خدیجہ نے اپنے حملہ آور کو کیسے جیل پہنچایا ؟

(خدیجہ صدیقی قانون کی طالبہ ہیں جنہیں ایک سال قبل ان کے سابقہ دوست نے خنجر سے حملہ کر کے اس وقت شدید زخمی کیا جب وہ ڈیوس روڈ پر اپنے ڈرائیور کے ساتھ اپنی بہن کو سکول سے لینے گئیں تھیں۔ ایک سال کی عدالتی کاروائی کے بعد خدیجہ کو بالآخر انصاف ملا اور مجرم کو 7 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ )


خدیجہ صدیقی

khadeeja

کورٹ پروسیڈنگ کو ٹرائل کہا جاتا ہے اور یہ سچ میں بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ یہ صرف قانون کی نہیں بلکہ مظلوم کی روح ، اس کے صبر ، عزت اور کردار کےلیے آزمائش ہوتی ہے۔ 13 اور 14 جولائی کو ڈیفنس کونسل نے مجھ سے سوالات پوچھے۔ عدالت میں اتنے مردوں کے سامنے 6 گھنٹے کےلیے مجھے بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ وکیل صفائی نے میرے آس پاس اپنے خریدے ہوئے افراد جمع کر دیے جو مجھ پر ہنستے اور میرا مذاق اڑانے کے کام پر معمور تھے ۔ مجھے ایسے ایسے مشکل حالات سے گزارا گیا کہ میں ہر لمحہ سوچتی کہ کب یہاں سے جان چھوٹے یا میں خود یہاں سے فوری طور پر بھاگ نکلوں۔

میں پاکستانی لڑکیوں اور خواتین کی خاطر لڑنے کےلیے پر عزم تھی جو خاموشی سے ظلم سہتی رہی ہیں اور بے درد مردوں کے سامنے اپنی آواز دبائے رکھنے پر مجبور ہیں۔ لیکن ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ آغاز میں تو صرف میں اپنے آپ کو تحفظ فراہم کے لیے لڑی تا کہ مجھ پر ظلم کرنے والے کو سزا دلوا سکوں جس نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ٹرائل شروع ہونے کے بعد میری سوچ میں تبدیلی آنے لگی۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ صرف میرا معاملہ نہیں ہے بلکہ ا س سے کہیں بڑا ہے۔ یہ ہر اس پاکستانی خاتون کا کیس ہے جس کو ہر روز تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسے انصاف نہیں ملتا اور وہ ہر وقت خوف کی حالت میں زندگی گزارتی ہے۔

اس لیے میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ یہ شخص اس بڑے حملے کے بعد آزادانہ نہیں گھومے گا۔ اسے اس کے جرم کی سزا ملے گی۔مجھے حیرانگی تھی کہ کیا میرے مخالف وکیل کو اخلاقیات سے بھی کوئی لینا دینا ہے یا نہیں۔ کیا اس نے مجھے بدنام کرنے کی کوشش اس لیے شروع کی کہ اس کیس میں مردوں کی فوقیت کے اثر کو چیلنج کیا جا رہا تھا؟ اس کی یہ کوششیں میری کامیابی کے سامنے ہلکی رکاوٹیں ثابت ہوئیں۔ اس نے ایک مجرم کو بچانے کےلیے اخلاقیات کو نظر انداز کر دیا۔ جب میں جج کے سامنے کھڑی اس کے گھٹیا سوالات اور الزامات کا سامنا کر رہی تھی تو مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ پر ذاتی حملے اس لیے کر رہا تھا کہ اس کے پاس سچائی پر مبنی کوئی دلیل موجود نہیں تھی۔

وکیل صفائی نے مجھے ایک بد کردار خاتون ثابت کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ میرے بہت سے غیر قانونی تعلقات ہیں۔ میں اس معاملے میں بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔ انہوں نے میری ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ اس طرح کے سوالات پوچھے: کیا یہ سچ ہے کہ آپ لاہور کے پوش علاقے میں رہتی ہیں؟ کیا یہ سچ ہے کہ آپ ایک ماڈرن لڑکی ہیں؟ کیا وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ پوش علاقے میں رہنے والی لڑکی قتل کیے جانے کی حقدار ہے اور اپنے اوپر حملہ کرنے والے کے خلاف انصاف کا حق نہیں رکھتی؟ لڑکیوں کو میرا پیغام ہے کہ وہ اپنے مرد دوستوں ، کزن، ایکٹرز، ماڈلز کے ساتھ تصاویر کھنچوانے سے خبر دار رہیں کہ کہیں یہ تصاویر انہیں بد کردار ثابت کرنے کےلیے استعمال نہ کر لی جائیں۔ میں نہیں چاہتی کہ مجھے ایک مظلوم سمجھا جائے۔ میں چاہتی ہوں کہ میں ایک مضبوط خاتون کی حیثیت سے پہچانی جاوں جس نے ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنی زندگی کی مشکلات کا سامنا کیا اور آگے بڑھتی رہی۔ میں صرف اپنے چیلینجز تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ اپنے معاشرے کی دوسری خواتین کی بھی مدد کرنا چاہتی ہوں جو اس طرح کے حالات کا سامنا کر رہی ہیں۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ میرے سوالوں کے جواب مزید واضح ہوتے گئے۔ میں اب اپنی ایک خاتون کی حیثیت سے موجودگی کے مقصد کو دیکھ سکتی ہوں۔ میں ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنے فرائض سے آگاہ ہوں۔ میرا فرض ہے کہ میں ظلم کا شکار عوام کو آواز اٹھانے پر آمادہ کروں جو ایک عرصہ سے دبی ہوئی ہے۔ میں نے اپنا بھروسہ قائم رکھا اور ایک عزم کے ساتھ سٹیٹس کو کے سامنے کھڑی ہوئی۔ میں کامیاب ہوئی اور میری آواز سنی گئی۔ 14 ماہ کی مسلسل انتھک جدو جہد کے بعد حملہ آور کے خلاف سزا کا فیصلہ 29 جولائی کو سنایا گیا۔ اس تاریخی فیصلے تک کا سفر بہت مشکل تھا لیکن یہ بہت لازمی تھا کیونکہ جس شخص نے ایک معصوم جسم پر 23 خنجر کے وار کیے اسے کسی صورت یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ سکو ن کی نیند سو سکے۔ اس کا باپ جو لوگوں کو جیل سے چھڑانے کےلیے عدالت جاتا ہے اس کا اپنا بیٹا اب جیل میں ہے۔ اس طرح میں نے دوسرا موقع ایک تبدیلی لانے کےلیے استعمال کیا اور ابھی اس نئے سفر کا آغاز ہوا ہے اور مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے۔


courtesy:https://www.dawn.com/news/1350338/khadija-was-stabbed-23-times-in-lahore-heres-how-she-put-her-attacker-behind-bars

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *