قائد کو کیا معلوم کہ اب ہم پتنگ نہیں اڑاتے

ata ul rehman saman

اگست کا مہینہ چڑھا ہے تو گلیوں بازاروں میں ہرا رنگ چھاسا گیا ہے ۔کچھ روز میں یہی رنگ دیواروں ، چھتوں ، گاڑیوں اور گالوں غرض ہر سوچڑھ جائے گا ۔ دن بھر اپنے سترویں یوم آزادی سے نظر نہیں ہٹی ۔ ذہن تحریک پاکستان ، اُس کے کرداروں ، حالات اور قیام پاکستان کے مقاصد کو کھوجتا رہا۔ را ت بستر پر دراز ہوا تو دل و دماغ میں اٹھنے والے سوالات تشنہ تھے۔ نصابی و غیر نصابی کتب کے بیان میں واضح بُعد اندیشہ ہائے دور دراز کا باعث بنے رہا۔اب کس سے پوچھوں کس کے پاس جاؤں۔ بس اسی غباِ ر خیال میں آنکھ لگ گئی۔
رات کے کسی پہر میں نے خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا پایا۔ سمت تو نامعلوم تھی مگر رفتار تھی کہ جیسے آواز کی سی ہو۔ پھر جیسے کسی تاریک سرنگ سے گزرنے کا احساس ہوا کہ جس کے بعد میں نے خود کو کسی نہایت صاف ستھری بستی میں پایا۔ شیشے کی طرح چمکتا فرش ، آلودگی سے پاک ہوا اور سٹرکیں ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک کھلا بازار ہے ۔ لوگ آ جا رہے ہیں۔ سامنے ایک ریستوران تھا ۔ شیشے کے دروازے سے اندر کرسیاں بچھی نظر آ رہی تھیں ۔ میں بھی اندر جا کر چار کرسیوں کے بیچ لگی میز کے سامنے بیٹھ گیا۔ سفید براق وردی میں ملبوس خدمت گار پانی رکھ کے لوٹ گیا۔ پھر آیا تو ایک ٹرے میں چائے اور کچھ کھانے کا سامان تھا۔ میں نے ادھر ادُھر کا جائزہ لیا تو ہال میں خال خال کوئی بیٹھا تھا۔ ساتھ والے میز پر کوئی چائے نوش کر ر ہے تھا ۔ سوچا کیوں نا اُن کے ساتھ بیٹھا جائے کچھ کمپنی ہو جائے گی۔
جناب کیا میں آپ کے پاس بیٹھ کر چائے پی سکتا ہوں ، دوسرے میز کے قریب جا کر میں نے نہایت ادب سے پوچھا۔ اُ نہوں نے سر اٹھایا تو مجھے چہرہ جانا پہچانا لگا ۔ نہایت سیدھے لہجے ا ور بھاری آواز میں جواب ملا، جی بصد شوق تشریف لائیے۔ میں اپنا ٹرے اٹھا کر اُن کے پاس آگیا ۔ میں نے اپنا تعارف کروایا تو فرمایا میں جانتا ہوں۔کہنے لگے میں محمد علی جناح ہوں۔ یک لخت مجھے جیسے جھٹکا سالگا ۔ مجھے توپہلے ہی لمحے مجھے اُن کا چہرہ جانا جاناسا لگا تھا۔ میں نے اپنی کرسی تھوڑی اور قریب کر لی۔ آپ وہی جناح ہیں نا جن کو قائد اعظم کہہ کر بھی پکارا جا تا ہے۔ جی جی جی ہاں میں وہی جناح ہوں۔ انہوں نے انکساری سے جواب دیا۔

Related imageمیں نے کہا دیکھئے ہم آج پاکستان کو کس بلندی پر لے گئے ہیں۔ گذشتہ 70سال میں ہم ایٹمی قوت بن چکے ہیں ۔ ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھا ہے۔ کارخانے ، فیکٹریاں ، فصلیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، بلدیاتی ادارے، قومی و صوبائی اسمبلیاں اوردرجنوں ٹی وی چینلز ، اظہار رائے کی آزادی۔ دیکھئے ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔
میرے بیان پر قائد کے چہرے پر کو ئی خوشی کا تاثر نہ ابھرا۔ بس مختصر بولے، ’’ مگر سفر بلندی نہیں پستی کی جانب ہے بیٹا‘‘۔ وہ کیسے ؟اچانک میرے منہ سے نکل گیا۔ بیٹا ستر سال بعد تین سرحدوں پر کشیدگی کی صورت حال ، کشمیر پر ہمارے موقف پر بین الاقوامی برادری (جو ستر سال قبل ہماری ہم نوا تھی) کی عدم توجہ کیا آپ کی خارجہ پالیسی پر سوال ہے کہ نہیں ۔اظہار رائے کی آزادی کی بات کرتے ہو تو 70سال بعد آج پاکستان صحافیوں کے لئے خطر ناک ترین ملک بن چکا ہے۔اقوام متحد ہ کی ر پورٹ کے مطابق انسانی ترقی کے انڈیکس میں پاکستان 188ممالک میں 147ویں نمبر پر ہے۔2016کی ورلڈ واچ لسٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا چھٹا ملک ہے جہاں مسیحیوں کو سب سے زیادہ ایذ ا رسانی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ آپ کے ملک میں پنچائتوں کے حکم پر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ مجھے تعجب ہے آپ کو اس صورت حال میں بھی بلندی کا کوئی پہلو دکھائی دیتا ہے ۔میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا۔ تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں کیا فرق ہے؟ کیا ہندو تحریک آزادی اور مسلمان تحریک پاکستان چلا
رہے تھے۔وہ بولے۔ نہیں بھئی، ہم سب لوگ تحر یک آزادی کا حصہ تھے۔ آپ کو معلوم نہیں اقبال کیا کہہ رہے تھے۔’’ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا‘‘۔ دراصل آزادی کے بعد کے انتظام پر ہمارا کانگرس سے اتفاق نہ ہو سکا ۔ ہم اقلیت تھے۔ ہم نے اپنے اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ
کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کر دیا ۔مغربی پنجاب اور دیگر علاقوں میں بسنے والی دیگر اقلیتوں نے بھی ہمار ا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بنائے گئے پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا ہے۔ اُن کی عبادت گاہیں ، املاک اور عزتیں غیر محفوظ ہیں۔ جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کے باعث لوگ ملک چھوڑ کر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ آپ کی درسی کتابوں میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد ہے جسے برقرار رکھنے کے لئے ہر حکومت ذمہ دار ہے۔
پاکستان کی ریاست کا افتتاح کرتے ہوئے کی 11اگست 1947کو میں نے جو وعدہ پاکستان کے شہریوں کے ساتھ کیا تھا میرے انتقال کے ٹھیک چھ ماہ بعد اُس کو پس پشت ڈال کر دستور ساز اسمبلی میں مسلم ارکان نے قرارداد مقاصد منظور کر لی جس کی ایک بھی غیر مسلم رکن نے حمایت نہیں کی تھی۔ 11اگست 1947کو کی جانے والی میری تقریر سے عوام کو بے خبر رکھا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ 11اگست کو کی جانے والی میری تقریر کا حوالہ دینے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
میں کیا جواب دیتا ۔ موضوع بدلنے میں ہی پناہ ڈھونڈی۔ آپ کے خیال میں ریاست کے مفاد اور پالیسی کا تعین کس کو کرنا چاہئیے؟ انہوں نے کہا سنو! 14اگست کا دن تھا گورنر جنرل ہاؤس کراچی میں آزادی کی تقریبات جاری تھیں ۔ ایک نوجوان فوجی افسر نے میرے پاس آ کر شکایت کی کہ فوج کے تینوں شعبوں میں برطانوی سربراہ مقرر کئے گئے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ پاکستانی افسروں کو قوم کی خدمت کا موقعہ دیا جاتا ۔ میں نے اُس افسر کو ہدایت کرتے ہوئے یوں کہا تھا ، ’’ مت بھولئے کہ آپ عوام کے خادم ہیں۔ قومی پالیسی بنانا آپ کا کام نہیں ہے۔ اِن معاملات پر فیصلہ کرنا ہمارا یعنی سول رہنماؤ ں کا اختیار ہے ۔ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ اِن احکامات کی تعمیل کریں۔
جواب نہایت واضح تھا۔ میں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔ ہمارے بارے آپ کاکیا خیال ہے؟ جواب دینے کے لئے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔میں بھی احتراماً کھڑا ہو گیا ۔ فر مایا آؤ۔ ہم ریستوران کے اندر کے دروازے سے گزر کر ایک دالان میں آ گئے۔ مجھے کہا یہ منظر دیکھو۔کیا دیکھتا ہوں ۔ دالان میں بڑی مونچھوں والا ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ، ایک عورت دو نوجوان اور ایک بچہ ہیں۔ مونچھوں والا شخص ایک پتنگ اڑا رہا تھا۔ہوا میں اڑتے پتنگ کو دیکھ کر سب خوش ہو رہے تھے۔ بچہ بار بار پتنگ اڑانے کے لئے ضد کرتا مگر بڑی مونچھوں والا آدمی (جو اُس کا شائد باپ تھا) اُس کا ہاتھ جھٹک دیتا۔ پھر یوں ہوا کہ دالان میں اور بھی لوگ آ گئے ۔ اُن کے بچے پتنگ اڑانے لگے۔ دیگر بچوں کو پتنگ ا ڑاتے دیکھ کر مونچھوں والے شخص کا بیٹا مچلنے لگا ۔ تب مونچھوں والے آدمی نے پتنگ کی ڈور بچے کے ہاتھ میں دے دی مگر پیچھے سے ڈور کو اپنے ہاتھ میں لے کر پتنگ کا کنٹرول اپنے ہی ہاتھ میں رکھا۔ میں نے قائد کی طرف دیکھا تو وہ جا چکے تھے اور میں اپنے بستر پر موجود تھا۔ پتنگ، ڈور ، مونچھوں والا آدمی ، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ سوچا قائد کو کیا معلوم کہ اب ہم پتنگ نہیں اڑاتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *