تقسیم ہند کی کہانیاں

Image result for poor pakistani with his family

خواجہ محمد زکریا اردو لٹریچر کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ 70 برس سے زائد عمر کے پروفیسر خواجہ محمد زکریا ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت ہجرت کی تھی۔زکریا اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے والد بہت عجلت میں گھر پہنچے اور گھر والوں کے بتایا کہ انہیں ہندو اکثریتی آبادی سے نکل کر ایک دوست کے گھر جانا ہو گا جن کا گھر مسلم اکثریتی علاقے میں تھا۔ ان کے والد کی ہدایت تھی کہ صرف رقم اور زیوارت ساتھ لیے جائیں اور باقی سب کچھ چھوڑ دیا جائے۔

زکریا تقسیم ہند کے وقت پیش آنے والے خوفناک تشدد کے واقعات کے بارے میں اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’جس دن ہم وہاں سے نکلے۔۔۔ اسی دن اس علاقے پر حملہ ہو گیا۔ بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہو گئے مگر ہم محض دو گھنٹے قبل وہاں سے نکل گئے تھے۔‘‘بعد ازاں ان کا خاندان لاہور آنے والی مہاجرین کی ایک ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پروفیسر ذکریا اپنے ماضی کے واقعات دراصل ’1947 پارٹیشن آرکائیو‘ کے ایک رضاکار کو بتا رہے تھے۔

Image result for khawaja zikria

یہ منصوبہ دراصل اُن لوگوں کی کہانیوں کو جمع کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے جنہوں نے تقسیم ہند کے وقت ہجرت کی یا انہیں اُس وقت پیش آنے والے واقعات کا پتہ ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ہونے والی ہجرت کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت قرار دیا جاتا ہے۔گُنیتا سنگھ بھلہ کے مطابق، ’’ہماری آبادیوں میں اس طرح کے لوگوں کی تعداد بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں ایسے لوگ جو اب موجود ہیں وہ شاید نہیں رہیں گے۔‘‘ برکلے سے تعلق رکھنے والی بھلہ اس آرکائیو یا کہانیاں جمع کرنے کے منصوبے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور یہ منصوبہ دراصل انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔تقسیم ہند کے وقت ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خونیں فسادات ہوئے۔ ایسے ہندو جو کئی نسلوں سے ان علاقوں میں رہ رہے تھے جو پاکستان کا حصہ بن گئے انہیں راتوں رات اپنے گھر بار چھوڑ کر بھارت بننے والے حصے میں جانا پڑا جبکہ کئی ملین کی تعداد میں مسلمانوں کو سرحد پار کر کے پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔

برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے والے برصغیر کو پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کیے جانے کے بعد دونوں اطراف میں مذہبی بنیادوں پر فسادات اتنے بڑے پیمانے پر شروع ہو گئے تھے کہ جن پر قابو پانا شاید پولیس اور فوج کے بھی بس کی بات نہیں تھی۔ ان حالات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ ان کا اندازہ چند ہزار سے لے کر 20 لاکھ تک بتایا جاتا ہے۔ جبکہ کم وبیش ایک کروڑ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔گنیتا سنگھ بھلا نے ایسے لوگوں کی کہانیاں جمع کرنے کا آغاز امریکا میں رہنے والے افراد سے شروع کیا۔ جس کے بعد انہوں نے ایک نان پرافٹ آرگنائزیشن 2011ء میں قائم کی جس کا مقصد تقسیم ہند کے وقت کے لوگوں کا پتہ لگانا اور ان کی کہانیاں جمع کرنا تھا۔ بھلہ نے دسمبر 2012ء میں اپنی جاب کو خیر باد کہہ دیا اور اب وہ اپنا سارا وقت اس منصوبے کو دیتی ہیں۔

اب تک ’1947 پارٹیشن آرکائیو‘ کے تحت 2000 کہانیاں جمع کی جا چکی ہیں جبکہ ان کا ہدف ہے کہ 2017ء تک ایسے 10 ہزار افراد کی کہانیوں کو ریکارڈ کر لیا جائے۔بھلہ کے مطابق ان کا منصوبہ ہے کہ کوئی ایسی جگہ بنائی جائے جہاں لوگ آئیں اور یہ کہانیاں سن سکیں اور تقسیم ہند کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *