مردانہ تسلط کے حمایتی لوگ

محمد حنیف

Muhammad Hanif

پاکستان میں سیاسی ٹالک شو کا حصہ بننے کےلیے ایک عجیب مقبول ہوتا ہوا فارمولا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان اور با اعتماد خاتون پانچ چھ اوسط عمر کے مردوں کو جمع کرتی ہے اور انہیں مختلف قسم کے سوالات پوچھتی ہے۔ وہ ان بڑے اور سینئر اشخا ص کے الفاظ کاٹ کر کمرشل بریک پر جاتی ہے ، کسی بھی نئے مہمان کو بلا لیتی ہے اور اس کا کردار بس ان لوگوں سے رائے پوچھنے تک محدود ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی رائے اس لیے اہم ہوتی ہے کہ وہ مرد ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں تو پھر آپ کے چمکدار بال ہونے چاہیے، اور آپ عقلمند مردوں سے سوال پوچھ سکتی ہیں۔ ان مردوں میں سے کوئی بھی کبھی نہیں کہتا کہ آپ بتاو آپ کی کیا رائے ہے، مجھے تو اس چیز کا کوئی علم نہیں ہے۔

یہ شو معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ایک ضعیف العمر مرد ہوتے ہوئے بھی میں نے کبھی ایک خاتون کو نہیں دیکھا کہ وہ بیٹھ کر بات سنتی رہے۔ ایک وقت تھا جب میں خواتین کی کلاس میں پڑھانے جاتا تھا اور داخل ہوتے وقت میرا دل کانپ رہا ہوتا تھا۔ ان کے تجسس اور بحث کی قابلیت کے سامنے میں بہت کمزور پڑجاتا تھا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ میں ان ٹی وی پنڈتوں سے مختلف نہیں ہوں۔ میں بھی پاکستان کے نئے پڑھے لکھے سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے مردانہ معاشرے کا حصہ ہوں۔ ہم خواتین کی عزت کرتے ہیں لیکن اس کے انہیں ہمارے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔

Image result for ayesha gulalai

یہ مردانہ فوقیت پچھلے کافی عرصہ سے پوری آب و تاب کے ساتھ چل رہی ہے۔ تین پاکستانی خواتین ہیڈلائن میں جگہ پانے میں کامیاب رہی ہیں اور مردوں کے معاشرے نے ان سے یہی پوچھا ہے کہ انہیں مسئلہ کیا ہے اور اگر انہوں نے اپنا راستہ تبدیل نہ کیا تو انہیں کیسے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ عائشہ گلالئی وزیر کو دھمکی دی گئی کہ وہ اگر باز نہ آئیں تو ان پر تیزاب پھینکا جائے گا ، ان کا گھر جلا دیا جائے گا ۔ یہ تب ہوا جب انہوں نے پارلیمنٹ ممبر بننے کے بعد عمران خان پر جنسی ہراساں کرنے کے الزامات لگائے۔

انہیں بے شرم کہا گیا اور ایک پیشہ ور اور بکنے والی خاتون قرار دیا گیا۔ وہ ایک سیاستدان ہیں اور ثبوت پیش کرنے کےلیے بھی تیار ہیں لیکن پھر بھی انہیں سیاسی چالیں چلنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ۔ عاصمہ جہانگیر جو انسانی حقوق کی علمبردار ہیں کو قومی ادارے کی بے حرمتی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے سپریم کورٹ کے بارے میں کہا کہ اس ادارے نے کبھی کسی جرنیل کا احتساب نہیں کیا۔ انہیں گورنمنٹ کے کیسز لڑنے اوربھاری فیسیں لینے کے الزامات کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

خدیجہ صدیقی جو ایک قانون کی طالبہ تھیں انہیں رول ماڈل قرار دیا گیا ۔ انہیں پچھلے سال ایک ساتھی نے جان لیوا حملے میں تئیس زخم لگائے تھے۔

Related image

انہوں نے حملہ آور کو عدالت میں لے جانے کی ہمت کی جس پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں جو ان کے خاندانی افراد اور دوستوں نے دیں ۔ حملہ آور کو عدالت نے 7 سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ عوام نے خدیجہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے زخم ان کے چہرے پر موجود تھے جو ہر شخص دیکھ سکتا تھا۔نیا مردانہ معاشرہ خواتین کی عزت کرنے پر مصر ہے لیکن اس کے کچھ مطالبات ہیں۔ پہلے خاتون کو گولی کھانا پڑتی ہے، ایسڈ پھینکوانا پڑتا ہے، ریپ کا شکار ہونا پڑتا ہے، اور پھر ہم خواتین کے ساتھ کھڑے ہونے کےلیے تیار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی خاتون کسی سیاسی جماعت کے مرد ارکان، آرمی افسر یا غنڈے کےسامنے ہاتھ نہ ڈالے اور آواز اٹھانے کی ہمت کرے تو اسے یہ معاشرہ پرانے معاشرے کی طرح ایک ہی پیغام دے گا کہ اس نے غلطی کر لی ہے۔ مس وزیر خود ہی مشکل میں پڑنا چاہتی تھیں اس لیے انہوں نے سیاست میں شمولیت اختیار کی ، عمران خان کی پارٹی میں شامل ہوئیں، نیشنل اسمبلی کی رکن بنی، اور پھر پارٹی میں ہراساں کیے جانے کے الزامات کے ساتھ پارٹی سے علیحدگی اختیار کی۔ کیا ان کو شرم نہیں آئی؟ ان کی بہن کے بارے میں کیا کہیں جو شارٹس پہن کر سکوائش کھیلتی ہیں؟ مس وزیر کی تو کوئی عزت ہی نہیں ہے۔

پھر عاصمہ جہانگیر بھی ہیں۔ جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سخت مخالف رہی ہیں اور ہمیشہ سچائی کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔ جہاں پاکستان کے بہت سے با اثر مرد بھی ملٹری ڈکٹیٹروں کے بوٹ چاٹنے پر آمادہ ہو گئے وہاں عاصمہ جہانگیر ان ڈکیٹٹروں کےلیے ہمیشہ کڑوا گھونٹ ثابت ہوئی ہیں۔

Related image

اس طرح کے کردار کو آپ کیا اہمیت دیں گے؟ ان کی تصاویر کو فوٹو شاپ کے ذریعے کسی بھی حلیے میں بدل کر انہیں غدار قرار دے دیا جاتا ہے ۔ نئے مردانہ معاشرے نے جنڈر سٹڈی میں بھی حصہ لیا ہے۔ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ اندھیرے میں کسی عورت کو پیچھے سے دبوچنا غلط ہے۔ یہ معاشرہ بچوں کو سکول چھوڑنے اور کھانے بنانے پر تیار ہے۔ یہ مردانہ تسلط سے آزاد ہونے کا دعوے دار ہے۔ یہ خواتین کو صرف پرائم ٹائم میں ٹی وی پر تباہ کرنے کا حامی ہے۔ یہ جاننا چاہتا ہے کہ خواتین باعزت مردوں پر الزام کیوں لگاتی ہیں، ان کے پاس ثبوت کیا ہے؟

مس صدیقی کے ثبوت ان کے چہرے پر موجود ہیں لیکن ان کا راستہ اختیار کرنا ناممکن جیسا ہے۔ پہلی چیز یہ کہ وہ خوش قسمتی سے 23 زخم کھانے کے بعد بچ گئیں اور پھر ان کے پاس اس قدر حوصلہ تھا کہ وہ ملزم کے خلاف آواز اٹھائے اور اپنے کردار پر داغ لگنے کا رسک اٹھا ئے۔ آج ان کو ٹی وی پر رول ماڈل قرار دیا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں ایک ایسا معاشرہ خواتین کو صرف ماں، بہن ، بیٹی سے اوپر کچھ نہیں سمجھا جاتا اس میں ایسی رول ماڈل کو کون اپنائے گا؟ خواتین اس سے دور رہنے کی خواہش نہیں رکھیں گی؟اس سال کے آغاز میں میں نے ایک لڑکی کو پولیس میں اپنی بہن کے قتل کے خلاف شکایت درج کروانے میں مدد کی ۔ لڑکی کا قتل اس کے خاوند نے کیا تھا۔ زندگی میں پہلی بار میں نے ایک پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھی۔ اس میں 11 زخموں کا ذکر تھا۔

Image result for malala yousafzai

جب میں نے جسم کو دیکھا تو صرف گردن سے اوپر کے حصے پر 17 زخم دیکھے۔ پولیس افسران کا کہنا تھا کہ لڑکی کی موت زہر کھانے سے ہوئی ہے کیونکہ رپورٹ کے مطابق وہ 17 زخم جان لینے کےلیے کافی نہیں تھے۔ صنفی فرق کو اہمیت دینے والامرد ساتھی جو ایک لڑکی کی مدد کرنے والا تھا نے اس لڑکی سے پوچھا کہ وہ چاہتی کیا ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ کوئی بھی مرد ایک عورت کی مدد کسی خاص وجہ کے بغیر نہیں کر سکتا ۔

پاکستان کی سب سے بڑی اور مشہور فائٹر اور مظلوم ملالہ یوسف زئی ہیں۔ جب پاکستانی مرد انہیں دنیا بھر کے بڑے فورم پر خطاب کرتے ہوئے اور ریاست کے سربراہ سے ملتے دیکھتے ہیں تو ان کے پیٹ میں مروڑ پڑتے ہیں کیونکہ وہ اس چیز کو اپنے لیے بے عزتی خیال کرتے ہیں۔ کچھ دوسرے لوگ عزت افزائی سمجھتے ہوئے جھومنے لگتے ہیں لیکن اپنے سر ہلا دیتے ہیں یہ سوچ کر کے اس لڑکی کو مغربی طاقتیں استعمال کر رہی ہیں اور اپنے سیاسی فوائد حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان کے نئے محب وطن لوگ ایک لڑکی کے سر پر گولی مارنے کے حامی نہیں ہیں لیکن جب وہ بچ جاتی ہے پھر وہ فیصلے کرتے ہیں کہ اس لڑکی کو کیا حیثیت دینی ہے۔


courtesy:https://www.nytimes.com/2017/08/10/opinion/pakistans-new-patriarchs.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *