آئین اور قانون سے بالا ترپانچ افراد

asghar khan askari

گزشتہ ہفتے خیبر ایجنسی کی وادی راجگل میں جوانوں سے خطاب کر تے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوش خبر سنائی تھی کہ ایسے پاکستان کی طر ف بڑ رہے ہیں جہاں قانون سے با لاتر کوئی نہیں ہو گا۔اسی خطاب کے چند دن بعد راولپنڈی میں کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ قومی اداروں سے مل کر آئین اور قانون کی با لا دستی کو ہر صورت بر قرار رکھا جا ئے گا۔فوج کے سربراہ کی یہ دونوں اعلانات پاناماپیپرز مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد کی ہیں۔اچھی بات ہے کہ فوج آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔لیکن اس ملک میں پانچ افراد ایسے بھی ہیں جو آئین اور قانون سے با لاتر ہے۔ایک ہے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پر ویز مشرف ۔دوسرا ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین،تیسر ا تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان ،چوتھا پاکستان عوامی تحریک کے رہبر ڈاکٹر طا ہر القادری اور پانچواں ہے شہباز شریف ۔2013 ء میں عام انتخابات میں کا میابی کے بعد جب نو از شریف وزیر اعظم منتخب ہو ئے تو انھوں نے جون کے مہینے میں قومی اسمبلی میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ فوجی آمر جنرل (ر) پر ویز مشرف کے خلاف دستور کی دفعہ چھ(6 )کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ چلا نا چا ہتے ہیں۔قومی اسمبلی میں مو جود تما م اپوزیشن جما عتوں نے حکومتی مو قف کی تا ئید کی۔نوا زشریف نے پر ویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلا نے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس مقدمے کی سماعت کے لئے خصو صی عدالت تشکیل دی۔خصوصی عدالت میں جب مقدمے کی سماعت شروع ہوئی اور عدالت نے پر ویز مشرف کو طلب کر لیا تو انھوں نے پیشی سے انکار کیا۔بار بار بلا نے کے با وجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہو ئے۔آخر ایک دن اپنے گھر سے عدالت میں پیشی کے لئے نکلے لیکن ان کی گاڑی عدالتی احاطے کی بجائے ہسپتال پہنچ گئی۔وہاں معلوم ہوا کہ پر ویز مشرف کے کمر میں درد ہے۔ وہ عدالت میں سرٹیفکیٹ پہ سرٹیفکیٹ پیش کرتے رہے کہ وہ بیمار ہے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔آخر کار وہ اس کو شش میں کا میاب ہو ئے اور علاج کے بہا نے ملک سے باہر چلے گئے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا پا کستان میں آئین اور قانون کی وہ با لا دستی کب قائم ہو گی کہ جب پر ویز مشرف کو باہر سے بلا کر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔یا یہ کہ پر ویز مشرف اسی طر ح آئین اور قانون سے با لا دست ہی رہیں گے۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین وہ دوسرے فرد ہے کہ جو پا کستان کے آئین اور قانون سے با لا تر ہے۔انھوں نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا۔عدلیہ ،فوج اور صحا فیوں کو دھمکیاں دیں۔ان پر کراچی میں قتل ،اقدام قتل، جلا ؤ گھراؤاور امن عامہ کو نقصان پہنچانے کی بہت سارے مقدمات قائم ہیں۔اس کے با وجود یہ آدمی ابھی تک پا کستان کے آئین اور قانون سے با لا تر اس لئے ہے کہ ابھی تک کوئی بھی اس کے خلاف کارروائی نہیں کر سکا۔الطاف حسین تقریبا دس سال تک فوجی آمر مشرف کے ساتھ اقتدار میں دست راس رہے۔لیکن کیا اب وقت نہیں آیا ہے کہ الطاف حسین کو بھی آئین اور قانون کے سامنے سرنگوں کیا جا ئے۔کیا پاکستان اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ اگر پر ویز مشرف اور الطاف حسین پاکستان آنے اور عدالتوں کا سامنا کر نے سے انکار کر تے ہیں تو ان دونوں کے پا سپورٹ ہی منسوخ کر دیں۔اس لئے کہ جو شخص اس ملک کے عدالتوں میں پیش ہونے سے انکار کر تا ہے اس کو ہر گز یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پاکستان کا پاسپورٹ رکھیں۔کیا آئین اور قانون کی با لادستی کے لئے اتنا بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں دونوں کی سیاسی پارٹیوں پر اسی وقت تک پابندی لگا ئی جائے جب تک دونوں آکر عدالتوں میں پیش نہ ہو ں۔چلو یہ دونوں تو ملک سے با ہر ہیں۔اندرون ملک بات کر تے ہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد کی ایک عدالت گز شتہ کئی سالوں سے بلا رہی ہے۔لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔عدالت نے ان کو اشتہاری بھی قرار دیا ہے لیکن قانون حرکت میں نہیں آتا۔ عمران خان اسلام آباد ہی میں مقیم ہیں،لیکن اسلام آباد پو لیس ان کو دیکھ نہیں پارہی ہے۔وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں مقدمات سننے کے لئے مو جود ہو تے ہیں،لیکن مجال ہے کہ کوئی اس کو تحویل میں لیں۔وہ اپنے گھر کے باہر پر یس کانفرنس کرتے ہیں۔ شام کو اسلام آباد کے ہوٹلوں میں کھانے بھی کھا تا ہے لیکن اسلام آباد پولیس اس اشتہاری کو گرفتار کر نے سے قا صر ہے۔یہ الگ بات ہے کہ عمران خان قصور وار ہے کہ نہیں لیکن قانون کا تقا ضا یہ ہے کہ ان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے،پھر عدالت کا کام ہے کہ وہ ان کو بے گناہ قراردے کر آزاد کرتی ہے یا قصوروار قرار دے کر جیل میں ڈال دیتی ہے۔یہی معاملہ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طا ہر القادری کا بھی ہے۔وہ جب چا ہتے ہیں ملک سے باہر چلے جا تے ہیں۔جب من کریں ملک واپس آجا تے ہیں۔عوامی اجتماعات سے خطاب کر تا ہے۔ملک میں جہاں چا ہئے جا سکتا ہے۔لیکن پنجاب پو لیس کو یہ اشتہاری نظر نہیں آتا ۔ ان میں یہ قوت نہیں کہ آئین اور قانون سے با لادست اس آدمی کو آئین اور قانون کا تا بع بنا ئے۔ان کو گر فتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔پھر عدالت جا نے اور طاہر القادری۔ویسے عمران خان اور طا ہر القادری کی یہ اخلاقی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ دونوں قانون کا احترام کریں۔جب بھی ملک کی کوئی چھوٹی یا بڑی عدالت ان کو بلا ئے تو وہ پیش ہو ں۔تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملیں کہ یہ دونوں اپنے آپ کو ملک کی آئین اور قانون سے با لاتر سمجھتے ہیں۔اب جب دونوں اشتہاری ہے ۔عدالت میں پیش نہیں ہو تے۔تو کیا ملک کا آئین اور قانون اتنا نہیں کر سکتاکہ جب تک دونوں عدالت پیش نہیں ہو تے اسی وقت تک ان کی سیاسی سر گرمیوں پر ایک معینہ مدت تک پابندی لگا دی جائے۔پھر بھی اگر دونوں قانوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کر تے تو ان کی سیاسی جما عتوں کی رکنیت کو منسوخ کیا جا ئے۔کیا آئین اور قانون اپنی با لا دستی کے لئے اتنا نہیں کر سکتا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اسی وقت تک ملک سے باہر جا نے نہیں دیا جائے کہ جب تک وہ عدالت میں پیش نہ ہوں۔رہی پنجاب بات کے وزیر اعلی شہباز شریف کی جن پر سانحہ ما ڈل ٹا ؤں کا الزام ہے قانون کو چا ہئے کہ وہ اپنی با لا دستی کے لئے راہ نکال لیں۔اگر آئینی اور قانونی ادارے ایسا نہیں کر تی تو پھر ملک میں آئین اور قانون کی با لا دستی کے نعرے محض ایک خواب ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔آئین اور قانون کی حقیقی با لادستی اس وقت قا ئم ہو گی جب طا قتور بھی پاکستان کے آئین اور قانون کے تا بع ہو نگے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *