خدارا اسے محسوس کرو

hafiz yousuf siraj

فیس بک ان باکس میں ایک دن میسج موصول ہوا:
"سیاستدانوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں، کبھی ہمارے مصائب پر بھی لکھ دیا کیجیے۔"
یہ اسلام آباد سے کوئی کشمیری خاتون تھیں۔ شعبہ تعلیم سے وابستہ تھیں۔
کیاآپ اسلام آباد آگئیں؟ میں نے پوچھا۔
" نہیں میں جہاں رہتی ہوں، یہ سرینگر کے پاس کشمیری اسلام آباد ہے۔" اس نے بتایا
مجھے یاد آگیا، اور یہ بھی کہ اس شہر کا نام تو شاید اننت ناگ تھا مگر کشمیریوں نے پاکستان کی محبت میں اسے اسلام آباد کے نام سے بدل دیا تھا۔
وہاں کے حالات جاننے کیلیے کچھ بات میں نے ان محترمہ سے کی۔ یہ بھی پوچھا، آپ کا سوشل میڈیا تو بھارت سرکار مانیٹر کرتی ہے؟ آپ پھر بھی یوں بات کر رہی ہیں، کہیں آپ کو اس کا نقصان ہی نہ ہو۔

Image result for kashmir muslimفرمانے لگیں: " ہم ہروقت انڈرسرویلینس( جاسوسی کی زد میں ) رہتے ہیں، مگر اب ہم فیڈ اپ ہو چکے ہیں۔ جو ہو سو ہو۔"
انھوں نے بتایا ،زندگی معطل ہے، ہر روز جوان جنازوں کو کندھے دے دے کر ہمارے کندھے دکھنے لگے ہیں۔ قبرستان آباد اور آنگن برباد ہو چکے ہیں۔"
میں نے کہا کبھی کچھ لکھ بھیجیے، میں اسے کالم میں شامل کر لوں گا۔ انھوں نے کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر البتہ دوبارہ بات نہیں ہوئی۔
اس دن البتہ دیر تک میں ایک ایسی زندگی کا تصور کرکے لرزتا اور کانپتا رہا، جو آزاد نہ ہو اور جو اہل کشمیر کی طرح اپنی ہو کے بھی اپنے بس میں نہ ہو۔ جہاں ہر سانس سنگینوں کے سائے تلے لینی پڑتی ہو اور جہاں دھرتی پر اتنے چنار نہ ہوں جتنی زمیں پر قبریں اگ آئی ہوں۔ جہاں زعفران کے کھلکھلاتے پھول تو ہوں مگر جن پر کنواریوں کے آنسو اور لہو کے چھینٹے گرتے ہوں۔ جہاں ڈل جھیل میں اتنا پانی نہ ہو جتنا زمیں زادوں کا لہو بہا دیا گیا ہو۔ میری سانس اکھڑنے لگی اور زندگی میرے لیے اذیت و آزار ہونے لگی۔ دل دکھا اور دیر تک دکھتا رہا، ابھی بھی جب یہ لکھتا ہوں دل بھر آتا ہے اور آنکھ کے چھلکنے کو میں بہ دقت روک پاتا ہوں۔ صدی ہونے کو آئی مگر کیسی جبر بھری زندگی ہمارے پڑوس میں ہمارے بہن بھائی جیتے ہیں اور سوائے دعاکے، ان کیلیے کچھ بھی تو ہم نہیں کر پاتے۔
اللہ ان مجبور و مقہور بہن بھائیوں کے آزاد جسم کے گرد تنی غلامی کی خار دار تاریں جلد تار تار کرے اور جلد ان کی غلامی کی تاریک رات کو آزادی کا سویرا نصیب فرمائے۔

پیارے ہم وطنو!
14اگست کے اس موقع پر مجھے آپ سے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے، ہمارے تصور اور خیال اور ہمارے تمام تر مال سے بھی زیادہ بڑی اور بیش قیمت۔خدارا اسے محسوس کرو ، اس کی قدر کرو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *