لاہور کے عوام نے فیصلے کی تدفین کردی

محمد خلیل الرحمان
muhammad khalil ul rehman .
میں نے ہمیشہ اعتراف کیا ہے کہ میری ناپسندیدگی کے باوجود عمران خان کو ملکی سیاست میں عصبیت حاصل ہو چکی ہے لیکن حیرت ہے جن کو اتنا بڑا ہجوم دکھائی نہیں دیتا اور انکی آنکھوں میں ککرے پڑ جاتے ہیں . کب تک آپ اس ہجوم کا مذاق اڑائیں گے ؟ کب تک رائے عامہ کی تذلیل اور تحقیر جاری رہے گی ؟ کب تک ان کو جانور سمجھا جائے گا ؟ کب تک آپ اپنی دانشوری کی شیخیاں بگھارتے پھریں گے ؟ کب تک آپکا کتا ٹومی اور ان کا کتا کتا کہلائے گا ؟ آنکھیں کھولیں اور نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کریں ۔ یہ جہان ِ پیر دم توڑنے کو ہے ۔
4
سازشوں سے کسی عوامی لیڈر کو ختم کیا جا سکا ہے اور نہ کیا جا سکے گا ۔ یہی حقیقت ہے ۔ نواز شریف بطور وزیر اعظم پسند نہیں ، اس کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔ نیا وزیر اعظم عمران خان ہو گا یا زرداری یا نوازشریف اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں ۔ عدالتی مہم جوئیاں اور سازشیں باوقار عدلیہ کو زیب نہیں دیتیں ۔ اسی بنچ کے ایک جسٹس کے ایک ایسے ہی متنازعہ فیصلے کے خلاف عوام کی بھاری اکثریت نے اپنا فیصلہ غازی ممتاز قادری کے کیس میں سنایا تھا اور مقدس گائے کے فیصلے کو پاوُں تلے روند ڈالا تھا ۔ آج پھر لاہور کے عوام نے ایک ایسے ہی متنازعہ فیصلے کی تدفینکردی ہے ۔
ایسا کب تک ہوتا رہے گا ؟ اگر سپریم کورٹ نے کرپشن کے الزام پر دائر کیے گئے ریفرنس کی سماعت شروع کی تو اس پر فیصلہ کیوں نہ سنایا ؟ ایک کمزور اور بودی بنیاد پر نا اہلی کا حکم کیوں سنا دیا ؟ الزام کرپشن کے تھے تو فیصلہ بھی انہی بنیادوں پر ہونا چاہئے تھا ۔ اگر ایسا فیصلہ سامنے آ جاتا تو کم از کم آج نواز شریف یوں نہ دھاڑ رہا ہوتا ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہم نے پہلے کہہ دیا تھا کہ ایسے فیصلے بعد میں تاریخ کے کوڑے دان میں پائے جاتے ہیں اور شاید یہی انکا جائز مقام ہے ۔
پی ٹی آئی کے دوستوں کو اپنی بقا کیلئے جمہوری عمل کا حصہ بننا ہو گا ۔ جمہوری رویے اختیار کرنے ہونگے ۔ آپس میں حب الوطنی کی ریوڑیاں بانٹنے  اور دوسروں کو غداری کے طعنے سنانے سے وہ کبھی عوام کے قریب نہیں آ سکتے ۔ پٹواری کا طعنہ دل پشوری کیلئے اچھا ہے لیکن یہ رائے عامہ کی تحقیر ہے ۔ پھر آپ کس امید پر ان پٹواریوں سے ووٹ مانگ سکتے ہیں ؟ جمہوریت کا راستہ کھلا ہے ۔ اس راہ کے مسافر بنیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دو انتخابات کے بعد آپ کو اقتدار نصیب ہو جائے ۔
مجھے نواز شریف سے اختلافات ہو سکتے ہیں اور یہ میرا جمہوری حق ہے لیکن میں یہ بات دیانتداری کے ساتھ محسوس کرتا ہوں اور ایک عرصے سے اس پر زور دیتا آیا ہوں کہ ہم جس اخلاقی پستی میں گر چکے ہیں ہمیں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے ۔ میں ایسے دوستوں کو بھی جانتا ہوں جن کا اپنا آسرا ہی کرپشن پر ہے لیکن وہ فیس بک پر کرپشن کے خلاف جہاد میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ کرپشن ایک ناسور ہے لیکن یہ بھی مان لیجئے کہ یہ کہیں تھوڑا کہیں زیادہ معاشرے کے ہر فرد کے جسم سے رس رہا ہے الا ماشاءاللہ ۔
بجلی چور ہم ہیں ۔ ٹیکس چور ہم ہیں ۔ دواوُں میں ہم ملاوٹ کرتے ہیں اشیائے خوردونوش میں ہم دھوکہ کرتے ہیں ۔ چوری چکاری فراڈ دھوکہ اور جعلسازی کے ہم مرتکب ہیں تھانے کچہریاں اور عدالتیں انہی واقعات سے بھری پڑی ہیں ۔ جو کوئی ڈگڈگی بجاتا ہے ہم اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ ایسے معاشرے اس طرح اصلاح پذیر نہیں ہوتے بلکہ ان میں انارکی پیدا ہوتی ہے ۔ اصلاح کیلئے دو ہی راستے ہوتے ہیں ۔ ایک انقلاب کا راستہ جو یہاں نظر نہیں آتا اور دوسرا راستہ یہ ہوتا ہے کہ مقتدر طاقتیں ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف آئیں ۔ اس کا آغاز مل بیٹھنے سے ہو گا ۔ ایک دوسرے کا نکتہ ُ نظر سمجھنے سے ہو گا ۔ کوئی بھی غدار نہیں ہے ۔ سب کی اپنی اپنی حقیقت ہے ۔ ایک دوسرے کو تسلیم کریں اور مل بیٹھ کر نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں ۔
فوج بھی ہماری ہے ۔ اس کی زمام ِ کار بھی انسانوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں ۔ وہ بھی معصوم نہیں ہیں ۔ ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں ۔ سیاستدانوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں ۔ اہل صحافت ، علما اور مشائخ سب سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ دانائی اسی بات میں ہے کہ ہم من حیث القوم ان غلطیوں سے سبق سیکھیں اور یکجان ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالیں ۔ اگر کسی دوست کے پاس اس بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی اور حل ہو تو اسے بھی دیکھ لینا چاہئے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *