آپ شیر کو نہیں دفنا سکتے

ایف ایس اعجاز الدین

FS ejaz ul din

پاکستان کی منتخب حکومتوں کو بھارتی فوج سے زیادہ اپنی فوج سے ڈر لگتا ہے اور اس کی واضح وجوہات ہیں۔ 60 سال تک سیاستدانوں کو سویلین بالادستی کی ہر جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیا انہیں کبھی جیت بھی نصیب ہو گی؟ پاکستان دو لخت ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کو اپنی حدود میں رکھنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگوں کو لگا کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ نتیجہ کیا نکلا ؟ ان کا مخالف فوجی ڈکٹیٹر ملک کا چوتھا صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گیا ۔ 1977 میں بھٹو پر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگا کر انہیں یاد دلایا گیا کہ جہاں سیاسی جماعتوں کو الیکٹوریٹ سے محبت ہے تو فوج کو ملک سے محبت ہے۔

سیاسی جماعتیں ووٹ لینے فوری پہنچ جاتی ہیں ۔ وہ باری باری حکومت میں بھی آتی ہیں۔ لیکن پاکستانی فوج جو علاقے کی بہترین افواج میں سے ہے، بھی ملکی مفاد پر کڑی نظر رکھتی ہے اور جعلی جمہوریت پر وار کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتی۔ سویلین اور فوج کے بیچ ایک ہی چیز مشترک ہے وہ ہے نفرت۔ سویلین حکومتیں عوام سے نفرت دکھاتی ہیں۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ عوام سے نفرت کرنے والوں سے نفرت کرتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ منتخب حکومتوں کو غیر ضروری حمل سمجھا جاتا ہے جنہیں وقت ضرور اسقاط حمل کے عمل سے گزارا جا سکتا ہے۔ سب سے تازہ ترین اسقاط حمل نواز شریف کو وزارت عظمی سے محروم کرنے کا واقعہ ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ایسی کتابیں بھی لکھی جائیں گی جن میں نواز شریف کی اقتدار سےعلیحدہ کیے جانے کی کہانی شامل کی جائے گی۔ افسوس کا اظہار کیا جائے گا جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد کیا گیا تھا۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ آرمی اپنے آپ کو ایک محدود ایریا میں طاقت ور بنانے کی حامی ہے۔ سویلین حضرات کو آرمی کی طرف سے دی گئی سہولیات جیسے مکان، سکولنگ، میڈیکل سہولیات، زمین الاٹ کیے جانے ، پنشن اور بہترین ریٹائرمنٹ پیکج جیسی چیزیں بہت بہاتی ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے سویلین اپنے آپ کو کم تر انسان سمجھنے لگتے ہیں۔

ہمارے قانون کے محافظ بہت کمزوری دکھا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ایک سابق چیف جسٹس کو 1993 میں نواز شریف کی حکومت کی بحالی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب سے بڑا بادشاہ ہے۔ اب انہیں چیف جسٹس صاحب کے جانشینوں نے نواز شریف کا موازنہ ایک ناول کے بُرے کردار کے ساتھ کر کے اپنی کمزور سوچ کا مظاہرہ کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا سوال ہے کہ ایک میجسٹریٹ کورٹ کی تحقیق، کاروائی اور سزا کی ذمہ داریاں سپریم کورٹ نے اپنے ہاتھ میں کیوں لے رکھی ہیں؟ سپریم کورٹ میں میڈیا کی موجودگی اور کاروائی کو براہ راست نشر کرنے سے سپریم کورٹ کی وقعت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

عوام کو سیاستدانوں سے بہت کم توقعات ہیں۔ سیاسی مباحث اس قدر اہمیت کھو چکے ہیں کہ نت نئے انکشافات عوام کے لیے حیرانی کا باعث نہیں بنتے۔ عائشہ گلالئی کو جس طرح بد کردار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ا سکے مقابلے میں 1975 میں نصرت بھٹو کی ڈانس کرتے ہوئے تصاویر کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ مس عائشہ گلالئی نے ان پر بدتہذیب پیغامات بھیجنے کا الزام لگایا تھا۔ صرف ٹیکنالوجی ہی ان الزامات کی تصدیق یا جھوٹا ہونا ثابت کر سکتی ہے۔

پی ٹی آئی نے جوابی حملہ عائشہ احد کو سامنے لا کر کیا جنہوں نے حمزہ شہباز شریف کو اپنا خاوند قرار دیا ہے اور اپنے حقوق نہ دئیے جانے کے الزامات حکومتی پارٹی پر لگائے ہیں۔ دونوں سے معذرت کے ساتھ مجھے ایک نظم یا د آ رہی ہے جو امریکی صدر جان کینیڈی کی پسندیدہ ہے جس میں ایک لمبی جسامت کے جانور کی حالت بیان کرتے ہوئے شاعر لکھتا ہے: جب اس کی آنکھیں افسوس کی وجہ سے آنسووں سے بھری ہوتی ہیں تو اس کی دم ابھی سابقہ خوشی کی وجہ سے لہرا رہی ہوتی ہے۔ ان دو عائشہ کے بیچ کیا سیتا وائٹ کا معاملہ کچھ دور سمجھا جا سکتا ہے؟

ایک بار عمران خان نے فخر سے اعلان کیا تھا کہ انہیں پرویز مشرف نے وزارت عظمی کی آفر کی تھی۔ ایسا لگتا ہے عمران خان ایک بار پھر اسی آفر کی توقع رکھتے ہیں۔ لیکن اس وقت زخمی شیر نواز شریف موجود ہیں۔ 175 سال قبل ستمبر 1843 میں سکھ مہاراجہ شیر سنگھ کو ان کے مخالفین نے لاہور کے باہر شاہ بلاول کے مقام پر قتل کر دیا تھا۔ اس واقع کو ایک فارسی شعر میں یوں بیان کیا گیا ہے: با شوق سگن شکر ِ شیراں کردند (اپنے مقاصد کے لیے کتوں نے شیر کا شکار کر لیا)

نہ دفنائے جانے والے نواز شریف اب انتقام لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو 1977 میں اور نواز شریف کو 2017 میں جب وزارت عظمی سے ہٹا یا گیا تو دونوں رہنماوں نے پہلے مری جا نے کا فیصلہ کیا اور پھر وہاں سے ایک تاریخی سفر میں لاہور کا قصد کیا۔ کیا نواز شریف کو لاہور پہنچنے سے قبل بھٹو کی طرح گرفتار کر لیا جائے گا؟ یا پھر ان کی جدو جہد بھٹو کی تحریک کی ناکامی کے بر عکس کامیابی سے سر خرو ہو گی۔


بشکریہ ڈان

Courtesy:https://www.dawn.com/news/1350643/an-unburied-lion

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *