نواز شریف کی نااہلی میں جماعت اسلامی کا کردار!

naeem-baloch1
کئی دوستوں نے پوچھا کہ آپ نے سپریم کورٹ کے ’’ تاریخی فیصلے‘‘ پر کیوں نہیں لکھا؟ سچی بات تو یہ ہے اس کا بہت حد تک اندازہ ہونے کے باوجود کہ نواز شریف ایک دفعہ پھر کند چھری سے شکارہونے جا رہے ہیں، جب فیصلہ آیا تو شدید مایوسی ہوئی ۔
میرے ذہن میں جو مضامین بھی آتے تھے وہ مجھے توہین عدالت کے مجرم ثابت کرتے تھے ،یا ملک کا باغی ہونے کے فتوے کانشانہ بناتے تھے یا اس بات کا یقین کی حد تک خطرہ تھا کہ میں ایک نا پسندیدہ ترین لکھاڑی قرار پاؤں گا ۔ مجھے یہ تمام ردعمل ناقابل قبول تھے، اس لیے ایک طرح کے ’’ رائٹرز ڈیپریشن ‘‘ کا شکار ہو گیا۔ پھر جب جیو کے ایگزیکٹو پروڈیوسر برادرم ذیشان حسین نے کہا کہ جو بھی ہو،ضرور لکھوں تو میں اپنے خود ساختہ ڈپریشن سے باہر آگیا ۔ یہ اس دور کا واقعہ ہے جب نواز شریف پہلی دفعہ وزارت عظمیٰ سے برطرف کیے گئے تھے ۔ انھوں نے آخری تقریر کی ، بے نظیر بھٹو سے داد پائی اور انتخابات کے میدان میں اتر گئے۔ ان کے حساب کتاب کے مطابق تمام اینٹی بھٹواور پرو اسلامک ووٹرزان کی مٹھی میں تھے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جن طاقتوں نے انھیں اقتدار دلایا ،پھر نکالا، وہ بھلا انھیں دوبارہ کیونکر برداشت کریں گی ۔یہ بات انھیں اس وقت سمجھ میں آئی جب جماعت اسلامی نے تنہا پرواز کا فیصلہ کیا اور جماعت اسلامی نے اس الیکشن میں اگرچہ صرف تین سیٹیں جیتیں لیکن ووٹ تقسیم ہونے کی وجہ سے ن لیگ بیس سے زیادہ سیٹوں سے محروم ہوئی اور یہی اس کی شکست کی وجہ بنی ۔ اب یہ آپ کی بصیرت ہے کہ اس شکست کی وجہ جماعت اسلامی کو قرار دیں یا ان تجربہ کار ذہنوں کو جو یہ جانتے تھے کہ محض ڈیڑھ برس بعد الیکشن ہی کے ذریعے سے نواز شریف کو کیسے ہرا یا جا سکتا ہے۔ الیکشن کے بعد بے نظیر بھٹودوسری دفعہ وزیراعظم بنیں جبکہ جماعت اسلامی کے ہاتھ سوائے جھنجنے (پنجابی لفظ ’چھنکنا ‘ زیادہ مناسب ہے )کے اور کچھ بھی نہ آیا۔مگر جماعت اسلامی سمجھی کہ اس کی تولاٹری نکل آئی ہے ۔ وہ ایک دوسرے احساس تفاخر میں مبتلا ہو گئی ۔ وہ اس پر بے حد خوش تھے کہ وہ اگر جیت نہیں سکتے تو ہرانے کی گیم تو ضرور کر سکتے ہیں ۔( ذرا تصور کریں کہ ایک خالص مذہبی نظریاتی جماعت جس کی اساس ہی تعمیر پر ہو، وہ کیسے تخریبی ذہن کی اسیر ہو گئی ! یہی وہ موقع ہے جب مولانا وحیدالدین کی تنقید سچی ثابت ہوتی ہے کہ جماعت اصلاً فلسفہ تخریب پر بنی ہے لیکن اس نے لبادہ تعمیر کا اوڑھ رکھا ہے ) گویا اس جھنجنے کی دریافت جماعت اسلامی کے نزدیک ان کی سب سے بڑی فتح تھی۔ اس موقع پرمو لانا امین احسن اصلاحی نے جماعت اسلامی کے پالیسی میکرز کو سیاسی احمق اور مذہبی بہروپیے کا خطاب دیا تھا ۔لیکن اس کے بعد جب بھی انتخابات کا موقع آیا، جماعت کے رہنما اپنا جھنجنا لے کر پہنچ جاتے ۔ صادقوں اور امینوں کی تلاش میں کبھی وہ ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے نظر آتے تو کبھی تحریک انصاف سے۔ تین چار انتخابات اسی ’ادا‘ سے لڑے اور جب یہ’ چھنکنا ‘بھی بے کار ہو گیا تو پرانی تنخواہ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ۔ نئی صف بندیوں کے نتیجے میں جماعت کو اسٹیبلشمنٹ سے دوبارہ تعلق کی ضرورت پڑی تو اس نے نواز شریف کے خلاف پٹیشن درج کرا دی ۔اب جب نواز شریف اپنے زخم چاٹ رہے ہیں تو جماعت اسلامی پھر اس غرے میں مبتلا ہے کہ دیکھا ہماری وجہ سے ایک کرپٹ حکومت کو پہلی دفعہ ذلیل وخوار کیا۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں ان کو کس نے اس کام کا اشارہ کیا تھا ۔ ورنہ اسے اگر واقعی احتساب سے دلچسپی ہوتی توسب سے پہلے پرویز مشرف کا احتساب کراتے ، جس نے ان کے ’’ مجاہدین ‘‘ کی کشتی میں سوراخ کیا یا اپنے سابق امیر کا احتساب کرتے جس نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا ، جہنم رسید ہونے والے پاکستانی طالبان کے سرغنہ کو شہید کہا۔ یاپھر اپنی اس گمراہی کا احتساب کرتے جس کے تحت انھوں نے پوری قوم کو یہ یقین دلایا ہوا تھا کہ ملک میں دہشت گردی طالبان یا دوسری کالعدم جہادی تنظیمیں نہیں بلکہ اس میں امریکی ملوث ہیں۔احتساب کرنے میں جماعت اسلامی کی دلچسپی کا اندازہ اس وقت ہوگا جب وہ کسی دوسرے سیاست دان کے خلاف پٹیشن لے کر سپریم کورٹ میں جائیں گے ۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی ۔ کیونکہ جماعت اسلامی ہمیشہ استعمال ہوئی ہے اور اسی کو مولانا اصلاحی نے سیاسی چغد ہونے سے تعبیر کیا تھا۔ اپنی نظریاتی اساس اور تشخص کو ایک طرف رکھ کر پی پی سے لے کر نون لیگ ، ق لیگ اور پی ٹی آئی تک سے ’’سازباز ‘‘ کرنے کی کوشش کی ۔ یہ تو ان کی شرائط زیادہ ہوتی تھی ورنہ وہ ہر سیاسی جماعت سے ’’ڈیل ‘‘ کرنے کے لیے بے قرار تھی۔اسی طرح کی ’’ نظریاتی کمٹمنٹ ‘‘ کی وجہ سے اسے ’’مذہبی بہروپیا ‘‘ کہا گیا ۔ جماعت اسلامی کی تاریخ سے کما حقہ واقف ہر شخص اس احساس کی تصدیق کر سکتا ہے ۔ اس لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے نواز شریف کے خلاف پٹیشن جماعت کی اسی طرح کی حرکت ہے جس طرح کی حرکت اس نے ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل ہو کر کی تھی ۔
ملک و ملت کی محبت میں’ دیوانہ‘ اور کرپشن سے انتہائی دشمنی کرنے والے دوسرے پٹشنر’’ اعلیٰ حضرت‘‘ شیخ رشید ہیں ۔ان کی’ اوقات ‘سے سب سے زیادہ وہی ہستی واقف ہے جس نے پوری قوم کو گواہ بنا کر دعا کی تھی کہ اللہ مجھے شیخ رشید جیسا کامیاب سیاست دان نہ بنائے۔جن کی دیانت دارانہ رائے یہ تھی کہ شیخ رشید ان کا چپڑاسی بننے کا بھی اہل نہیں ۔ لیکن جب یہی ہستی میکاولی کے فلسفے پر ایمان لائی تو اس نے جانا کہ دشمن کا دشمن‘ دوست ہوتا ہے۔ چنانچہ وہی شیخ رشید جو اپنی شکل آئینے میں دیکھنے کے قابل نہ تھا ، عمران خان کی پارٹی کا نامزد وزیر اعظم بنا ۔ ( عمران خان کے عاشقین مجھ پر لٹھ لے کر دوڑنے سے پہلے ذرا ضمیر کی آواز سن کر بتائیں کہ اس میں کون سی بات غلط ہے ؟ )
البتہ آپ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کی سیاسی قلابازیاں تو ہر جماعت لگاتی ہے ۔ تو حضور پھر ’نئے پاکستان ،تبدیلی ، انقلاب ، نبوی منہج پر حکومت، خلافت راشدہ ‘ وغیرہ کی باتیں کرنا چھوڑ دیں ، سیدھی بات کریں کہ اقتدار حاصل کرنے کے جو بھی جائز، ناجائز طریقے ہوں گے ،اختیار کیے جائیں گے ۔ تنقید کا یہ پہلو پھر بالکل بند ہو جائے گا ۔پھر آپ کی ہر حرکت کا جواز پیدا ہو جائے گا۔ ہم اس سے اتفاق کریں گے کہ نواز شریف اور ن لیگ نے اقتدار کی خاطر ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر لبیک کہا تھا،قوم کے سامنے جھوٹ بولا تھا، اس لیے آپ بھی اسی تاریخ کو دہرا رہے ہیں ۔ لہٰذااس کو تسلیم کیجیے کہ یہ نہ احتساب ہے ، نہ کرپشن کے خلاف جنگ ، نہ حب الوطنی ، نہ اصولی سیاست ، یہ صرف اقتدار کی جنگ ہے ۔ ویسی ہی جنگ جو بروٹس نے سیزر کو مار کر ، فاتح قسطنطنیہ سلطان محمدفاتح نے ساتوں سگے بھائی قتل کرکے ، اورنگ زیب عالمگیر نے سارے بھائی ٹھکانے لگا کے ،شیخ مجیب الرحمان کے دست راست مشتاق خوندکر نے خود مجیب کو قتل کرکے ،ایوب خان نے سکندر مرزا کو ملک بدر کرکے اور اس طرح کے بے شمار کرداروں نے لڑی اور جیتی تھی !البتہ اس کے بعد ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ جب اصول میں سب ایک جیسے ہیں تو آپ کسی ایک کی طرف جھکاؤ کیوں رکھتے ہیں ؟ تو یار زندہ ، صحبت باقی !
اور اس کی ابتدا اس سے ہوگی کہ آخر ان پانچ کالے بکروں کا کیا قصور تھا ، جو نواز شریف کے جی ٹی روڈ کے سفر کے آغاز میں ذبح کیے گئے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *