ایک مسخ شدہ لاش سے ملاقات

کلیم بٹ

kaleem butt

وہ ایک کالی رات تھی میں حیدرآباد سے جامشورو کے لئے نکلا۔ حیدرآباد میں میں صحافتی خدمات دیتا ہوں جب کے گزشتہ تیس برسوں سے ہماری رہائش جامشورو میں ہے۔ جس طرح صرف ایک پلیہ روالپنڈی کو اسلام آباد سے الگ کر دیتی ہے۔ ویسے ہی سالی ایک پلیہ جامشورو کو حیدرآباد سے الگ کردیتی ہے۔ ہم صحافیوں کی بھی کیا ہی خوب زندگی بن چکی  ہے۔ ہم سے کوئی خوش نظر نہیں آتا یہاں تک کہ ہماری بیویاں بھی نہیں۔ ان کو ہمیشہ یہ ہی شکایت ہوتی ہے کہ آپ کے گھر سے نکلنے کا تو ایک وقت مقرر ہے بلکل موت کی طرح پر لوٹنے کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ ارے میرے بھائیوں  آپ اس بات پر کے میں باتوں کو گھوما رہا ہوں غصہ نہ ہوں۔ آپ کے دم سے ہی تو ہم ہیں۔ آپ تھوڑا صبر سے کام لیں۔ آپ نے بار بار سنا ہوگا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اس کو پاکستانیوں سے زیادہ اور کون سمجھ سکتا ہے ہمارے لئے تو یہ ہر موسم میں دستیاب ہوتا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر صبر کا میٹھا پھل کہاجاتے ہیں۔ دہشتگردی ہوجاۓ تو بھی صبر کا میٹھا پھل آگے کیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں لیجئے صبر کا میٹھا میٹھا پھل۔ پہلی تاریخ پر تنخواہ نہیں۔ صبر کا میٹھا پھل حاضر ہے جناب۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستانیوں میں ذیابطس کی شرح بھڑ رہی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کے پاکستانی  کبھی بھی صبر کا میٹھا پھل کھانے سے انکار نہیں کرتے۔ روکیئے روکیئے کہیں مت جائیں میں آپ کو اس مسخ شدہ لاش کے بارے میں بتاتا ہوں جس سے میری ملاقات حیدرآباد بائی پاس پر ہوئی تھی۔ جسے کراچی تا حیدرآباد ایم ۹ موٹر وے میں تبدیل کرنے کی تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں۔ جس کا ٹھیکا ایف ڈبلیو او نامی روڈ بنانے والی کمپنی کو دیا گیا ہے۔ ایم ۹ جب ۷۵ کلومیٹر تک بناگیا تو حالیہ نااہل ہوۓ وزیر اعظم نواز شریف نے اس کا افتتاح کیا۔ پر کچھ عرصے میں وہ حصہ بیٹھ گیا۔ سمجھ میں نہیں آتا وفاقی حکومت اور وفاقی اداروں کی زیر نگرانی بننے والی شہراہیں سندھ میں آکر ہی کیوں بیٹھ جاتی ہیں۔۔۔!! ضرور اس میں بھی ہم سندھیوں کی ہی کوئی سازش ہوگی ہم تو ترقی دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔!! ہاں تو جوں ہی اس رات میں جامشورو جانے کے لئے پلیہ (جس کے نیچے سندھو ندی بہتی ہے) پر چڑہا تو مجھے سفید لباس میں ایک شخص کونے سے چلتا ہوا نظر آیا اس کے لمبے کالے بال بکھرے ہوئے تھے۔ مگر ایک منٹ مجھے بچپن سے ہی کہانیاں، افسانے اور ناول لکھنے کا بہت شوق تھا۔ میرے سندھی زبان میں چار اور انگريزی میں ایک ناول شایع ہو چکے ہیں۔ لیکں وہ جو پیاس ہے کہانی لکھنے کی وہ بجھتی ہی نہیں۔ اس لئے اس حقیقی واقعے کو افسانوی روپ دے رہا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ آپ میری اس چھوٹی سے گستاخی کو معاف فرمائیں گے۔ اور نہیں تو درگزر ضرور کردیں گے۔ ہاں تو پلیہ پر میری نظر ایک سفید لباس پہنے شخص پر پڑی۔ ظاہر کہ میں ڈر گیا۔ اور آج کل جو پاکستان کے حالات ہیں ان میں تو آدمی اپنے ساۓ سے ہی ڈر جاتا ہے۔ یہ تو پھر بھی ایک زندہ اجنبی شخص تھا۔

jungle

میں جب اس کے قریب پہنچا تو پتہ چلا وہ ایک بوڑھی سی عورت ہے اور اس کے جسم کہ ہر حصے سے خون ٹپک رہا ہے۔ میری تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ میں بھوت پریتوں پر زیادہ یقین نہیں رکھتا۔ اوپر سے صحافی ہوں تو ہر بات پر سوال اٹھانے کو اپنا حق سمجھتا ہوں۔ بس اپنا وہی حق استعمال کرتے ہوئے میں نے اس بوڑھی زخمی عورت سے پوچھا: اماں تم کون ہو اور رات کے اس وقت جب یا تو آوارہ کتے۔ یا پولیس والے یا پھر صحافی دندناتے ہیں تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اس نے میری طرف غور سے دیکھا اس کی آنکھیں لہو لہان تھی۔ میں اسے دیکھ کر ڈر گیا۔ اس کے جسم پر ان گنت گھائو  تھے۔ اس نے غور سے میری طرف دیکھ کر پوچھا: کیا تم ابن مریم ہو؟ یہ سوال سن کر مجھے حیرت ہوئی اور کہا: نہیں۔

اس نے ایک آہ بھری میں نے اس کے جسم سے ٹپکتے ہوئے خون کو دیکھا۔ وہ حسرت سے بولی: تو پھر تو میرے دکھ کی دوا نہیں کرسکتا۔ میں مزید حیرانی میں گھر گیا۔ بطور صحافی میں یہ اسٹوری ہاتوں سے پھسلتی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر وہ کسی ٹی وی چینل کے ہتے چڑھ گئی تو بریکنگ نیوز بن جاۓ گی۔ میں نے اس سے پھر سوال کیا: اماں تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو اور یہ جسم سے خون کیوں ٹپک رہا ہے۔ میں ایک صحافی ہوں اور تمہارے بارے میں دنیا کو سچ سچ بتاٶں گا۔ یہ سن کر اس کے منہ پر طنزیہ ہنسی آگئی اور وہ بولی: جا بیٹا تم تو پہلے سے ہی بھکے ہوئے ہو۔ بھلا آج کل سچ کا نام کون کمبخت لیتا ہے۔

پھر بھی اماں کچھ تو پتا چلے۔ میں نے اسرار کیا۔

تو وہ بولی: میں یہاں فرار کی راہ تلاش کررہی ہوں۔

کس سے فرار اماں؟ میں نے تجسس سے پوچھا۔

اپنی جنم جلی قسمت سے بیٹا۔ وہ آہ بھر کر بولی۔

میں کچھ سمجھا نہیں اگر اماں تم اپنے بارے میں تفصیل سے کچھ بتاٶ تو شاید کچھ پلے پڑے۔

وہ بولی: یوں تو میرا جنم انسان کے ساتھ ہی ہوا۔ مگر میں نے کتنے ہی جنم لئے ہیں اور کسی بھی جنم میں میرے سے انصاف نہیں ہوا۔ ہر بار میرا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ مگر میں ہر بار وہی روپ لے کر آتی ہوں۔ میرے ساتھ سب سے زیادہ ظلم برصغیر میں ہوا۔ یہاں کے لوگ مجھے جلدی بھول جاتے ہیں اور میری موت سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ برصغیر میں پہلی بار میرا قتل تب ہوا جب محمد بن قاسم نے سندھ کے راجا داہر کو جھوٹی کہانی بنا کر جنگ میں مار ڈالا اور سندھ کو اپنا غلام بنایا۔ اس کے بعد ہر دور کے حکمران مجھے سولی پر چڑھاتے رہے۔ کبھی دارا کے قتل کے بعد تو کبھی سرمد کے قتل کے بعد کبھی بلاول تو کبھی شاہ عنایت کے قتل کے بعد۔ بھلا سوم ناتھ کے مندر پر سترہ حملے کون سا جہاد تھا۔ تم ہی بتلائو۔ ابھی تم بٹوارے کے قصے ہی اٹھالو سارے کے سارے جھوٹ پر مبنی۔ کیا تم بتا سکتے ہو کہ شباس چندر کی موت کیسے ہوئی۔ کوئی کہتا ہے وہ جہاز کے گرنے سے مرے تو کوئی کہتا ہے کہ ان کو روس کی جیل میں گلا گھونٹ کر مارا گیا تو کوئی کہتا ہے کہ وہ گمنامی بابا کی زندگی گذارتے رہے۔ کیا تم نے منگل پانڈے کا نام سنا ہے۔ وہ تمارا ہیرو اس لئے نہیں ہوسکتا کیوں کہ تم لکیر کے اس پار رہتے ہو۔ تم اپنی سندھ کی مثال لے لو بھلا جی ایم سید کو غدار کیوں کہا گیا۔ شیخ ایاز کو جیل کا منہ کیوں دیکھنا پڑا۔

میں خاموشی سے بڑھیا کی باتیں سنتا رہا اور پھر بولا: اماں تم کون ہو۔ یہ سن کر اس نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا اور بولی: دیکھا تم خود کو صحافی کہتے ہو اور تم بھی مجھے پہچان نہیں سکے۔

یہ سن کر مجھے ندامت کا احساس ہوا۔ تو وہ بولی: مگر اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں میرے چہرے کو اتنی بار مسخ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی مجھے نہیں پہچان سکتا۔

پھر بھی کچھ پتا تو چلے۔ میں نے پھر پراسرار انداز میں کہا۔

وہ بولی: میں تاریخ کی مسخ شدہ لاش ہوں۔

میں نے اسے غور سے دیکھا اور کہا: پھر تو تم کو کتابوں اور لائبرریوں میں ہونا چاہئے تم یہاں کیا کر رہی ہو؟

وہ سنجیدہ ہوکر بولی: انہی قید خانوں سے تو مجھے فرار چاہئے۔

میں نے پلیہ کے نیچے بہتی سندھو ندی کی طرف دیکھا اور کہا: اماں یہ سندھو ندی ہے اس کی عمر بھی تمہاری عمر جتنی  ہے۔ اس میں چھلانگ لگا دو۔ دونوں کو سکون مل جاۓ گا۔

یہ سن کر بڑھیا کے مسخ شدہ منہ پر پرسکون مسکراہٹ آگئی اور بولی: بیٹا سچ بتا کہیں تو ابن مریم تو نہیں۔

نہیں اماں۔ میں بولا۔ اگلے ہی پل تاریخ کی مسخ شدہ لاش نے سندھو میں چھلانگ لگا دی۔ اور میں سکون سے آگے بھڑ گیا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *