی بنیادوں میں بیٹھ جانے والے بھونچال کو ظاہر کرتی ہیں۔ سماج کی مجموعی ساخت و نفسیات میں پیدا ہوجانے والے اختلال سے معاشرے میں انتہا پسندی کے رویئے جنم لے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اِن رویوں کو ایک اور طرح سے ظاہر ہونے پر مذہبی تعبیر کے متعصّب نقطۂ نظر سے دیکھاجاتا ہے۔ مگر تمام مفتیانِ اقلیمِ صحافت اور سیکولر ازم کے ’’غالی ملاّ‘‘انتہاپسندی کے دیگر معاشرتی مظاہر پر اپنی زبان بند کر لیتے ہیں۔
اسلام آباد میں گزشتہ دنوں ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا جب میاں بیوی کے جھگڑے نے دل دہلا دینے والے المئے کو جنم دیا۔میاں بیوی میں رہنے والے معمول کے جھگڑے میں ایک غیر معمولی صورت تب پیش آئی جب میاں نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو طلاق دی اور بیوی نے پستول نکال کر پہلے اپنے شوہر پر گولی داغی ۔ پھر یکے بعد دیگرے اپنے چار بچوں کو گولیوں کا نشانا بنایا۔ اس کے بعد ماں نے خود کوبھی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس المناک حادثے میں واحد بچ جانے والا بچہ گیارہ سالہ رافع ہے۔ جب کہ ماں اور باپ کے ساتھ نہایت کربناک موت سے دوچار ہونے والی تین بہنیں تھیں جن میں رانیہ سات سال نمرا پانچ سال اور ردا دوسال کی تھیں۔ اس حادثے کا سبب غربت نہیں ۔یہ خاندان ایک خوشحال زندگی کے تمام اسباب رکھتا تھا۔ باپ ایک پیٹرولیم کمپنی کا منیجر تھا۔ابتدائی تفتیش سے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ یہ دراصل میاں اور بیوی کے درمیان بالادستی کا جھگڑا تھا جو اس المناک انجام پر منتج ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اب ایسے واقعات عجیب بھی نہیں لگتے۔آخر اس معاشرے میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ میاں اور بیوی کے جھگڑے میں باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا تک ’’قتل‘‘ ہو جاتی ہے۔ کیا معاشرے میں اس سے پہلے کبھی میاں بیوی کے درمیان اس نوع کے مسئلے نہیں رہے؟عورتیں ہی نہیں مرد بھی اس سے بدترین حالات میں زندگی سے نباہ کرتے آئے ہیں مگر اب یہ قوتِ برداشت ختم کیوں ہوتی جارہی ہے؟
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ۔ گزشتہ چند برسوں میں اس سماج کی کایا ہی پلٹ گئی ہے۔ روزانہ ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے جس سے معاشرے میں خطرناک اور نہایت جاں لیوا رجحانات کی غمازی ہوتی ہے۔ مائیں ہی بچوں کو نہیں بچے بھی ماؤں کو مار رہے ہیں۔اسما ء نواب نامی ایک لڑکی نے اپنے’’ دوست ‘‘کے ساتھ اپنے ماں اور باپ دونوں کو 1999 میں’’ محبت ‘‘کے نام نہاد’’ جذبے‘‘کے باعث ہلاک کردیا تھا۔ چند ماہ قبل جوہر ٹاؤن لاہور میں ایک ماں نے اپنے بچوں کو قتل کردیا تھا۔غربت کب یہاں نہیں تھی۔ مگر اس کا ردِعمل بھی اب بھیانک شکلیں اختیار کر رہا ہے۔ مثلاً ایک ماں سے تین بچیوں نے اسکول کا نیا بستہ مانگا۔ اُس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ماں نے بچیوں کو تیار کیااور پھر اُنہیں لے کر ٹرین کے آگے لیٹ گئی۔ ایک دیہاڑی دار مزدور سے اُس کے بیٹے نے سالگرہ کا کیک مانگا۔ اُس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ باپ نے چھت سے کود کر جان دے دی۔ غربت کی خود کشیاں ایک عام بات ہو گئی ہے۔ مگر اب غربت ہی ایک وجہ نہیں رہی بلکہ دیگر وجوہات کے باعث بھی لوگ خود کو اور ایک دوسرے کو ہلاک کر رہے ہیں۔پھر یہ ہلاکتیں زیادہ متشدد روپ میں سامنے آرہی ہیں۔ مرنے والے آسان موت گلے لگانے پر تیار نہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ایک نیارجحان سامنے آیا ہے کہ مائیں بچوں کو چھوڑ دیتی ہیں اور بچوں کو مار کر بھی خود کو بچالیتی ہیں۔ جوہر ٹاؤن کا واقعہ ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ اسی سال جنوری کی سات تاریخ کولاہور ہائیکورٹ کے سامنے دوبچے (پانچ سال کا عمر اور چار سال کی آمنہ )پیش ہوئے۔ جنہیں اُن کے ماں باپ چھوڑ کر اپنی اپنی دنیا میں مگن ہو گئے تھے۔عدنان ظفر نامی باپ بیرونِ ملک چلا گیا تھا اور سیمانامی ماں نے دوسری شادی کر لی تھی۔دونوں نے محبت کی شادی کی تھی۔ مگر دونوں محبت کے’’ نتائج‘‘ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بچے شدید دھند اور یخ بستہ ہواؤں میں سراپا سوال تھے کہ اُن کا کون پُرسانِ حال ہوگا۔ ’’محبت‘‘کے حسین جذبے کی الف ب سے بھی ناواقف انسانی حقوق کے بدنہاد گروہ اورغارت گرِتہذیب ذرائع ابلاغ کسی جوڑے کے چٹ پٹے تعلق کی حفاظت کے لئے تو’’حقوق‘‘ کی تلوار سونت کر میدان میں کود جاتے ہیں۔ مگر ان بچوں کے مستقبل کے سوال پر نہایت بے شرمی سے چپ کی چادر اوڑھ کر سو گئے۔ انسان اپنی فطرت میں جن خوبیوں سے مزّین ہیں وہ اس سے دستبردار کیوں ہو رہے ہیں۔ آخر ممتا کی حسین جبیں شکن آلود اور باپ کا مونس وجود شفیق چھاؤں سے محروم کیوں ہورہا ہے؟ آخر اس سماج میں ایسا کیاخلل واقع ہوا ہے؟ ردِعمل کی یہ عجیب و غریب نفسیات طرح طرح کے واقعات کو سامنے لا رہی ہے۔ مثلا حافظ آباد میں 7؍ جنوری کو ہی کچھ وحشیوں نے سات سالہ بچی کو اغوا کرکے اُس کے ساتھ زیادتی کی اور پھر اُس معصوم کو قتل کرکے فرار ہوگئے۔ معصوم بچوں کے ساتھ یہ سلوک اب ایک مستقل روش کے طور پر بھیانک شکل میں سامنے آتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیایہ مسلسل واقعات انتہاپسندی کے کسی خانے میں شمار کئے جائیں گے؟
دراصل’’ انتہاپسندی ‘‘محض کسی خاص نوع کے نتائج میں نہیں بلکہ محرکات میں جنم لیتی ہے۔ اس کی تخلیقی کوکھ مذہب نہیں، سماج اور ریاست ہے۔عام تصور کے بالکل برعکس انسان بس نتائج سے آگاہ ہوتا ہے اور درست محرکات کے باطن میں جھانکنے سے محروم رہتا ہے۔اس لئے انسانی لاشعور کے غیر مختتم جنگلوں کی مہیب تاریکیوں میں جاری اُس جنگ وجدل کو سمجھ نہیں پاتا جو معاشرے میں خلفشار کو جنم دیتے ہیں۔ انتہا پسندی نتائج کا نہیں محرکات کا موضوع ہے۔یہ طوفان مذہبی میلانات سے نہیں تہذیبی ہیجانات کے عمیق صحراؤں سے اُٹھتے ہیں۔پاکستان میں اس کے حقیقی اسباب کچھ اور بھی ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تصورِ زندگی اور حقیقتِ زندگی میں ایک بدترین فاصلہ پیدا ہوگیا ہے۔ غیر حقیقی تصورات نے ہماری غیر مطابق زندگیوں کو زہر سے بھر دیا ہے۔یہ دہشت گردی سے بڑا مسئلہ ہے۔ اوردہشت گردی کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ ریاست کا محافظ سماج ہوتا ہے ۔ اگر ریاست کو اپنی بقا مطلوب ہو تواُسے سماج کے حقیقی تصورات کے مطابق اجتماعی زندگی کی صورت گری کرنی چاہئے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوئی تو اُسے قیمتاً اپنی زندگی سے بتدریج دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ ریاست ،پاکستانی معاشرے کی کسی بھی سطح پر کوئی خدمت نہیں کر رہی یا نہیں کر پارہی۔ جس کے باعث اُس سے ایک لاتعلقی کا عمومی رویہ جنم لے رہا ہے۔ اس عمومی رویئے کا اظہار مختلف اور بعض مثالوں میں بالکل متضاد طرح کے ردِ عمل سے ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کا واقعہ بھی ایک ایسا ہی ردِعمل ہے۔دہشت گردی کے کسی بھی واقعے سے زیادہ یہ اس بات کا مستحق تھا کہ اس پر غور کیا جاتا۔ ایک مسئلے کے طور پر پاکستان کے کسی بھی بڑے مسئلے سے یہ بڑا مسئلہ ہے۔
دراصل معاشرے میں ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے اسباب بہت بڑھ گئے ہیں۔ اور مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ جبکہ اس ذہنی دباؤ کو ختم یا کم کرنے کے ذرائع کم بلکہ ختم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ ایک عمومی نفسیاتی کیفیت ہے جس کے باعث اس طرح کے واقعات اب حیرت زدہ بھی نہیں کرتے۔ اگر ذرا سا غور کیا جائے تو عورتیں اس سے بدترین حالات میں بھی زندگی گزار لیتی تھیں۔ مگر اب وہ ایسا کیوں نہیں کر پارہیں۔ کیوں وہ ردِعمل کی تباہ کن نفسیات کا تباہ کن اظہار کر رہی ہیں۔یہ دراصل تصورِ زندگی اور حقیقتِ زندگی کے درمیان بدترین فاصلے سے پیدا ہونے والا تصادم ہے۔
معاشرہ بدترین جبر، گھٹن اور بے بسی کے تجربے سے گزر رہا ہے۔ مگر یہ جبر، گھٹن اور بے بسی سرے سے کسی بھی مقام پر تسلیم تک نہیں کی جارہی۔ عام لوگ جب ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں تو اُنہیں تصور کی حد تک آزادی سے روشناس کیا جاتا ہے مگر جب وہ عملی زندگی میں دیکھتے ہیں تو اُن کا عمومی تجربہ بے بسی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ ایک انسان اپنے تصور میں آزادی اور تجربے میں بے بسی سے گزر رہا ہو تو وہ غدر کی کیفیت سے ہی گزرے گا۔ معاشرے میں ان دونوں کیفیتوں کے درمیان کوئی ربط ہی نہیں ۔ ہمارا معاشرہ اپنے تمام نمائشی ذرائع میں آزادی کے تصور کو نہایت پختہ کر بیٹھا ہے مگر اپنے تمام تجربی حالات میں اس مصنوعی پختگی کے فیض سے محروم ہے۔ دراصل عام لوگ انفرادی اور اجتماعی سطح پر بے بسی کے شدید احساس میں مبتلا ہیں۔ اگر بے بسی قومی حالت بن جائے تو اسی نوع کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔یہ ردِعمل تب زیادہ شدید ہو جاتا ہے جب قومی زندگی کا کوئی بھی مقصد انفرادی یا اجتماعی طور پر حاصل نہ ہورہا ہو۔تب تشدد کے کئی دروازے بیک وقت کُھل جاتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں پیدا ہونے والا یہ کربناک خلل دراصل شرمناک طور پر نظر انداز ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم میاں نوازشریف کو دہشت گردی کی طرح ہی اس سماجی مسئلے کو ترجیح دینا ہوگی۔ دہشت گردی جس طرح ریاست کے لئے ہولناک ہے ٹھیک اسی طرح یہ مسئلہ سماج کے لئے نہایت ہی خطرناک ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *