نواز شریف کی ریلی، ایک مختصر تجزیہ 

tariq ahmed
سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدلیہ کے ھاتوں اپنی نا اہلی کے بعد بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور گھر واپسی کو مندرجہ ذیل حوالوں سے اھم قرار دیا جا سکتا ہے ۔
1۔ ایک کامیاب سیاسی شو
2۔ عوامی طاقت کا اظہار
3۔نوجوانوں کی شمولیت
4۔ نواز شریف سے محبت کا اظہار
5۔ نواز شریف کے ذاتی دکھ اور تکلیف کا اظہار
6۔ روائت کا خاتمہ کہ وزیراعظم کی برطرفی پر لوگ باھر نہیں نکلتے ۔
7- نئے مسلم لیگی کلچر کا آغاز۔ لوگوں کی خود سے شمولیت اور جوش و خروش
8۔ عوام سے براہ راست مکالمہ اور عوام کی رائے
9۔ نواز شریف بطور اپوزیشن لیڈر
10۔ نواز شریف بطور ایک دلیر مزاحمتی لیڈر
11۔ نواز شریف بطور ایک ویژنری لیڈر
12۔ پنجاب خصوصا" مارشل بیلٹ پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا کھلا پرچار
13۔ عدلیہ کے فیصلے پر کھلی تنقید
14۔  عوام کی ایجوکیشن اور نئے بیانیے کی قبولیت
15۔ نیا نظام، نیا قانون، نیا آئین لانے کا اعلان
16۔ ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کا اعلان
عوامی جدوجہد کو جاری رکھنے اور پارلیمان میں لیجانے کا اعلان
17۔میڈیا کے مخصوص حصے اور افراد کا ایکسپوز ھونا۔
18۔ نواز شریف کا اپنی پارٹی اور حکومت پر تسلط برقرار
19۔ ن لیگ میں دراڑیں پڑنے کی افواہوں کا خاتمہ
20۔ یہ پیغام کہ عدالتی فیصلوں سے سیاسی لیڈر ختم نہیں ھوتے۔
21۔ یہ پیغام کہ منفی سیاست اور کرپٹ پینٹ کرنے کے مسلسل  پروپیگنڈے سے مقبول لیڈر ختم نہیں ھوتے۔
22۔ یہ پیغام کہ ایک لیڈر کو مسلسل ٹارگٹ کرنے سے اس کے فالوورز اثر نہیں لیتے بلکہ ڈائ ھارڈ سپورٹرز بن کر باھر نکلتے ھیں۔
23۔ یہ پیغام کہ نااھلیت نے نواز شریف کے ھاتھ میں مظلومیت کا کارڈ تھما دیا ھے۔ جس نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کر دیا ھے۔
24۔ یہ پیغام کہ یہ فیصلہ اور پروپیگنڈہ بیک فائر کر گیا ھے۔
25۔ یہ پیغام کہ اب یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ رکنے والا نہیں یہ پاکستان کے گلی کوچوں تک پہنچ گیا ھے۔
26۔ یہ پیغام کہ عمران خان اپنی سیاست ، اپنا نعرہ، اپنی پوزیشن اور اپنی کریڈیبیلیٹی کھو بیٹھے ھیں۔
27۔ یہ پیغام کہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں جلد یا بدیر باھم مل کر بیٹھیں گی۔ اور نواز شریف  کی قیادت میں ایک نیا میگنا کارٹا لکھا جائے گا۔
28۔ یہ پیغام کہ نواز شریف کو جیل ڈالنے کی صورت میں یہ مزاحمتی اور بیداری کی تحریک اور تیز ھو جائے گی۔
29۔ میرے ووٹ کی توہین مت کرو کا پیغام پھیلتا جائے گا۔
30۔ عوام کے حق حکمرانی کا پیغام پھیلتا جائے گا۔
31۔ سوشل میڈیا کا کردار اھم ھوتا جائے گا۔
32۔ اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا پڑے گا۔ وہ کتنی دیر مزید پاکستان کیے اقتدار اور اختیار پر اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھ سکتے ہیں ۔
33۔ یہ انتظار کہ نواز شریف اپنی مقبولیت اور پارلیمان میں اپنی اکثریت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *