مچھیروں کی بستی۔ ۔ ۔ پسنی

ظریف بلوچ

zareef baloch

پسنی مچھیروں کی ایک قدیم بستی ہے اور ہیاں کے باسیوں کی کل اور آج سمندر سے منسلک ہوتا آرہا ہے۔پسنی میں مچھلیوں کی عمل ترکیبی کا آغاز 19ویں صدی  میں شروع ہوا ہے۔جہاں سمندر سے شکار کے بعد مچھلیوں کوکاٹ کر صفائی کے بعد  نمک لگا کر خشک کیا جاتا تھا اور پھر مقامی طور پر پیکنگ کے بعد سری لنکا سمیت مختلف ممالک کو بھیجا جاتا ہے۔ماضی میں چونکہ علاقے میں کولڈ اسٹوریج نہیں ہوتے تھے۔اس لئے شکار کئے گئے مچھلیاں جلد خراب ہوجاتے تھے ۔جس کی وجہ مچھلیوں کو خشک کرکے محفوظ کرنا ماضی کے ماہی گیروں کے لئے سود مند رہا ہے۔جبکہ زیادہ تر بڑے کشتی والے سمندر میں شکار کے بعد اپنے کشتیوں کے اندر مچھلیوں کو نمک لگا کر خشک کرتے تھے اور اپنی کشتیوں میں اسٹور کرتے تھے۔کیونکہ یہ لوگ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک سمندر میں شکار کرکے گزارتے ہیں-
Image result for pasni fishing
مچھلیوں کو خشک کرنے کے ایک درجن کے قریب تکنیک ہے مگر ماہرین کے مطابق سالٹنگ والا تکنیک سب سے موثر اور پائیدار ہے۔
میرین بیالوجسٹ فشریز اسداللہ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ سالٹنگ سے مچھلیوں کے گلپھڑے میں موجود بیکٹریا ختم ہوجاتے ہیں اور یہ نمکین مچھلیاں کئ ہفتوں تک قابل استعمال ہوتے ہیں۔وہ مذید کہتے ہیں کہ سالٹنگ کے عمل سے پہلے مچھلیوں کو کاٹ کر انکی صفائی کیا جاتا ہے پھر مچھلیوں میں سالٹ بھرا جاتا ہے جو کہ چند روز کے اندر مچھلیوں کو پریز کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نمکین مچھلیوں کو آج بھی لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں
جب ملک میں ٹیکنالوجی کی جدت آگئ تو مچھیروں نے اپنے کشتیوں میں کولڈ اسٹوریج لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔جبکہ کشتیوں کے اندر ٹینکی بناکر شکار کے بعد مچھلیوں کو برف لگاکر محفوظ کرتے تھے ۔چھوٹی کشتی استعمال کرنے والوں میں آئس بکس کا استعمال بڑھ گیا۔۔۔۔۔
ماضی میں مچھلیوں کی عمل ترکیبی کے حوالے سے ”بکار“بناۓ گئے تھے جہاں یہ تمام پروسس مقامی کاریگر کرتے تھے۔اور انکو اپنے کام کے حساب سے معاوضہ ملتا تھا۔اور سینکڑوں کی تعداد مزدور اس کام سے منسلک تھے۔
 ماضی میں ایک بکار میں کام کرنے والے مزدور نے بتاتے ہوئے کہا آج بھی خشک اور نمکین مچھلیوں کی علاقائی سطح پر ڈیمانڈ ہے کیونکہ دور دراز کے لوگ اب بھی خشک اور نمکین مچھلیوں پر انحصار کرتے ہیں ان کے مطابق چونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خشک مچھلیوں کی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے اب ”بکار“تو بند ہوچکے ہیں مگر چھوٹے پیمانے پر اب بھی علاقائی ضروریات کے تحت مچھلیوں کو سالٹنگ کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے۔
Image result for pasni fishing
مگر ملک اور بین الاقوامی دنیا میں تازہ اور جمی ہوئی مچھلیوں کی مانگ میں اضافہ کے بعد خشک مچھلیوں کی مانگ میں کمی کو دیکھتے ہوئےمقامی سرمایہ کاروں نے کولڈ اسٹوریج لگا کر جہاں ایک طرف متعدد لوگوں کی روزگار کو تحفظ فراہم کردیا تو دوسری طرف انٹرنیشنل مارکیٹ کی ڈیمانڈ کو پورا کررہے ہیں۔
پسنی سمیت مکران کے ساحلی علاقوں میں خشک مچھلیوں کی مانگ میں کمی کی باوجو اب بھی یہ عمل جاری ہے۔پسنی۔سربندر اور گڈانی کے ساحلی علاقوں میں کھلے میدان پر مچھلیوں کی عمل ترکیبی کیا جارہا ہے۔ جبکہ مرغیوں کے خوراک بنانے کےلئے بھی مچھلیوں کو سورج کی روشنی پر رکھ کر خشک کیا جاتا ہے۔پھر انکو پیس کر مرغیوں کی خوراک کے لئے تیار کیا جاتا ہے جوکہ مرغیوں کے افزائش نسل کے لئے مفید ہے۔جبکہ اب بھی مکران کے ساحلی علاقوں میں متعدد بکار موجود ہیں جہاں مچھلیوں کو کاٹ کر سالٹنگ کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے۔
جبکہ مچھلیوں کو خراب ہونے سے بچانے کی خاطر بھی سالٹنگ کرکے  کراچی سمیت مکران کے مختلف علاقوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔اور زیادہ تر ان علاقوں کے لوگ یہ مچھلیاں بڑی تعداد میں خریدتے ہیں جہاں بجلی کا نظام نہیں ہوتا ہے کیونکہ مچھلیوں کو خشک کرنے کے بعد کئ ہفتوں تک یہ خراب نہیں ہوتے ہیں۔غفور جو کہ پسنی فش مارکیٹ میں مچھلیاں فروخت کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں چونکہ مارکیٹ کے مچھلیوں کے جلد خراب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں تو خسارے سے بچنے کے لئےہم مچھلیوں کو کاٹنے کے بعد نمک لگاکر خشک کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چونکہ خشک مچھلیوں کی قیمت بھی تازہ اور جمی ہوئی مچھلیوں سے بہت کم ہوتی ہے۔اس لئے دہیاتی علاقوں کے لوگ انکی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔
مقامی ادیب قاضی میران اس حوالے سے کہتے ہیں کہ مکران کے میدانی اور پہاڑی علاقوں کے لوگ زیادہ تر خشک مچھلیاں استعمال کرتے ہیں انکے مطابق مضافاتی علاقوں میں خشک مچھلیوں کی مانگ اب بھی برقرار ہے کیونکہ یہ مچھلیاں کئی ہفتوں تک خراب نہیں ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *