پاپی چولو

abrar nadeem

دنیا بھر میں پاکستان اور بھارت کا شمار ایسے ممالک میں ھوتا ھے جہاں لوگ پیری مریدی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں ۔پیروں سے ان کی عقیدت کا یہ عالم ھے کہ پیر کے حکم پر یہ مریدین اپنی جان دے بھی دے سکتےہیں اور کسی کی جان لے بھی سکتے ہیں۔ظلم کی حد یہ ھے کہ بعض اوقات یہ اپنی سادہ دلی،معصومیت اور بھولپنے میں پیر صاحب کی محبت اور عقیدت میں اتنا آگے نکل جاتے جہاں کبھی کبھار پیر صاحب کو بھی لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک سادہ دل مرید نے اپنے پیر کے لئے گھر پر ایک محفل کا اہتمام کیا اور اپنے دوست کو اُس میں شرکت کی دعوت دی۔مقررہ دن اُس کا دوست بھی آکر باقی لوگوں کے ساتھ محفل میں بیٹھ گیا۔اُس کے ذہن میں تھا کہ پیر صاحب بڑی شان و شوکت اور لاؤ لشکرکے ساتھ محفل میں آئیں گے۔اس کے برعکس پیر صاحب ایک سادہ سے شخص تھے وہ کسی ہجوم کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح آئے اور چُپ چاپ اس کےدوست کے پاس بیٹھ گئےلیکن مرید کا دوست پیر صاحب کی حیثیت سے بے خبر اپنے تئیں پیر صاحب کا انتظار کرتا رہا۔کافی دیر گزر گئی تو اُس نے اپنے دوست سے پوچھا
"یار اور کتنی دیر بعد آئیں گے تمہارے پیر صاحب"
مرید یہ سُن کر ہنس پڑا اوراُس نے اپنے پیر کی طرف اشارہ کر کے اونچی آواز میں کہا" ایہہ پیر نئیں تے سور بیٹھا ہویائے"مطلب یہ اگر پیر نہیں تو کیا سؤر بیٹھا ہے۔
یہ قصہ مجھے یوں یاد آیا کہ خیر سے ہمارے مد ظلہِ اعلیٰ حضرت ڈاکٹر طاہر طاہر القادر ی پھر سے "قلیل المدت ذاتی مقاصداتی"دورے پر پاکستان تشریف لا چُکے ہیں۔اب اگر آپ بھی "حضرت"طاہر القادری کے مریدین میں سے ہیں تو یقیناً آپ پوچھیں گے کہ اس لطیفے کا مولانا سے کیا تعلق ھے تو اس کے جواب میں ایک اور چھوٹا سا لطیفہ سُن لیں۔ایک شخص کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔وہاں سے اُس کے ایک واقفکار شخص کا گزر ھوا جس کی بہن کچھ عرصہ پہلے کسی کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی۔واقف کار نے دور سے اُسے سلام کیا اور پوچھا"اور سناؤ کیا حال ھے"اس شخص نے سلام کا جواب دیتے ہوئےاپنے بیلوں کو روکا اور کہا"حال تو سب ٹھیک ھے پر تمہاری بہن نے گھر سے بھاگ کے اچھا نہیں کیا"
راہگیر سٹپٹا کر بولا "میں نے تمہیں سلام کیا اور تمہارا حال احوال دریافت کیا ھے۔یہاں گھر سے بھاگنے والی میری بہن کا ذکر کیسے آگیا" ہل چلانے والے شخص نے دوبارہ بیلوں کو ہانکتے ہوئے کہا" یار غصہ نہ کریں اینویں گلاں وچوں گل نکل آئی اے" یعنی یار غصہ نہ کرنا ایسے ہی باتوں سے بات نکل آئی ھے۔
اب باتوں سے بات نکل ہی آئی ھے تو میرے خیال میں آپ کو یہ راز بتانے میں کوئی حرج نہیں ھے کہ میرا ایک انتہائی قریبی دوست بٹ بہادر ھے جو کٹر قسم کا متوالہ یعنی نون لیگی ھے ۔

اب بات یہاں تک ھوتی تو پھر کوئی حرج نہیں تھا ۔اصل مسئلہ یہ ھے کہ یہ پکا لاہوریا اور میاں نواز شریف کا عاشق ھے ۔سونے پہ سہاگا یہ کہ اوپر سے کوئی سوا چھ فٹ قد اور چوڑے ڈیل ڈول کے ساتھ نا صرف ذات کا بلکہ چال چلن کا بھی نجیب الطرفین بٹ ھے۔اس کے سامنے میں اپنے پانچ فٹ دس انچ قد کے ساتھ خود کو ایک بونا محسوس کرتا ھوں۔اب اس وضاحت کے بعد میرے خیال میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں اپنے اس بٹ دوست سے کسی بھی مسئلے پر بحث نہیں کرتا۔حالانکہ بے شمار معاملات میں مجھے ناصر ف اس کے موقف سے بلکہ اس کے جارحانہ ردعمل سے بھی اختلاف ھے مگر میں اپنی عافیت اسی میں سمجھتا ھوں کہ اپنے اس اختلاف کو اپنے دل تک ہی محدود رکھتا ہوں۔خاص طور پر میاں نواز شریف سے اپنی محبت کے معاملے پر یہ کوئی کمپرو مائز کرنے کے لئے تیار نہیں۔میاں صاحب کے دشمنوں کو یہ اپنا دشمن سمجھتا ھے اور اُن کے مخالفین پر "حملہ "کرنے کا کوئی موقع بھی خالی نہیں جانے دیتا۔ طاہر القادری کو دنیا کا ایک نمبر کا جھوٹا،مکار،لالچی اور احسان فراموش سمجھتا ھے اور ڈاکٹر صاحب پر اپنےان سب الزامات کے جواب میں اس کی واحد دلیل یہ ھے کہ ڈاکٹر صاحب چونکہ میاں نواز شریف کے مخالف ہیں اور اُن پر تنقید کرتے ہیں۔اس لئے وہ دنیا کے سب سے برے انسان ہیں۔برے انسانوں کی اُس کی اس فہرست میں عمران خان اور شیخ رشید کے نام بھی شامل ہیں لیکن بقول اس کےان کے نام ڈاکٹر طاہر القادری کے بعد آتے ہیں۔اب یہ بات پتا نہیں یہاں کرنے والی ھے یا نہیں لیکن حقیقت یہ ھے کہ اس نے اپنی اس فہرست میں ابو جہل اور حسن نثار کے نام بھی لکھ رکھے ہیں ۔البتہ ان دونوں کو بھی ڈاکٹر صاحب کے بعد رکھا ھے۔ ہمارے ہاں عقل و دانش اور سمجھداری کے حوالے سے عام طور پر بٹوں اور جٹوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھا جاتا ھےلیکن پتا نہیں میاں صاحب کی محبت کا جادو ھے یا ڈاکٹر طاہر القادری کی شخصیت کا اعجاز کہ جہاں ڈاکٹر صاحب کا ذکر آتا ھے بٹ بہادر کے منہ سے اُن کی شان میں "پھلجڑیاں" جَڑنے لگتی ہیں اور وہ عجیب و غریب اور حیران کن قسم کی گفتگو کرنے لگتا ھے۔اب کی بار ڈاکٹر صاحب دوبارہ پاکستان آئے ہیں تو ٹی وی پر میاں نواز شریف کے خلاف اُن کا بیان دیکھ کر مجھے کہنے لگا"تمہیں پتا ھے طاہر القادری نے شریف برادران پر قاتلانہ حملہ کروانے کا الزام لگایا تھا"میں نے کہا "ہاں میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب تفتیشی اداروں نے حملے کے نتیجے میں کمرے کی دیواروں اور فرش پر لگے خون کا معائنہ کیا تو وہ بکرے کا خون نکلا تھا"
کہنے لگا"بالکل ٹھیک قادری نے شریف برادران کو جھوٹے کیس میں پھنسانے کے لئے خود پر اس قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچایا تھا مگر بکرے کے خون کی وجہ سے یہ ڈرامہ فلاپ ھوگیا"
میں نے کہا"یہ بات اب پرانی ھو گئی ھے لہذا اس پر مٹی ڈالو"
کہنے لگا"یہ بات ضرور پرانی ھے مگر میری ایک بات لکھ لوطاہر القادری دوبارہ میاں برادران کی طرف سے خود پر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچائے گا اور اس بار وہ اسے ثابت کرنے میں کامیاب بھی رھے گا"
میں نے حیرانی سے پوچھا"بٹ بہادر جی وہ کیسے؟"
میرے یار بٹ بہادر نے راز دارنہ انداز میں ادھر اُدھر دیکھا اورمجھے کہنے لگا"اس لئے کہ شیخ رشید اور عمران خان نے طاہر القادری کو یہ مشورہ دیا ھے کہ "قادری صاحب!اس بار اپنے ڈرامے کو کامیاب کرنا ھے تو تفتیشی اداروں کو دھوکہ دینے کے لئے بکرے کی جگہ کسی کُتے کا خون استعمال کریں"
مجھے ڈر ھے کہ ایسا ھو گیا تو تفتیشی اداروں کے لئے اصل حقیقت تک پہنچنامشکل ھو جائے گا"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *