اب سنگ مداوا ہے اس ”شگفتہ سری“ کا

nasir malik final

حسِ مزاح ایک بڑی نعمت اور خدائی انعام ہے ۔زندگی میں اس کے بے شمار فائدے ہیں ۔ یہ  بےیقینی ہمارے مسائل ختم تو نہیں کر سکتی لیکن انہیں ہمارے لیے قابلِ برداشت ضرور بنا دیتی ہے اور روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے خلاف تو یہ ایک بڑا موثر ہتھیار ہے۔معروف امریکی مقرر ہنری بیچر کہا کرتے تھے کہ کسی شخص کے پاس حس ِ مزاح کا نہ ہونا ایسے ہی جیسے کسی ویگن میں سپرنگ موجود نہ ہوں لہذا ایک معمولی سا پتھر بھی اس کے لیے جھٹکے کا باعث بنے گا۔گاندھی نے کہا تھاکہ مجھے حسِ مزاح کی ’سہولت ‘ میسّر نہ ہوتی تو میں اب تک خود کشی کر چکا ہوتا۔اور ایک دانشور نے تو یہاں تک کہا کہ کہ مجھے اگر زندگی میں صرف ایک خوبی کے انتخاب کا موقع ملے تو میں حسِ مزاح کا انتخاب کروں گا۔ان لکھاری اور ادیب حضرات کو نسبتاًزیادہ دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے جنہیں حسِ ظرافت ودیعت کی گئی ہے۔ اسی لیے آرٹ بکوالڈ سے لے کر عطاءالحق قاسمی صاحب تک ایسے لکھاری اور کالم نگار دنیا میں ہر جگہ مقبول رہے ہیں۔یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ پطرس ، شفیق الرحمان اور ےوسفی جیسے شگفتہ نگاروں کو ہمارے ہاں شاعروں کی طرح Quote کیا جاتا ہے ۔۔غالب، جنہیں حالی نے حیوانِ ظریف کہا، کی شاعری کے کمالات میں بھی ظرافت کا پہلو کافی نمایاں ہے۔ مکاتیب غالب میں تو ظرافت کی لہر مسلسل موجود رہتی ہے ۔غالب کی اسی خصوصیت کا حامل کوئی شعر پڑھ لیجئے پھر تمام دن آپ اس پر سر دُھنتے رہیں گے۔مثلاً ان کا یہ شعر دیکھئے :
تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم

        میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
سو ! شگفتگی اور حسِ ظرافت کا موجود ہونا اور تحریر و گفتگو میں اس کے مناسب اور بر محل استعمال کا سلیقہ بڑے کمال کی چیز ہے جو کسی بھی انسان کو دوسروں سے منفرد، ممتاز اور معتبر کرتی ہے۔ لیکن اس کا زیادہ فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے ارد گرد ، آس پاس کے لوگوں کو بھی یہ نعمت ملی ہو ورنہ یہ ضائع ہو جاتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی جیسے فلاش کھیلنے والے بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس بہت اچھے پتے آ جائیں تو ان کا زیادہ فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب ساتھ والوں کے پاس بھی بہتر پتے ہوں ورنہ آپ کے بہت اچھے پتوں کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہو پاتا۔حاجی شرف دین میرے پڑوسی ہیں ۔

Related image

حاجی صاحب کو حس مزاح چھو کر بھی نہیں گزری بلکہ اصل میں تو ان کی حسِ دولت کے علاوہ تمام حسیات مفلوج ہیں۔محلے میں ان کی میرے سوا کسی کے ساتھ دوستی نہیں ( اور دشمنی کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے ) ۔ محلے کے پارک میں ہم روزانہ ملتے ہیں ۔ میرے اور ان کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں بلکہ کئی عادات تو بالکل اُلٹ ہیں۔ مثلاً انہیں کبوتر پالنے کا شوق ہے اور مجھے کھانے کا۔مجھے بچے پسند ہیں خاص طور پر کھیلتے کودتے بھاگتے بچے اور دوسری طرف حاجی صاحب بچوں کے معاملے میں جلادی رویے کے حامل ہیں اور جہاں ان کا بس چلے اپنے اس رویے کا عملی مظاہرہ ضرور کرتے ہیں۔ حاجی صاحب کے ساتھ ملاقات اور طویل بات چیت میرا روز کا معمول ہے ۔ اُن کے ساتھ گفتگو ایک عذاب سے کم نہیں۔دوران گفتگو وہ میرے کسی نقطے پر اتفاق تو دور کی بات ہے ا ختلاف بھی نہیں کرتے ۔بے مقصد لایعنی گفتگو جس کا کوئی سر پیر نہیں ۔ سوال گندم جواب چنا !! مثلاً میں نے اگر کرکٹ پے بات شروع کی ہے تو جواب میں انہوں نے سوتر منڈی کے مسائل پر بحث چھیڑ دی ہے۔ میں حالات حاضرہ پر روشنی ڈالوں تو انہیں اپنے گھٹنے کی کوئی پرانی چوٹ یاد آ جاتی ہے۔ یہحسرت ہی رہی کہ کبھی اُن کے ساتھ مربوط اور منظم گفتگو ہو سکے ۔ لیکن اس کے باوجود حاجی صاحب سے ملاقات اوربات چیت روز ہوتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسے سنگین طبعی اختلافات ہیں تو حاجی صاحب سے معذرت کر کے محلے میں یہ وقت گزاری کسی اور کے ساتھ بھی تو کی جا سکتی ہے۔اس کا جواب ہے کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ متذکرہ امور میں محلے میں سب سے بہتر ” چوائس “ قبلہ حاجی صاحب ہی ہیں ۔اس پر آپ دیگر اہلِ محلہ کا اندازہ لگائیے اور پھر ہماری زبردست سلیکشن پر داد دیجئے۔آپ پچاس کے پیٹے میں ہیں ۔میٹرک پاس ہیں اور اب پچھلے کئی سال سے ایف اے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اتنے عرصے میں ایف اے پاس نہ ہونے کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ  ہے کہ آپ میرے شاگردہیں ۔یہمجھ سے انگلش پڑھنے آتے ہیں۔اور مجھے خوب یاد ہے کہ ان کو پڑھانے سے پہلے مجھے اچھی خاصی انگلش آتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔     تو میں عرض کررہا تھا کہ حاجی صاحب کے ساتھ گفتگو ا ک مصیبت ہے خاص طور پر کسی مزاحیہ بات پر اُن کا رسپانس تو ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔یعنی اس سے بڑھ کر لغو بات کیا ہو گی کہ بندے کو بتانا بھی  پڑے کہ بھئی! لطیفہ ختم ہو چکا ہے لہذا اب ہنس بھی لو۔لیکن حاجی صاحب یہ بتانے پر بھی نہیں ہنستے ۔ اور یہ بات بھی نہیں کہ انہیں ہنسی نہیں آتی ۔۔ موصوف خوب قہقہے لگاتے ہیں اور اکثر ایسی بات پر جس پر اُصولی طور پر روناآتا ہے۔لیکن حرام ہے کہ میرے کسی طنز ، کسی مزاحیہ جُملے یا لطیفے پر ہنسی کا شائبہ تک بھی ان کے چہرے پر نظر آئے۔اس باب میں ایک دن مجھ سے ایک سنگین غلطی ہوئی جس نے بعد میں میری آنکھیں کھول دیں۔ہوا یوں کہ کسی دوست نے مجھے ایک لطیفہ وٹس ایپ کے ذریعے بھیجا ۔ لطیفہ یہ تھا کہ انگلش کے ایک استاد نے اپنے شاگرد سے پوچھا ،” وہ ناچ رہا ہے ، وہ ناچ رہی ہے ، تم ناچ رہے ہو ، ہم سب ناچ رہے ہیں۔ بتاﺅ انگلش گرائمر کی رُو سے یہ کونسا Tense ہے۔؟“ شاگرد نے کہا ، ” سر ! یہ Kanjar Continuous Tense لگ رہا ہے ۔“ اب شومی قسمت کہ محظوظ ہونے کے بعد میں نے یہلطیفہ قبلہ حاجی صاحب کو فارورڈ کر دیا۔حاجی صاحب کہ مجھ سے ایک عرصے سے انگلش پڑھ رہے تھے لطیفہ پڑھ کر فوراً میرے گھر تشریف لائے ، مجھے باہر بلایا اور کہنے، ” جناب ! عام طور پر شاگردوں کی غلطی پکڑی جاتی ہے آج میں نے آپ کی یعنی اپنے استاد کی غلطی پکڑ لی ہے“۔ عرض کیا ، ” وہ کیسے ؟ “۔ کہنے لگے ہے جو آپ نے مجھے تحریر وٹس اپ کی ہے جناب ےہ ” کنجار کونٹی نوس ٹینس “ نہیں بلکہ یہ Present Continuous Tense ہے۔لہذا اگرچہ مناسب تو نہیں لیکن میں نے سوچا کہ آج استاد صاحب کو ان کی غلطی بتائی جائے ۔ پلیز اسے ٹھیک کر لیجئے “ ۔ میں نے فوری طور پر غلطی کا اعتراف کیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسی کوئی ” تحریر “ انہیں نہیں بھیجی جائے گی ۔اُن کے جانے کے بعد میں نے اپنا سر پکڑ لیا اور میری کیفیت ، غالب سے معذرت کے ساتھ، اس شعر جیسی تھی :
شگفتگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش

        صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *