آزاد ریاست کے قید شہری

faisal rasheed

پاکستان اگست 1947 ء میں ہندوستان کے شہریوں کے حقوق اور آزادیوں ( بالخصوص مسلمان، مسیحی اور دیگر اقلیتوں ) کے تحفظ اور تقسیم ہند کے نتیجے میں عالم وجود میں آیا۔ پاکستان کا قیام اصل میں اس کے شہریوں کو بنیادی حقوق اور بلا امتیاز برابری کی فراہمی کا تصور تھا۔اس سلسلے میں فکر انگیز مؤقف قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے وقت 11 اگست 1947 ء کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں اختیار کیا تھا کہ ’’باایں ہمہ اس تقسیم میں کسی ایک مملکت میں یا دوسری مملکت میں اقلیتوں کا وجود ناگزیر تھا۔ اس سے مفرد نہیں تھا۔اس کا کوئی اور حل بھی نہیں تھا۔اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔اگر آپ اپنا رویہ تبدیل کر لیں اور مل جُل کر اس جذبے سے کام کریں کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ وہ اس ملک کا پہلا شہری ہے یا دوسرا یا آخری، سب کے حقوق و مراعات اور فرائض مساوی ہیں،قطع نظر اس کے کہ کس کا کس فرقے سے تعلق ہے اور ماضی میں اس کے آپ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات تھے اور اس کا رنگ و نسل یا عقیدہ کیا ہے تو آپ جس قدر ترقی کریں گے اس کی کوئی انتہا نہ ہو گی‘‘۔اسی ضمن میں محمد علی جناح نے مزید کہا:
’’ہمیں اس جذبے کے ساتھ کام کرنا شروع کر دینا چاہئے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اکثریت اور اقلیت ،ہندو فرقے اور مسلمان فرقے کے یہ چند در چند زاویے معدوم ہوجائیں گے۔ اب آپ آزاد ہیں اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں میں جائیں ، اپنی مساجد میں جائیں یاکسی اور عبادت گاہ،آپ کا کسی مذہب ،ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں‘‘۔ محمد علی جناح نے اپنی بات کو اختتام کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا:
’’میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں اس بات کو ایک نصب العین کے طور پر اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو،ہندو رہے گا ، نہ مسلمان، مسلمان ۔ مذہبی اعتبار سے نہیں ،کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے،بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے‘‘۔
قائداعظم کے یہ ارشادات جو ان کے تصور پاکستان کے نقیب ہیں ،واضح کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں ایک ایسے معاشرے اور مملکت کی نوید دے رہے تھے جس میں مذہبی اور ثقافتی تنوع کو تو تحفظ حاصل ہو گا اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی مگر ریاست کسی ایک مذہب یا مسلک کے علمبردار بن جانے سے اجتناب کرے گی کیونکہ ریاست کی اسی غیر جانبداری سے مملکت کے شہریوں کے درمیان برابری کا احساس جلا پا سکتا تھا اور وہ ایک قوم کے سانچے میں ڈھل سکتے تھے۔
درج بالا ارشادات اور مؤقف جیسے پاکستان کو عالم وجود میں لانا چاہتے تھے اُن میں سے ہر ایک کو قائد اعظم کی رحلت کے فوری بعدرخصت کرنے کا سلسلہ بڑے ہی خلوص کے ساتھ شروع کیا گیا۔پہلا مقدس کام اکثریت اور اقلیت کے فرق کو مٹانے کی بجائے واضح کیا گیا۔ مسلمان اور ہندو کی پہچان ذاتی بنانے کی بجائے قومی کر دی گئی۔ ریاست کامذہب سے علیحدگی اور مذہب کو ہر کسی انتہائی ذاتی معاملہ بنانے کی بجائے مملکت کو اسلامی ریاست بنائے جانے پر خاص طاقت اور توجہ مرکوز کر دی۔ پاکستان کا 1973 ء میں مرتب کیا جانے والا مقدس آئین میں ریاست کی حاکمیت اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دی گئی جس سے ملک میں بسنے والے غیر اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو ریاست سے پرایا کرنے کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔آئین پاکستان میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دے دیا گیا۔جس کے ثمرات جلد ہی ایک خاص جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے قانون سے ملتے ہیں۔ ایک طرف اسی آئین مقدس کی کتاب تمام شہریوں کو برابری کے عہدے پر فائز کرتی ہے اور دوسری ہی طرف مذہب اور عقیدہ کی بنا پر امتیازات بھی موجود ہیں۔ جنت کا ٹکٹ لینے اور غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا سفر آئین پاکستان کے مرتب تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس کائرہ خیر کو نصابی کتب کے ذریعے بھی خوب استعمال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈکی جماعت ہشتم کی کتاب اسلامیات کے سبق ’’کاروبار میں دیانت‘‘ صفحہ 43 کی سطر 21 میں ٖغیر مسلموں کی شان کچھ یوں پیش کی گئی ہے کہ ’’غیر مسلموں کی کاروبار میں دیانت ان کی محض ایک پالیسی ہے جبکہ ہمارے لیے دیانت ایمان کا مسئلہ ہے‘‘۔ اب اس تعریف کے پیچھے کیا کوئی ثبوت دعویٰ موجود ہے؟ چلیں ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ غیر مسلموں کا کاروبار میں دیانت محض پالیسی کے تحت ہے تو میاں آپ اپنے ایمان کے اس درجہ کو کیوں نہیں پہنچتے؟اسی طرح جماعت نہم کی مطالعہ پاکستان کے سبق ’پاکستان کی نظریاتی اساس‘ کے صفحہ 3 کی سطر 11-14 میں قائداعظم محمد علی جناح کی تحریک پاکستان اور پاکستان کے قیام پر اختیار کردہ مؤقف کو کچھ یوں مسخ کیا گیاہے درج ہے کہ’’پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد ایک فلسفہ حیات پر استوار کی گئی۔یہ فلسفہ دین حیات ہے۔ پاکستان کی تما م تر اساس دین اسلام ہے اور اس کا اس سر زمین پر نفاذ صدیوں تک رہا ہے‘‘۔ جبکہ تحریک پاکستان کے دوران یہ الفاظ کبھی استعمال نہیں ہوئے۔درج بالا درسی کتب کے چند ایک حوالہ جات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست پاکستان کس قسم کی تعلیم فراہم کرنے میں مگن ہے اور کس قسم کی راہ ہموار کرنا چاہ رہی ہے۔ درج بالا حوالہ جات میں پاکستان کے غیر مسلموں کو اپنے ذاتی مذاہب اور عقائد کو چھوڑ کر جبراََ دائرہ اسلام اور بالخصوص ایک ہی مسلک کی طرف راغب کرنے کا مقدس کام سرانجام دیا جا رہا ہے۔ کیا آئین پاکستان کی درج بالا شق اور درسی کتب کے چند ایک حوالہ جات غیر مسلم پاکستانیوں کو اسلام کے دائرہ میں قید کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی ہے؟ کیا غیر مسلم پاکستانی اب تک ایسی ہی حبس زدہ تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہو رہی ہے؟آئین پاکستان ایک طرف تو تمام شہریوں کو آزادی اظہار رائے، آزادی اجتماع، آزادی سفر کے ساتھ دیگر حقوق کو تحفظات اور آزادیاں فراہم کرتا ہے وہی دوسری طرف پاکستانیوں کے مابین محض مذہب اور عقائد کے فرق ہونے پر تفریق بھی کرتا ہے کہ کوئی غیر مسلم پاکستان کے اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا۔۔۔یہ مذہب کی بنیاد پر ریاستی قید نہیں ؟آئین پاکستان ایک طرف تو زبردستی کسی دوسرے مذہب کی تعلیم دینے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے مگر عملی طور پر تعلیمی نصاب غیر مسلم پاکستانیوں کو جبراََ اسلامیات، عربی اور ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم کی زنجیروں میں جکڑ ا ہوا ہے۔
پاکستان کو ترقی ،خوشحالی، مذہبی و سماجی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے احکام بالا سے التماس ہے کہ آزادی کے اس دن پر ہمیں درج ذیل اقدامات اب اُٹھا ہی لینے چاہیے:
۱۔ قائداعظم محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 ء کے خطاب کو قانونی حیثیت دینے کے لیے آئین پاکستان کو حصہ بنایا جائے۔
۲۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 (حق مذہبی آزادی) اور آرٹیکل 25 (حق مساوات) کے مؤثر نفاذ کے لیے عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو جرم قرار دینے کے لیے قانون متعارف کروایا جائے جس میں امتیازی سلوک کی تعریف اور سزا کا تعین بھی کیا جائے۔
۳۔ تعلیمی پالیسی ، نصاب تعلیم اور درسی کتب میں عقیدے کی بنیاد پر تفریق ، تعصبات اور امتیازات ختم کرنے کے لیے نظر ثانی کی جائے، تاکہ تعلیمی نظام پاک وطن میں ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کا ذریعہ بنے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *