’’اعتذار احسن‘‘

riayat ullah farooqi
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ریلی چھوٹی ہے یا بڑی اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔ کیوں نہ پہلے اس سوال کا جائزہ لے لیا جائے کہ کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی تھا کہ جب نواز شریف کو اقتدار سے نکالا جائے گا تو اس ملک کے سیاسی منظر نامے پر تاریخ میں پہلی بار یہ نظارہ دیکھا جائے گا کہ برطرف وزیراعظم کے حق میں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے ؟کیا تھی کوئی ایسی نظیر ہماری سیاسی تاریخ میں ؟ جو کہتے تھے کہ چاہے آسماں ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے ہم تو یوں یوں اور ووں ووں کردیں گے اب سکتے کی کیفیت میں ہوں گے کیونکہ اندازہ ان کا بھی یہی تھا کہ سیاستدانوں کے لئے اس ملک میں آسماں نہیں ٹوٹا کرتا۔ جن کے لئے آسماں ٹوٹا کرتا ہے انہیں کبھی ٹچ کیا گیا ؟ تجربے کی کی تقلید کی گئی اور تجربہ بار بار کا یہ تھا کہ جب کسی وزیر اعظم کو اقتدار بدر کیا جاتا تو سڑکوں پر صرف مٹھائیاں بانٹنے والے نکلتے۔ وزیر اعظم تو عارضی گوشہ گمنامی میں چلا جاتا۔ نیا الیکشن ہوتا تو جیت اپوزیشن کی ہوتی۔ اندازے کی یہی غلطی سب کو لے ڈوبی ہے۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ یہ ستر، اسی، اور نوے کی دہائی والا وہ پاکستان نہیں جب ٹی وی اور ریڈیو صرف سرکاری ہوتے اور اخبارات کو کنٹرول میں رکھنا دنیا کا آسان ترین کام ہوا کرتا تھا۔ جو اصل خبریں ہوا کرتیں ان سے تو قوم مہینوں یا سالوں بعد تب آگاہ ہوتی جب کوئی بیوروکریٹ ریٹائر ہو کر کتاب لکھتا اور اپنے مشاہدات سامنے لاتا۔ بروقت خبر سے اشرافیہ تو آگاہ رہتی لیکن قوم اس سے لاعلم رہتی۔
6
آج کا پاکستان ایک مختلف پاکستان ہے۔ پورا دن درجن بھر نیوز چینلز میں بریکنگ نیوز کا مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اِدھر واقعہ ہوتا ہے اور اُدھر وہ نیوز چینلز پر ہوتا ہے۔ خود حکومتی اداروں کو ابتدائی خبر نیوز چینلز سے ہی مل رہی ہوتی ہے۔ سینسر کی کسی کے پاس مہلت ہی نہیں ہوتی۔ پھر ایک زبردست چیز سوشل میڈیا ہے، جہاں عوام کی خبر خود عوام کی انگلیوں پر ہوتی ہے۔ مانا کہ وہاں بہت کچھ خلاف واقعہ بھی ہوتا ہے لیکن یہ خلاف واقعہ باتیں قرار بھی تو نہیں پکڑ پاتیں۔ ادھر کسی نے گپ چھوڑی اور ادھر دس لوگ اسے غلط ثابت کرکے وہیں اس گپ کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ بے شمار اہل علم دن بھر علم کی تقریبا تمام اصناف پر مضامین لکھ رہے ہوتے ہیں۔ بہت نفیس قسم کا ادب بھی اب دھیرے دھیرے اسی سوشل میڈیا سے پروان چڑھ رہا ہے۔ عمدہ قسم کے تجزیات اور ان پر طرح طرح کے تنقیدی خیالات سامنے آ رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب قوم کے شعور کے لئے ایک زبردست مقوی غذا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر الیکٹرونک اور سوشل میڈیا نے ایک مختلف پاکستان تخلیق کرنا شروع کردیا ہے۔ وہ پاکستان جس میں قوم کے اجتماعی شعور کو اب اندھیرے میں رکھنا یا اسے دھوکہ دینا ممکن نہیں رہا۔
نواز شریف کو رخصت کرنے والوں سے کیلکولیشن میں دو اہم ترین پہلو نظر انداز ہوئے۔ ایک یہ کہ پاکستان کے سوشل میڈیا نے 2014ء کے بعد سے بہت غیر معمولی ترقی کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹیں لکھنے کی روایت اسی سال سے عام ہوئی، اب ہر شخص اپنے خیالات کو تحریری شکل دیتا ہے خواہ گلابی اردو میں ہی کیوں نہ ہو۔ اسی روایت کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر اردو کی چار پانچ بڑی اہم ویب سائٹس صرف پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں سامنے آگئی ہیں۔ اس کی وجہ سے اب سوشل میڈیا محض ٹائم پاس ٹول نہیں رہا بلکہ وہاں بہت سنجیدہ سرگرمیاں ہو رہی ہیں، جن میں سب سے زیادہ حاوی سیاسی سرگرمیاں ہیں۔ پاکستان کی ایلیٹ کلاس تو صرف ٹویٹر پر ٹویٹ کا فیشن انجوائے کرتی ہے جبکہ عوام کا پلیٹ فارم فیس بک ہے جہاں بہت کھل کر اور بہت تفصیل سے تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ فیس بک کو ایلیٹ کلاس تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے سو ان کی اکثریت تو وہاں تشریف لانا ہی اپنی توہین سمجھتی ہے۔ نواز شریف اقتدار سے رخصت ہو کر مری پہنچے تو چند درجن افراد نے ان کا استقبال کیا جس کے ویڈیو کلپ فیس بک پر آئے تو لوگ چونک گئے۔
2
اسی حیرت نے تبادلہ خیال کی شکل اختیار کرلی جو اگلے تین چار روز میں اس حد تک پہنچ گیا کہ جب نواز شریف مری سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے تو بہارہ کہو پر انہیں پہلا سنجیدہ استقبال ملا۔ کہنے کو صرف سینکڑوں لوگ تھے لیکن عوام کا موڈ بتانے کے لئے کافی تھے۔ کیلکولیشن میں جو دوسری چیز نظر انداز ہوئی وہ یہ تھی کہ اس بار ایک ایسا وزیراعظم رخصت کیا جا رہا تھا جس کے کریڈٹ پر بہت کچھ تھا۔ جب اس نے اقتدار سنبھالا تھا تو ملک میں سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی جو جولائی 2017ء میں تین سے چار گھنٹے کی ہوچکی تھی اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال نومبر کے بعد یہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ لوڈ شیڈنگ کے بعد دوسری اہم کامیابی ملک کے امن و امان کے کی صورتحال کے حوالے سے ہے، کراچی سکون سے ہے، بلوچ شدت پسند ہتھیار ڈال رہے ہیں اور ملک بھر میں ہونے والے خودکش حملے اب تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میٹرو، موٹروے اور سی پیک کی کامیابیاں اس کے علاوہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ سب کچھ زیر بحث رہتا ہے لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ نواز حکومت ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ ڈیلیور کرنے والی حکومت ہے۔ اگر ایک وزیر اعظم سے عوام کو اپنے مسائل کا حل ملا ہو تو پھر آپ اس پر کتنے ہی الزامات کیوں نہ دھر دیں عوام کی ہمدردیاں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ سوشل میڈیا پر آج بھی نواز شریف کے مخالف صرف وہی لوگ ہیں جو 2013ء کے الیکشن سے قبل بھی نوز مخالف تھے۔ ہم نے پچھلے چار سال کے دوران سوشل میڈیا پر نواز شریف کے کسی پرانے حامی کو تو مخالف ہوتے نہیں دیکھا البتہ عمران خان کے درجنوں حامیوں کو ان کا مخالف ہوتے ضرور دیکھا ہے جن میں بعض اہم سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بھی شامل ہیں۔ نواز شریف کی کار کردگی اور سوشل میڈیا کے تحرک نے ہی بہارہ کہو استقبال کی غیر ارادی بنیاد رکھی اور اسی استقبال سے مسلم لیگ نون سنجیدگی کے ساتھ جی ٹی روڈ سے کارواں کی صورت لاہور جانے کے منصوبے کی جانب متوجہ ہوئی۔ اور جب اس کا اعلان ہوا تو پھر اسے ممکن بنانے میں سوشل میڈیا نے ہی کلیدی کردار ادا کیا۔
نہایت قابل غور بات یہ ہے کہ مین سٹریم میڈیا عوام نہیں بلکہ ایلیٹ کلاس کی نمائندگی اختیار کر چکا ہے۔ یہ ایلیٹ کلاس میں اپنے اپنے حلقوں اور مفادات کی نگہبانی کے لئے حقائق کو مسخ کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ اس کے برخلاف سوشل میڈیا خالص عوامی پلیٹ فارم ہے جہاں ملک کے گلی کوچوں سے کروڑوں لوگ موجود ہیں۔ مین سٹریم میڈیا میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ عوام کی باہم مربوط اتنی بڑی تعداد کو بیوقوف بنا سکے۔ گزشتہ تین چار سالوں میں مین سٹریم میڈیا کے کسی ادارے نے جب بھی ایسی کوشش کی بری طرح ناکام ہوا۔ ایک چینل نے آئی ایس آئی کے خلاف پیالی میں طوفان اٹھانا چاہا، اسے منہ کی کھانی پڑی۔ کئی چینلز نے مل کر ایک چینل کے پروگرام میں سٹیج گرنے کے حادثے کو چھپانے کی کوشش کی، چار دن سے زیادہ نہ چھپا سکے اور نتیجہ چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشن کی صورت نکلا۔ ایسی ان گنت مثالیں ہیں اور ان تمام کی تمام ناکامیوں میں اصل کردار سوشل میڈیا کا رہا ہے۔ مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے ارباب اختیار کو اپنے طرز عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا ورنہ یہ صورتحال ہم صحافیوں کے لئے آگے چل کر ایسی شکل اختیار کر جائے گی کہ بطور صحافی خود کو متعارف کرانا دشوار ہو جائے گا۔ خبر جیسی ہے ویسی ہی سامنے آنی چاہئے۔ تجزیئے میں آپ جو چاہیں کردیں لیکن خبر کے ساتھ واردات کسی صورت نہیں ہونی چاہئے۔ مختلف چینلز کی جانب سے نواز شریف کی ریلی کو کمتر ثابت کرنے کی کوششیں صرف چوبیس گھنٹے ہی چل سکیں۔ جہلم کے استقبال نے حقیقت کو سوشل میڈیا کی مدد سے یوں عیاں کیا کہ اس کی کمتری کے دعویدار خود ہی چپ ہوتے چلے گئے ۔ رات کے تین بجے جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو نواز شریف کا قافلہ جہلم میں رات گزار رہا ہے جو صبح گوجرانوالہ کا رخ کرے گا۔ لاہور ابھی دور ہے اور اعتزاز احسن کا اپنے پچھلے موقف پر ’’اعتذار احسن‘‘ سامنے آگیا ہے۔ نواز شریف کے خلاف سب سے سخت بولنے والے اعتزاز احسن جہلم کے استقبال کے بعد موقف بدلتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور نظر آئے ’’میرے خیال میں نواز شریف کی تاحیات نا اہلی نہیں ہونی چاہئے‘‘ نواز شریف کا شو اگر اسی طرح ناکامیاں سمیٹتا رہا تو لاہور کا "ناکام شو" تو بہت کچھ بدل دے گا اور سیاسی گلیاروں میں دھول اڑاتے بہت سوں کو اعتذار احسن کرنا پڑ جائے گا !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *