حادثے اور سیاسی انتقام

usman-ghazi
دسمبر 2015 میں کراچی کے سول اسپتال میں بلاول بھٹو جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ٹراما سینٹر کا افتتاح کرنے آئے، پروٹوکول کی وجہ سے ایک دس ماہ کی بچی بسمہ جاں بحق ہوگئی
اکتوبر 2016 میں راولپنڈی کے کمیٹی چوک پر آنسوگیس کی شیلنگ ہوئی، دم گھٹنے سے چار دن کا نومولود جاں بحق ہوگیا، بچے کے والدین نے شیخ رشید اور عمران خان کو ذمہ دار قرار دیا، شیخ رشید نے معافی مانگ لی مگر عمران خان نے معافی نہیں مانگی اور الٹا پنجاب حکومت کو ذمہ دار ٹہرادیا
اگست کی گیارہ تاریخ کو ایسا ہی ایک واقعہ لالہ موسٰی میں بھنبھرنالے کے قریب پیش آیا جب ایک بارہ سال کا بچہ میاں نوازشریف کے پروٹوکول کی ایک گاڑی کے نیچے آکر جاں بحق ہوگیا
ان تینوں واقعات میں مرنے والے بچے تھے اور ہلاکت کا ذمہ دار ملک کی بڑی سیاسی قیادت کو بتایا گیا مگر یہ سانحات کا ایک پہلو ہے
بسمہ کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو کے کردار کی دھجیاں اڑادی گئیں، بعد میں جب سیاسی انتقام کے جذبات کم ہوئے تو معاملہ یہ کھلا کہ بچی کی ہلاکت کی وجہ پروٹوکول نہیں تھا بلکہ جب بیمار بچی کو باپ اسپتال لے کر آیا تو پولیس نے رکاوٹیں ختم کرکے اسے جانے دیا، جس تھانے دار نے ایسا کیا، اس کو شاباشی بھی دی گئی
راولپنڈی میں جاں بحق ہونے والی بچے کی میڈیکل رپورٹ آئی تو عقدہ یہ کھلا کہ ہلاکت کی وجہ آنسو گیس نہیں تھی بلکہ بچے کی سانس کی نالی میں پہلے سے رکاوٹ تھی اور والدین وقت پر اسپتال نہیں لائے تھے جبکہ ڈاکٹروں نے ہدایات بھی کی تھیں
یہ دونوں وضاحتی خبریں آپ نے کبھی نہیں سنی ہوں گی کیونکہ سوشل میڈیا پر سیاسی انتقام لیا جاچکا تھا۔۔ بلاول بھٹو اور عمران خان کے کردار کی دھجیاں اڑائی جاچکی تھیں
اور اب باری ہے میاں نوازشریف کی جن کے کردار کی دھجیاں سوشل میڈیا پر بارہ سالہ رحمت کی ہلاکت پر اڑائی جارہی ہیں مگر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا میاں نوازشریف کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا ہے؟
حادثے کا کوئی وقت اور مقام نہیں ہوتا، حادثہ کبھی بھی اور کہیں بھی کسی بھی وجہ کے تحت ہوسکتا ہے اور حادثے کی ذمہ داری سیاسی قیادت پر ڈالنا محض سیاسی انتقامی کارروائی ہے
دس ماہ کی بسمہ، بارہ سال کے رحمت اور چار دن کا وہ بچہ جس کا ابھی نام نہیں رکھا گیا تھا، ان کی لاشوں کی بنیاد پر سیاسی انتقام لینا ان بچوں سے ہمدردی نہیں ہے بلکہ یہ لاشوں پر سیاست ہے، ان لاشوں کے ذریعے سیاسی کردار مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے، کوئی نہیں چاہتا کہ بچے اس طرح مریں کہ سب کو بچے عزیز ہوتے ہیں، لاشوں پر اپنے اپنے حریفوں کو نشانہ بنانے والے لوگ معاشرے کا بدترین طبقہ ہیں
ہاں قافلے کے نہ رکنے کی بے حسی کے معاملے پر تنقید کی جاسکتی ہے اور اگر اس تنقید کو کرنے والوں نے عمران خان کے نومولود کی ہلاکت پہ معافی نہ مانگنے پر بھی تنقید کی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کم ازکم منافق نہیں-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *