ناپختہ سوچ اور خوشامد کے کارنامے

ayaz amir

موٹروے سے جاتے تو رہی سہی عزت بچ جاتی۔ خوشامدیوں کے نرغے میں آکے جی ٹی روڈ یاترا کا فیصلہ کیا اور اپنے آپ کو بے نقاب کر دیا۔ مارچ کیا تھا، تمسخر بن گیا۔ اسلام آباد پنجاب ہاؤس سے نکلے اور شام ڈھلے راولپنڈی پنجاب ہاؤس میں جا پہنچے۔ اعلان تھا کہ کچہری چوک سے صبح 11 بجے تاریخی مارچ کا پھر آغاز ہو گا۔ کچہری چوک پہ دو گھنٹے انتظار ہوا، اس امیدکے ساتھ کہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر سابق وزیر اعظم اور حال قائدِ کاروانِ جمہوریت کی پذیرائی کیلئے اُبھرے گا۔ سمندر دور دور تک دکھائی نہ دیا تو اچانک کاروان اس برق رفتاری سے چلا کہ روات، مندرہ اور گوجر خان میں استقبالی ٹولے منہ تکتے رہ گئے اور جناب قائد کی گاڑی نے سوہاوہ میں بریک لگائی‘ پھر دینہ‘ اس کے بعد جہلم اور رات دریائے جہلم کے کنارے ٹیولپ ہوٹل میں قیام ہوا۔
یاد رہے کہ مہران بینک کے روح رواں جناب یونس حبیب کی طرف سے آئی ایس آئی کی وساطت سے 1990ء کے الیکشن میں جو رقوم تقسیم ہوئیں ان میں مبینہ طور پہ جنابِ نواز شریف کی خدمت میں بھی 33 لاکھ روپے پیش کئے گئے۔ اب کی بار جب نواز شریف صاحب تیسری بار مسندِ اقتدار پہ بیٹھے تو جناب یونس حبیب کو یاد آیا کہ پیسے ادا تو ہوئے تھے‘ لیکن نواز شریف کو نہیں بلکہ ٹیولپ ہوٹل کے مالک جناب شریف کو۔ قطری خط بھی کچھ ایسی ہی سادگی کے مظہر تھے۔
مشہور زمانہ یونانی ڈرامہ نویس یوریپیڈیز (Euripides) نے لافانی الفاظ کہے تھے کہ جب دیوتا (gods) کسی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پاگل کر دیتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ ان کی مت مار دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ معزولی کے بعد ایک سے ایک بڑی حماقت سرزد ہو رہی ہے۔ عدلیہ کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اشارے کنایوں میں فوج کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن نہ عدلیہ پہ کچھ اثر پڑ رہا ہے نہ افواج پر۔ فقط ن لیگ کی کمزوریاں اور نواز شریف کی ناقص سوچ اور حکمت عملی‘ ظاہر ہو رہی ہیں۔ تنظیم نام کی چیز پارٹی میں ہے نہیں۔ عالم یہ ہے کہ پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے کمیٹی چوک راولپنڈی تک بھی مارچ صحیح طور پہ منظم نہ ہو سکا۔ لیکن چاہت یہ ہے کہ ان کے اشارے پہ عوام اٹھ کھڑے ہوں اور ہر چیز سے ٹکرا جائیں۔ جنابِ قائد ائیر کنڈیشنڈ گاڑی اور کنٹینر میں تشریف فرما رہیں اور باہر آنے سے پرہیز کریں‘ لیکن تمنا ہے کہ عوام ان کا بدلہ لیں اور سب کچھ ہلا کے رکھ دیں۔
تین بار وزیر اعظم رہ چکے،1981ء سے اقتدار کے کھیل کا حصہ ہیں، لیکن اب انقلاب یاد آ رہا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ مجھے اقتدار کی ہوس نہیں‘ میں تو آپ کے لئے قوم کی تقدیر بدلنا چاہتا ہوں۔ ایسی باتیں کرنے سے بڑے سے بڑا آدمی بھی شرما جائے۔ نواز شریف ہیں جو سیدھے منہ سے اور کمال ہمت سے یہ باتیں کہے جا رہے ہیں۔ غالباً انہیں عوام کی بیوقوفی پر مکمل یقین ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ بھی ان سے کہا جائے اس پہ ایمان لے آئیں گے۔ وہ سمجھ نہیں رہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، ایک عمر مقرر ہوتی ہے۔ ان کے اقتدار کا سورج ڈھل چکا۔ ن لیگ گو اقتدار میں ہے لیکن اس کی کشتی ہچکولے لے رہی ہے۔ مرکز میں خاقان عباسی کٹھ پتلی وزیر اعظم ہیں۔ گورننس نام کی کوئی چیز اسلام آباد میں دکھائی نہیں دے رہی۔ پنجاب میں بھی خادم اعلیٰ کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ نیب میں مقدمات تیار ہو رہے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن کیس کبھی بھی اپنا سر اٹھا سکتا ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ‘ جس میں جناب اسحاق ڈار نے تفصیل سے منی لانڈرنگ کی داستانیں بیان کیں اور ان کی تاریخ اپنے ہاتھ سے رقم کی‘ کبھی بھی پھر سے اٹھ سکتا ہے۔ نواز شریف صاحب کو یہ باتیں سمجھ نہیں آ رہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ کھوکھلی تقریروں سے اور عدلیہ پہ حملوں سے وہ حالات کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ خدا جانے ان کے دل میں یہ زعم کیسے پیدا ہوا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لے کے اسے نیچا دکھا سکتے ہیں۔ سرکاری پروٹوکول، وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے وسائل کا بے دریغ استعمال کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ جاتی امرا محل کی سکیورٹی کیلئے اب بھی 1100-1200 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ 70 کروڑ کی سرکاری لاگت سے اپنی ذاتی رہائش گاہ کے گرد بم پروف دیوار لگوائی ہے۔ اور وِرد کر رہے ہیں انقلاب اور ٹکراؤ کا۔
اگر واقعی جی ٹی روڈ پہ عوام کا میلہ لگتا تو اب تک ن لیگ کے حمایتی ٹی وی چینلوں نے گوگل سے تصویریں نکال کے اور ڈرون کیمروں سے منظر کشی کرکے قوم کو ہلکان کر دیا ہوتا۔ لیکن پوری قوم اب جان گئی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ نثار علی خان کے بقول 99 فیصد سینئر ن لیگی لیڈران مارچ میں شامل نہیں۔ ظاہر ہے اس لئے نہیں شامل کہ اس ساری حکمت عملی سے وہ متفق نہیں۔ بنیادی فیصلہ غلط ہو تو لاکھ جتن کرکے بھی نتائج درست نہیں ہو سکتے۔
بیگم تہمینہ درانی کا تجزیہ سب سے جامع ہے۔ اپنے ٹویٹس میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اپنے مخلص بھائی شہباز شریف کو امتحان میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ نیز یہ کہ انہیں اپنے تمام نااہل مشیروں کو فارغ کر دینا چاہیے جن کی بدولت ان کو یہ دن دیکھنے پڑے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی حکومت کو حق نہیں پہنچتا کہ تین روز تک ملک کی سب سے مصروف شاہراہ ایک تماشے کیلئے بند رکھے۔ جن لوگوں کا کاروبار متاثر ہوا اور جنہیں نقصان اٹھانا پڑا، ان کا ازالہ کون کر ے گا؟
نواز شریف کی چیخ و پکار، اب ان کی دھاڑیں چیخ و پکار ہی لگتی ہیں، سے کوئی متاثر نہیں ہو رہا ، زمین کانپ نہیں رہی۔ نتیجہ الٹا نکل رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ان کی کمزوری اور بڑھتی ہوئی تنہائی عیاں ہو رہی ہے۔ چند روز قبل تک تو یہ سوچا بھی نہ جا سکتا تھا کہ پارٹی قائدین ان کی سوچ سے دور ہوتے جائیں گے۔ جی ٹی روڈ مارچ کے تناظر میں اب ایسا نظر آ رہا ہے۔ پنجابی کا وہ کیا لفظ ہے، بُھلیکھا۔ جب تک رہے تو اچھا ہوتا ہے۔ کمزوری پر بھی پردہ پڑا رہے تو عزت قائم رہتی ہے۔ جی ٹی روڈ مارچ نے بُھلیکھا ختم کر دیا۔ اب تو حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ عدلیہ کے خلاف دھاڑنے کا اثر بھی زائل ہو گیا۔ اب کسی کو ایسی باتوں کا نوٹس لینے کی ضرورت نہیں۔ جتنی مزید چیخ و پکار ہو گی اتنی ہی عجیب لگے گی۔
1977ء میں تب کی فوجی کمان کو ذوالفقار علی بھٹو سے ڈر تھا‘ اسی لئے ان سے نمٹنے کیلئے قتل کا مقدمہ کھڑا کیا گیا۔ اس وقت نواز شریف سے کسی کو ڈر نہیں۔ کچھ تھا بھی تو ان کی اپنی اس کارروائی نے زائل کر دیا۔ یہ ان کی خاص مہربانی ہے اور ان کے خوشامدی مشیروں کا خاص کارنامہ جو یاد رکھا جائے گا۔ پی ٹی آئی پہ بھی ایک خاص مہربانی ہوئی ہے۔ عائشہ گلالئی کا قصہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
ن لیگ کو سبق مل چکا لیکن بہت سی آزمائشیں باقی ہیں۔ جو انہونی ہم دیکھ رہے ہیں‘ اور جو پاناما پیپرز کے سامنے آنے سے شروع ہوئی‘ ابھی جاری ہے۔ بہت کچھ مکمل ہونا باقی ہے۔ صحیح طور پہ حساب کتاب تو شروع ہی نہیں ہوا۔ جب ہو گا‘ نیب کی کارروائی شروع ہو گی اور منی لانڈرنگ کے بارے میں پھر سے سوال اٹھیں گے تو پھر نواز شریف کہہ سکیں گے کہ ان پہ کرپشن کا الزام ہے یا نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *