70 سال کا سوال

Mujeeb ul rehman shami

اگست کا مہینہ تحریک آزادی کی یاد دِلاتا، اور پاکستانی قوم کو ایک بار پھر ماضی کے دھندلکوں میں لے جاتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے زیر قیادت جنوبی ایشیا کے نہتے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ وطن حاصل کیا۔ یہ معجزہ ووٹ کی طاقت سے ممکن ہوا۔ اس کے لیے (باقاعدہ) گولی چلائی گئی نہ کھائی گئی۔ فسادات ہوئے، تصادم دیکھنے میں آئے، خون بہا، لوگ مارے گئے، لاشیں اُٹھائی گئیں، جیلیں بھری گئیں لیکن حصولِ پاکستان کی تحریک مسلح دستوںکی تحریک نہیں تھی۔ ایک سیاسی جماعت کے سانچے میں ڈھل کر ایک سیاست دان کی قیادت میں انتخابی کامیابی حاصل کرکے ایک نئی مملکت کی تشکیل ممکن ہوئی۔ برصغیر کی ہندو اکثریت کی نمائندہ جماعت کانگرس، مسلمان کہلانے والی (دوسری) بڑی قوم کی نمائندہ مسلم لیگ، اور رخصت ہونے والی غیر ملکی طاقت... برطانیہ... کے اختیار یافتہ نمائندوں نے مل کر طے کیا کہ دو الگ الگ اور آزاد مملکتوں کے قیام کے بغیر اس خطے میں امن کا حصول ممکن نہیں ہو گا۔ 14 اگست1947ء کا سورج اس طرح طلوع ہوا کہ نئی دہلی اور کراچی طاقت کے دو الگ الگ مراکز کے طور پر وجود میں آ چکے تھے۔ نئی دہلی میں تو دارالحکومت کے سارے لوازمات موجود تھے۔ وزیر اعظم، کابینہ، پارلیمنٹ، سیکرٹریٹ، عمارتیں اور قواعد و ضوابط، لیکن کراچی میں کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ صوبہ سندھ کا صدر مقام ضرور تھا لیکن نئی مملکت کے دارالحکومت کے طور پر یہاں ہر شے کو ازسر نو قائم کیا جانا تھا... یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا جو نئی مملکت کو درپیش تھا، اسے قبول کیا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے نظام کھڑا ہو گیا... پاکستان کا سکّہ ڈھلنے اور چلنے لگا۔
پاکستان کے بانیان (Founding Fathers) نے پہلی مجلس دستور ساز میں منظور کردہ قراردادِ مقاصد کے ذریعے واضح کر دیا کہ نئی مملکت میں حکمرانی اللہ کی ہو گی، جسے عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے رو بہ عمل لایا جائے گا، لیکن بہت جلد اس اصول کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ اس مملکت کے سول اور فوجی افسروں نے وہ اودھم مچایا کہ الحفیظ الامان...اس وقت کی عدلیہ بھی ان کی آلہ ٔ کار بن گئی، اور پاکستان کے عوام کی اجتماعی ذہانت پر انفرادی تحکم کو فوقیت دیتی چلی گئی... پاکستانی قوم کے نمائندوں نے بصد مشکل جو آئین 1956ء میں بنایا تھا، اس کے تحت اولین انتخابات کے انعقاد سے پہلے ہی اسے منسوخ کر دیا گیا۔ پاکستانی قوم سے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرنے کا حق چھین لیا گیا۔ اقتدار سنبھالنے والے فوجی حکمران جنرل (بعد میں فیلڈ مارشل) ایوب خان نے اعلان کیا کہ مَیں مُلک کو نیا آئین دوں گا۔ 1962ء میں انہوں نے ایک نیا آئین مسلط کر دیا۔ پاکستان کے تمام صوبوں کے منتخب نمائندوں نے باہمی مشاورت کے ذریعے جو دستور مرتب کیا تھا، اس کے تحت پارلیمانی نظام رائج کیا گیا تھا، اور ہر بالغ شخص کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ ایوب خان کے دستور نے پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام نافذ کیا، اور پاکستانیوں سے ووٹ کا حق بھی چھین لیا۔ انتخابات بالواسطہ ہونا تھے، پہلے لوگ بنیادی جمہوریتوں کے ارکان کو منتخب کریں، بعد میں یہ ارکان صدر اور اسمبلیوں کے ارکان کو منتخب کریں گے۔ قومی اتفاق رائے کو پارہ پارہ کرکے مُلک میں ''سیاسی خانہ جنگی‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی۔ وہ سب کچھ خاک میں ملا دیا گیا، جو قوم نے 9 سالہ عرق ریزی کے بعد حاصل کیا تھا... اہل الرائے کو یہ صورتِ حال قبول نہیں تھی، وہ ایک وردی پوش کو اجتماعی ذہانت کا قلع قمع کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھے۔
ایک ایسی کشمکش کا آغاز ہو گیا، جس نے قومی ذہانت و دانش کو الجھاوے میں ڈال دیا۔ ہمسایہ ملک بھارت میں آزادی کے کچھ ہی عرصہ بعد آئین بنا ڈالا گیا تھا، اور اس کے تابع تمام معاملات چلائے جا رہے تھے۔ فوج اپنے کردار پر مطمئن تھی تو سول ادارے اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں تھے۔ ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوئی خواہش وہاں پالی نہیں جا رہی تھی۔ فوج کو معلوم تھا کہ وہ عوام کی حفاظت کے لئے ہے، ان پر حکومت کے لئے نہیں اور منتخب نمائندوں کو بھی اطمینان تھا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے مسائل سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ اپنی خامیوں کا ادراک کر سکتے اور ان کو رفع کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور انہیں درست کرنے کا اختیار تھا۔ ان کے دروازے پر بیٹھے ہوئے چوکیدار کو گھر میں شور شرابہ سُن کر اندر داخل ہونے اور گھر پر قبضہ کرنے کا خیال پالنے تو کیا سوچنے تک کا حق حاصل نہیں تھا۔ کسی بھی کاروبار کے مالکان یا حصہ داران اپنے نفع اور نقصان کے ذمہ دار ہوتے، اپنے غلط فیصلوں کے نتائج بھگتنے اور انہیں دور کرنے کی تدبیریں کرتے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، اسی طرح بھارت کے اہل سیاست اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے لیکن پاکستان میں دھماچوکڑی کو ختم کرنے کے نام پر ایک نئی دھماچوکڑی مچا دی گئی تھی۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے جو بیج بویا تھا، پاکستان اس کے اثرات سے اب تک نجات حاصل نہیں کر سکا۔ دستور کے جھگڑے نے پاکستان کو دو لخت کر دیا، فوجی اقتدار اور اس کے نتائج کئی بار چکھے گئے۔ بلکہ یہ کہیے کہ بھگتے گئے۔ بہت کچھ تبدیل ہوا، سیاست نے کئی کروٹیں لیں، عدالتوں نے بھی کئی منظر دکھائے‘ لیکن پاکستان کے عوام نے اپنے حق حکومت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس سے دستبرداری اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ آج جبکہ ہم آزادی کی سترویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں، وزیر اعظم کو تکنیکی بنیادوں پر سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے اس فیصلے کو بالفعل تسلیم کرتے ہوئے ایوان اقتدار خالی کر دیا ہے۔ وہ اسلام آباد سے لاہور اپنے گھر واپس آ رہے ہیں، جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ان کا سفر اختتام پذیر نہیں ہوا۔ وہ عوام سے بار بار سوال کر رہے ہیں کہ آپ کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو پانچ معزز جج صاحبان نے کیسے گھر بھجوا دیا؟ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ہوا۔ ان کے حوالے سے ریفرنس قائم کئے جا رہے ہیں، جب کسی عدالت کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت دیکھا جائے گا۔ فی الوقت تو تاثر یہ ہے کہ نواز شریف کو ایک فنی الزام میں نااہل قرار دے ڈالا گیا ہے۔ دبئی میں قائم ان کے بیٹے کی ایک کمپنی سے مبینہ طور پر تنخواہ مقرر ہونے کی پاداش میں ان کے خلاف کارروائی کر ڈالی گئی ہے۔ نواز شریف کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی، جج صاحبان نے کہا، تنخواہ واجب الوصول ہو تو بھی اثاثہ ہوتی ہے، اسے ڈکلیئر نہ کرکے گویا اثاثے چھپائے گئے ہیں۔ اس فیصلے پر کئی اعتراض کرنے والے پاکستان اور دبئی کے قانون کی کتابیں اٹھائے پھرتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستانی قانون کے مطابق واجب الوصول تنخواہ اثاثہ نہیں ہو سکتی اور دبئی کے قانون کے مطابق اگر ایک مقررہ وقت تک وہاں قیام اور کام نہ کیا جائے تو تنخواہ واجب الوصول ہی نہیں ہوتی۔ یہ نکتہ متوقع ہے کہ نظرثانی کی درخواست میں زیر بحث آئے گا، پھر دیکھئے کیا رنگ دکھاتا یا اڑاتا ہے۔ فی الحال معاملہ یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم (زیادہ سے زیادہ) ایک فنی غلطی کی بنیاد پر گھر بھجوا دیا گیا ہے۔ پاکستان کی انتہائی عدالت نے ابتدائی عدالت کا کردار کیوں سنبھالا؟ اس پر قانون اور آئین کے اکثر ماہرین مختلف آراء رکھتے ہیں۔
اسلام آباد سے لاہور تک کے سفر میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے پُرجوش حامیوں نے شدت سے اپنے ردعمل کا اظہار کر دیا ہے۔ آنے والے دِنوں میں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔ سترویں سالگرہ مناتے ہوئے یہ سوال البتہ ہمارے سامنے ہے کہ ہمارے ادارے اپنے ستر سال سے سبق حاصل کیوں نہیں کر پائے۔ دائرے کا سفر بالآخر ان سب کو کہاں لے کر جائے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *