10 منٹ کا راستہ ساڑھے چھ گھنٹے میں طے ہوا

Image result for nawaz sharif rally to lahore

وزارت عظمیٰ سے ہٹائےجانے کے بعد سابق وزیر اعظم اسلام آباد سے لاہور کی طرف روانہ ہوئے اسلام آباد سے راولپنڈی تک متوالوں کا ہجوم امڈ آیا، 10منٹ کا راستہ ساڑھے6 گھنٹےمیں طے ہوا۔پرجوش نعروں اور رقص سے کارکنوں نے جذبات کا اظہار کیا، نواز شریف نے ہاتھ ہلا ہلا کر کارکنوں کی محبت کا جواب دیا، لیگی رہنما طلال چوہدری کا جوش بھی دیکھنے والا تھا،جو چلتی گاڑی کے دروازے سے باہر نکل کر نعرے لگاتے نظر آئے،عابد شیر علی اپنی گاڑی کی چھت پر چڑھ کر کارکنوں کا جذبہ بڑھاتے رہے۔دس منٹ کا راستہ ساڑھے چھ گھنٹے میں طے ہوا،بے پناہ رش کی وجہ سے نواز شریف کے قیام کا منصوبہ تبدیل کردیا گیا، پنجاب ہائوس راول پنڈی میں ہی رات گزارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ تقریبا ساڑھے تین سو کلو میٹرہے، منزل پر پہنچنے کا وقت 4سے ساڑھے4گھنٹے ہے،لیکن اگر متوالوں کا ہجوم ہو، پرجوش نعروں کی گونج ہو ،تو یہی وقت گھنٹوں سے دنوں میں بدل جاتا ہے۔پنجاب ہائوس اسلام آباد سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی روانگی صبح 9بجے مقررتھی، اسلام آباد کی سڑکوں پر کارکنوں کا ہجوم بڑھتا رہا، میریٹ روڈ پر جہاں پارٹی نغموں کی گونج سنائی دیتی رہی، وہیں نون لیگ کے کارکن پرجوش نعروں اور رقص سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے، ڈی چوک نون لیگ کے کارکنوں کا مرکز بن گیا۔خیبر پلازہ سے بھی کارکنوں کا رخ پنجاب ہاؤس کی جانب رہا، پشاور سے امیر مقام گاڑیوں کا قافلہ لے کر اسلام آباد میں داخل ہوئے،تو چترال سے آنے والوں نے اپنے پرجو ش انداز سے آمد کی اطلاع دی۔

ڈی چوک پر پیدل،گاڑیوں اور کوسٹرز میں سوار کارکن نواز شریف کے قافلے کا حصہ بنتے رہے،خیبر چوک،زیرو پوائنٹ، فیض آباد انٹرچینج اور پھر راول پنڈی، 15سے 20منٹ کا رستہ طے ہوتے ہوتے 5سے 6گھنٹے لگے گئے، فیض آباد میں نواز شریف گاڑی سے اتر کر کچھ دیر کے لیے اپنے کنٹینر میں گئے اور پھر واپس گاڑی میں آکر نشست سنبھال لی۔

دن ڈھل گیا، سورج ڈوب گیا، چاند نکل آیا،لیکن نون لیگی متوالوں کا جوش ٹھنڈا نہ پڑا، راول پنڈی میں نواز شریف کا قافلہ رواں دواں رہا، نعرے لگاتے، بھنگڑے ڈالتے کارکن بھی ساتھ نبھاتے رہے، سڑکوں پر عوام کے رش کی وجہ سے نواز شریف کے قیام کا منصوبہ تبدیل ہوگیا،اب پنجاب ہاؤس راولپنڈی میں ہی رات گزارنے کا فیصلہ ہوا ہے،کل صبح جہلم کے لیے روانہ ہوں گے، کھاریاں، لالہ موسیٰ، گجرات سے گزرتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچیں گے، کامونکی، مرید کے، کالا شاہ کاکو، فیروزوالا اور شاہدرہ سےہوتے ہوئے لاہور میں انٹری دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *