متعفن ہوتی سیاست

عبدالباسط

abdul basit (2)

۔سیاست اورسیاستدان  ہر دور میں کوئی قابل اعتبار نہیں رہے۔جو کہ ایک المیہ ہے۔اس میں آتے تو بڑے بڑے دعوؤں سے ہیں ۔لیکن جاتے پھر عوام کی بد دعاؤں سے ہیں۔جو سیاست میں آتے ہیں،اچھی پہچان اور نام سے ،جاتے سکینڈلز اور عوامی نفرتوں سے ہیں۔عجب شعبہ ہے جس میں جتنا کوئی بدمزاج اور بد تمیز ہوتا ہے اس کو اتنا ہی پسند کیا جاتا   ہے۔اور یہ بد مزاجی آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے کا حصہ بن جاتی ہے۔جو جتنا غلیظ ،عیاش ،اور برے کردار کا مالک ہوتا ہے۔اتنا ہی بڑا  اور کامیاب سیاستدان بن کر ابھرتا ہے۔جس کی زبان لمبی ہو ۔وہ اتنا بڑا پارٹی ترجمان ہوتا ہے۔یہ کوئی آج کی بات نہیں ہم نے کب سے بیڈ روم کو سیاست کےایوانوں میں گھسیٹتے چلے آتے ہیں۔بظاہر تو ہم مخالف کو نیچا دیکھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔اور اس کی عزت کو تارتار کر کے بہت بڑی قومی و ملی خدمت سر انجام دیتے ہیں۔لیکن یہ بھول جاتے ہیں یہی چیز عوام میں بھی سرائیت کرے گی اور سارا معاشرہ بے حسی اور بے شرمی کا مرکز بن جائے گا۔

Image result for pti vs pmln

مجھے اس بات سے انکار نہیں موجودہ دور میں جو زبان سیاست دان استعمال کر رہے ہیں وہ کوئی مہذب معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا۔اس کی کئی وجوہات ہیں ۔جس میں سیاست میں دیانت،خدمت اور شرافت کا نہ ہونا ہے۔جب ایک عام آدمی ان کے شہانے انداز کو دیکھتا ہے تو اس کی زبان سے ان کے لیے یہی الفاظ نکلتے ہیں۔اگر سیاست ایک ایسا شعبہ ہے جس کے اثرات عوام پر بھی ہوتے ہین۔ کسی کو اوئے کہنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کتنے اوئے میرے منتظر ہو گے۔سیاست کسی  بھی قوم کاایک ادارہ ہوتا ہے ۔اس کی زبان،انداز،سوچ پوری قوم کی آواز ہوتی ہے۔اس لیے ہر حال میں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔الزامات،اور تحقیر سے ہم کسی کو نیچا نہیں دیکھا سکتے ۔ہم اگر کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں،تو اپنی ،مالی،اخلاقی اورزبانی کرپشن سے بھی اپنے آپ کو پاک کرنا ہو گا۔ورنہ یہ سیاست غلاظت ،عداوت کا عملی نمونہ بن جائے گی ۔خدارا اپنا نہیں عوام کے مستقبل کا ہی خیال رکھ لینا چاہیے

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *