روتھ فاؤ کو جنت ملے گی یا دوزخ؟

mukhtar chaudhry

ایدھی کے بعد آج کراچی اور پاکستان ایک اور انسان دوست ہستی سے محروم ہو گیا۔ ایک ایسی ہستی جس کے بارے میں ناخواندہ پاکستان کے بہت کم لوگوں کو علم ہوگا۔ کیوں کے لوگوں تک معلومات باہم پہنچانا ذرائع ابلاغ(میڈیا کا کام ہوتا ہے اور ہمارے میڈیا کو جب کبھی آیان علیوں اور گلالئیوں سے فرصت ملتی ہے تو وہ ہمیں الطاف بھائی کے خوبصورت چہرے کا درشن کرواتے تھے یا پھر این آر او، میموگیٹ، دھرنے اور پاناما پاناما کا کھیل پیش کرتے ہیں) اور آج جب اس بڑی ہستی اور انسانیت کی معراج کا انتقال ہوا ہے تو پاکستان کے تمام پھول اور پھولوں کی پتیاں راولپنڈی میں کرپشن میں سزا یافتہ مجرم پر نچھاور ہو رہے ہیں "جب میرا چلن ہوا تو پھولوں کی دکانیں بند تھیں" اور ہمارے میڈیا کا رخ بھی جی ٹی روڈ کی طرف ہے۔ ویسے تو میں بھی اپنے پچھلے کالم کے تسلسل میں اگلا کالم بھی جی ٹی روڈ پر ہی لکھ رہا تھا لیکن اس ماں جیسی ہستی کے انتقال نے جو صدمہ دیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ کم از کم اس ہستی کے لیے چند الفاظ لکھ دئیے جائیں۔ میرے جو دوست اس بڑی شخصیت کے بارے نہیں جانتے ان کی معلومات کے لیے: روتھ فاو جن کا پورا نام روتھ کیتھرینا مارتھا فاو تھا۔

rr

ستمبر 1929 میں جرمنی کے شہر Leipzig میں پیدا ہوئیں اور دوسری جنگ عظیم کے دوران پلی بڑھی 1939 سے 1945 اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے شہر پر بمباری کے مناظر دیکھے اور اپنا گھر بھی بمبوں سے تباہ ہوا دیکھا۔ اسی دوران انکا وطن ملبے کا ڈھیر بنا اور جنگ کے خاتمے تک لاکھوں لوگ مارے گئے اور ملک 2 حصوں مغربی اور مشرقی جرمنی میں تقسیم ہو گیا۔ مشرقی حصے پر روس کا تسلط تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد 1948 میں روتھ نے بارڈر کراس کر کے مغربی جرمنی میں میڈیکل کی تعلیم شروع کی(یاد رہے کہ اس زمانے میں مشرقی جرمنی کا بارڈر کراس کر کے مغربی جرمنی جانے پر سخت پابندی تھی اور ایسا کرنے والوں کو سزائے موت بھی دی جاتی تھی۔ 1950 میں انہوں نے مغربی جرمنی کی یونیورسٹی Mainz and Marburg سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور اپنی گریجویشن کے بعد عیسائیوں کے فرقے کیتھولک کی مشنری تنظیم Daughters  کو جوائن کر لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر پاک و ہند میں جذام جسے کوڑھ کی بیماری بھی کہتے ہیں کی وبا پھیلی ہوئی تھی جس سے ہزاروں ہلاکتیں ہو گئی تھیں کوڑھ کی بیماری بہت بری بیماری تھی جس سے جسم گلنا شروع ہو کر ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتا تھا اور یہ اچھوت بیماری تھی جس کی وجہ سے اس بیماری کے شکار مریضوں کو ان کے اپنے پیارے گھروں سے دور ویرانے میں سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑ آتے تھے اور کسی طرح کچھ خوراک ان کے قریب رکھ آتے تھے لیکن لوگ اس بیماری کے خوف سے اپنے پیاروں سے دور رہنے پر مجبور تھے۔ کسی اللہ کے بندے نے پاکستان میں اس بیماری پر ایک ڈاکومنٹری فلم بنا دی اور یہ فلم ڈاکٹر روتھ نے بھی دیکھ لی اور دل ہی دل میں اس چیلنج کا سامنا کرنے کی ٹھان لی۔  ڈاکٹر روتھ کی تنظیم نے انہیں ایک مشن پر انڈیا بھیجنے کا فیصلہ کیا  اور 8 مارچ 1960 میں انڈیا جاتے ہوئے وہ کراچی رکیں۔ ویزہ کے مسلے پر ان کو کراچی زیادہ رکنا پڑا تو انہیں یہاں جذام(کوڑھ) کے مریضوں کے بارے معلومات حاصل ہوئیں اور انہوں نے جذام کے مریضوں کی کالونی اس وقت کی میکلورڈ روڈ اور آج کی آئی آئی چندریگڑھ روڈ کا معائنہ کیا اس علاقہ میں جو ریلوے لائین کے نواح میں واقع تھا سب لوگ اپنے مریضوں کو چھوڑ جاتے تھے جب ڈاکٹر روتھ نے ان مریضوں کے حالات دیکھے تو وہ بہت دکھی ہو گئیں اور ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی بیڑا کر کے اس پر کام شروع کر دیا۔

Related image

1961 میں وہ انڈیا گئیں جہاں سے جذام کی بیماری کی روک تھام کے حوالے سے اپنے مشن سے ٹریننگ حاصل کی اور واپس کراچی آکر اس بیماری کے خاتمے کا بیڑا اٹھایا۔  1965 میں انہوں نے ایک پاکستانی  ڈاکٹر زرینہ کے ساتھ مل کر پیرامیڈیکل ورکر کا ایک ٹریننگ گروپ تیار کیا۔ جب کراچی میں انہوں نے اس بیماری پر کنٹرول کر لیا تو پھر 1971 میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے تمام صوبوں بشمول آزادکشمیر کام شروع کر دیا اور ملک کے کونے کونے کا سفر کر کے جذام کے مریضوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کا علاج کرتی رہیں۔ کراچی میں انکا پہلا کلینک ایک جھگی میں قائم کیا گیا تھا جو بعد میں ترقی کرتے کرتے بہت بڑے ہسپتال میں تبدیل ہوا اور کراچی کے مختلف علاقوں کے علاوہ سارے صوبوں میں بھی اپنے مراکز قائم کئے گئے۔ ۔
ڈاکٹر روتھ کی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں 1979 میں جذام کے متعلق وفاقی حکومت کا مشیر مقرر کیا۔ ڈاکٹر روتھ کی خدمات اور کوششوں سے 1996 میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو جذام کی بیماری سے پاک ملک تسلیم کر لیا تھا۔ ڈاکٹر روتھ نے میڈیکل ، جذام کی بیماری پر اور اپنے کام کے حوالے سے ڈھیڑ درجن کے لگ بھگ کتب بھی لکھی ہیں۔اور ڈاکٹر روتھ کو انکی خدمات پر بہت سارے پاکستانی اور بین الاقوامی ایوراڈز سے بھی نوازا گیا جن میں: دی آرڈر آف دی کراس فرام جرمنی، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز، دی کمانڈرز کراس آف دی آرڈر آف میرٹ وڈ سٹار فرام جرمنی، ہلال پاکستان، Damien-Dutton Award from USA, Osterreischische Albert Schweitzer Gasellschaft from Austria, Ramon Magsaysay Award from Govt. PHILIPINE, The Jinnah Award from Jinnah Socity Pakistan, Om the name of Allah Award from Idara-e-Waqar-e-adab Pakistan, Honorary Degree og Doctor from Agha Khan University, Marion Doenhoff-prize, Germany اور اس کے علاوہ بہت سے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر روتھ نے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرنے پر اپنی ساری جوانی، اپنے سارے خواب(جو دنیا کی ہر لڑکی اپنی آنکھوں میں سجاتی ہے) اور اپنی ساری زندگی قربان کر دی۔ اپنے وطن سے دور اپنے عزیزوں سے جدا۔ بس ایک ہی لگن کے غریب اور بے بس انسانوں کو ایک موزی بیماری سے نجات دلانی ہے اور ان انسانوں کا تعلق روتھ کےوطن سے نہ مذہب سے لیکن وہی بے بس انسان اسکی خدمت کے حقدار تھے کیوں کہ ان مریضوں سے اپنوں نے منہ موڑ لیے تھے، انکی حکومت ان کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہی تھی وہ اپنے ہی وطن میں بے آسرا تھے انکی سسکیاں جب آسمان کو چیر گئیں اور اللہ کی بارگاہ میں ان سسکیوں کا ایک شور اٹھا تو اللہ نے روتھ کی شکل میں ایک فرشتہ بھیج دیا جو اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہے اور سوال کر رہا ہے کہ اب میرا ٹھکانہ جنت ہے یا جہنم۔

Image result for ruth fao

یہ معاملہ تو اللہ ہی بہتر جانے کہ اسکا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔ لیکن اب میں یہ فیصلہ اپنے اللہ پر چھوڑتے ہوئے کالم ختم کرتا ہوں۔ کیوں کہ مجھ میں تو ہمت ہے کہ میں اپنوں کے لیے کچھ کر سکوں، اپنے ہم وطنوں اور اپنے ہم مذہبوں  کے دکھ بٹا سکوں اور نہ یہ ہمت کے کہ غیر مسلم کی بخشش کی دعا مانگ سکوں۔ دل چاہے بھی تو دعا ہونٹوں پر نہیں لا سکتا کہ کہیں کسی مسلمان کے کان آواز پڑ گئی تو پھر میں کہاں پناہ حاصل کر سکوں گا۔ تو پھر یہی کہہ سکتا ہوں کہ جا روتھ آپکو میں اپنے اللہ کے حوالے کرتا ہوں جو سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے جو اعمال کا اجر دینے والا ہے۔ جا جس اللہ نے آپکو پیدا کیا اور جس نے آپکے توسط سے پاکستان کو جذام کوڑھ سے نجات دلائی وہی آپکا اگلا ٹھکانا بتائے گا اس کے بھید وہی جانے۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوںکہ  میرے مذہبی راہنما کہتے ہیں  کہ میں آپکے لیے دعا نہیں کر سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *