70 سال مبارک میرے وطن

Raja Qasim Mehmood

تخلیق پاکستان کو ستر سال ھوچکے ھیں,اس دوران وطنِ عزیز نے کئی نشیب و فراز دیکھے,قاہد اعظم کی جلد وفات پھر لیاقت علی خان کا قتل اور پھر پے در پے سیاسی عدم استحکام سے نکلنے والا مارشل لاء,بعد میں سقوطِ مشرقی پاکستان,کچھ سال سیاسی عمل کے بعد پھر دو طویل فوجی ادوار اور پھر نااہل سیاستدانوں کی کھیپ.ان تمام سانحات و حادثات کے باوجود پاکستان آج بھی قائم ھے اور انشاء اللہ تا قیامت قائم رہے گا.پاکستان نے اپنی تمام تر کمزرویوں کے باوجود دنیا میں کئی معاملات پر بہت اہم کردار ادا کیا ھے,ہم کم وسائل کے باوجود ایک ایٹمی طاقت ھیں,ملک کی دفاعی لائن کے طور پر پاکستان کی فوج ایک مضبوط ادارہ ھے.

پاکستان کی تخلیق میں اسلام کے کردار پر آج تک ہمارے متضاد اہل فکر کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں ھو پایا لیکن آج ہماری پاک فوج پوری مسلم دنیا کی واحد فوج ھے جو خوارج کے فتنے کے خلاف برسرِپیکار ھے اور سنتِ مرتضوی پر عمل پیرا ھے.خوارج کے اس فتنے نے کئی مسلم ممالک کے نقشے بدل ڈالے مگر پاکستان نے اس کا مقابلہ کیا اور اللہ کا شکر ھے کہ پاکستان سرخرو ھوا ھے.پاکستان نے ہی سرکاری سطح پر دنیا پر واضح کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وآصحاب وسلم کی ختمِ نبوت کا منکر مسلمان نہیں کہلایا جا سکتا,پھر سویت یونین کے استبداد کے خاتمے میں پاکستان کا کردار نمایاں ھے جس سے کئی علاقے جو سویت جبر کا شکار تھے آزاد ھوئے گوکہ اس معاملے میں ہم سے کئی پہاڑ جیسی غلطیاں ھوئی مگر سویت یونین کو اس کے توسیع پسندانہ عزائم سے روکنا دنیا کے امن و امان کے لیے بہت ضروری تھا.
ملک کا سیاسی عدم استحکام ایک ایسا مسلہ ھے جس پر ابھی تک ہم پوری طرح قابو نہیں پا سکے مگر ایک بات ہم کو سمجھنی ھوگی کہ ان مسائل کا حل دنوں میں نہیں نکلتا,اس کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ھے اور میں دیکھ رہا ھوں کہ اس بارے میں بھی کافی مثبت پیش رفت ھو چکی ھے,اب کافی حد تک ملک میں سے مارشل لاء کا خطرہ ٹل چکا ھے,یہ تیسری لگاتار اسمبلی ھو گی جو اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ھے,اگر یہ سلسلہ یوں چلتا رہا تو سیاسی ہیجان مزید کم ھوگا.ایسے ہی ایک مقبول ترین آرمی چیف کو مدتِ ملازمت میں توسیع نہ دے کر اس تاثر کو تقویت ملی ھے کہ ادارے شخصیات کے محتاج نہیں ھوتے اگر یہ روایت جاری رہے تو بھی ملک کے اداروں میں مزید بہتری آئے گی.باقی نااہل سیاست دان اگر اب بھی ٹکراؤ کی بات کر رہے ھیں تو خود ان کے اندر سے اس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ھیں.سیاسی استحکام اور سول بالادستی ایک صبر آزما پھل ھے جس کے لیے مزید کئی برس کا انتظار کرنا پڑے کا اور یہ ارتقائی مراحل سے ہی ملے گا اگر کوئی "انقلابی" کوشش ھوئی تو حالات پھر ۲۰۰۷ سے پہلے والے ھوجائیں گے امید ھے ایسی حماقت کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا.
ہمارے ملک میں شاید موجودہ تاریخ کی واحد اور سب سے کامیاب عوامی جدوجہد چلی ھے انصاف کے ادارے کی درستگی کی خاطر.ہمارے آج کی اپر لیول کی عدلیہ ماضی سے کافی مضبوط ھے,اب یہاں پر 'نظریہ ضرورت' کے احیاء کے امکان معدوم ھوتے جا رہے ھیں,مگر افسوس کے اس کامیاب تحریک سے حاصل ھونے والے ثمرات نچلی سطح پر منتقل نہیں ھوسکے جس سے ایک عام آدمی کو بھی ریلیف مل سکے.جب تک بنیادی سطح پر بہتری نہیں آتی اس وقت تک اکثریت انصاف کے اداروں سے مطمئن نہیں ھوگی.
تعلیمی میدان میں گوکہ ہماری اچھی تاریخ نہیں ھے مگر گذشتہ چند سالوں سے ہمارے لوگوں میں تعلیم کی بابت مثبت رویہ دیکھنے میں آرہا ھے,اب سکول نہ جانے والے بچوں کا تناسب دو تین دہائی قبل کے تناسب سے بہت بہتر ھے.ہاں ہمارے تعلیمی نصاب کے معیار پر بہت کام کرنے کی ضرورت ھے اور اس میں مقاصدِ تعلیم میں اخلاقی مضبوطی کو اول رکھنے کی ضرورت ھے.
صحت میں ڈاکٹر ادیب آئے رضوی صاحب کے ہسپتال  اور شوکت خانم جیسے ادارے کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں پائے جاتے جو کہ پاکستان میں ھیں,پھر حکومتی سطح پر کارڈیالوجی ہسپتال روالپنڈی ایک عمدہ اور بہترین ہسپتال ھے,ایسے مزید ہسپتال بنانے کی ضرورت ھے تاکہ صحت کے مسائل کم کیے جا سکیں.
پاکستان کا ایک اور حسن یہاں کے خیراتی ادارے ھیں جیسا کہ ایدھی سینٹر اور سیلانی ویلفیر ٹرسٹ وغیرہ جو کہ پاکستان ہی کے لوگوں کے دئیے ھوئے عطیات و خیرات سے چل رہے ھیں اور غریبوں اور ناداروں کا سہارا ھیں.
پاکستان نے اپنی تخلیق سے لے کر آج تک بہت کچھ حاصل کیا ھے مگر ہم کو مزید محنت اور لگن کی ضرورت ھے کہ ہم وہ کچھ بھی حاصل کریں جو اب تک ہم نہیں حاصل کرسکے.اس کے لیے ریاست کے ہر فرد اور ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے,میں بہت پر امید ھوں کہ پاکستان میں حالات بتدریج بہتر ھو گے اور ہمارا ملک ایک مضبوط اور خوشحال ملک بنے گا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *