قائد اعظم کی بیٹی دینا جناح نے باپ کی حکم عدولی کیوں کی؟

4

بشکریہ: عقیل عباس جعفری

ہر باپ یہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد نیکی اور ایمانداری کے راستے پر چلے۔ کئی بڑے لوگ اپنی مصروفیات کے باعث اولاد کی مناسب تعلیم وتربیت کے لئے وقت نہیں نکال پاتے۔ بدقسمتی سے ان کا بیٹا یا بیٹی نافرمان نکلے تو ان کی کوتاہی کا ذکر تو کیا جا سکتا ہے لیکن اولاد کی غلطیوں کی سزا والدین کو نہیں دی جا سکتی۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ قائد اعظم نے ایک پارسی خاندان کی خاتون رتن بائی کے ساتھ شادی کی۔ رتن بائی نے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا اور ان کا نام مریم رکھا گیا۔ شادی کے ایک سال کے بعد ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام دینا جناح رکھا گیا۔ قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ اپنی مصروفیات کے باعث بیوی اور بیٹی کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے تھے۔ مریم جناح ء1929 میں صرف 29 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اس وقت قائد اعظم کی بیٹی دینا جناح کی عمر صرف دس سال تھی۔ قائد اعظم اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو  یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قراآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اب ایک طرف قائد اعظم کی اکلوتی بیٹی تھی جسے باپ کے پیار اور توجہ کی ضرورت تھی دوسری طرف آل انڈیا مسلم لیگ تھی جس کے پلیٹ فارم سے قائد اعظم تحریک پاکستان کو آگے بڑھا رہے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارس ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔

6

پھر وہ وقت آیا جب قائد اعظم کو پتا چلا کہ ان کی بیٹی ایک پارسی نوجوان نیول واڈیا کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہیں۔ قائد اعظم نے اپنی بیٹی کو ایک غیر مسلم کے ساتھ شادی کرنے سے روکا۔ اس موضوع پر باپ بیٹی کے درمیان ایک مکالمہ تاریخ کی کئی کتابوں میں محفوظ ہے۔ قائداعظم نے اپنی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں لاکھوں پڑھے لکھے مسلمان لڑکے ہیں تم ان میں سے کسی بھی مسلمان لڑکے کے ساتھ شادی کر لو۔ جواب میں بیٹی نے باپ سے کہا کہ ہندوستان میں لاکھوں خوبصورت مسلمان لڑکیاں تھیں لیکن آپ نے ایک پارسی لڑکی سے شادی کیوں کی؟ قائد اعظم نے جواب میں کہا کہ تمہاری ماں نے شادی سے قبل اسلام قبول کر لیا تھا لیکن بیٹی پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ قائداعظم جن کی آنکھ کے ایک اشارے پر کروڑوں مسلمان اپنی گردنیں کٹوانے کے لئے تیار تھے وہ اپنی بیٹی کی ضد کے سامنے بے بس ہو گئے۔ بیٹی نے باپ کی مرضی کے خلاف شادی کر لی۔

nevil

قائداعظم شادی میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ بیٹی سے سخت ناراض تھے۔ انہوں نے بیٹی کو ملنا جلنا کم کر دیا۔ بیٹی کی طرف سے کبھی سالگرہ پر مبارکباد کا کارڈ آتا تو قائداعظم جواب میں لکھ بھیجتے کہ "مسز واڈیا آپ کا بہت شکریہ"۔ قائداعظم کے کچھ مخالفین نے کوشش کی کہ یہ سوال اٹھایا جائے کہ جس شخص کی بیٹی نے ایک غیر مسلم سے شادی کر لی وہ مسلمانوں کا لیڈر کیسے ہو سکتا ہے لیکن برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت قائداعظم کے ساتھ کھڑی رہی۔ ء1948 میں قائداعظم کا انتقال ہوا تو دینا واڈیا افسوس کے لئے کراچی آئیں۔ پھر وہ ممبئی سے نیویارک منتقل ہو گئیں۔ قائداعظم پیپرز پراجیکٹ کے ایڈیٹر انچیف ڈاکٹر زوار حسین زیدی کا دینا واڈیا سے رابطہ تھا۔ وہ ء2004 میں دینا واڈیا کو ایک دفعہ پھر پاکستان لانے میں کامیاب ہوئے۔ اس موقع پر دینا واڈیا نے کہا کہ میں محمد علی جناح کی بیٹی ضرور ہوں اور اپنے باپ سے آج بھی محبت کرتی ہوں اسی لئے اپنے بیٹے نسلی واڈیا اور پوتوں کے ساتھ اپنے باپ کے خواب پاکستان کو دیکھنے آئی ہوں لیکن میں اپنے باپ کے نام سے شہرت نہیں کمانا چاہتی۔ دینا واڈیا جب مزار قائد کے اندر گئیں تو اس دوران کسی فوٹوگرافر یا میڈیا کو اندر نہیں جانے دیا گیا، وہ تنہا باپ کی قبر پر کچھ لمحات گذارنا چاہتہ تھیں، شاید وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی جذباتی کیفیت جس نے انہیں یقیناً مغلوب کر لیا ہوگا کوئی دیکھے اور اس کی تشہیر ہو۔ مزار قائد پر موجود مہمانوں کی کتاب میں انہوں نے اپنے جذبات ظاہر کئے، انہوں نے وزیٹر بک پر ایک جملہ یوں لکھا " یہ میرے لئے ایک دکھ بھرا شاندار دن تھا۔ اُن کے خواب کو پورا کیجئے"۔

8

ڈاکٹر زیدی ء2009 میں انتقال کر گئے لیکن دینا واڈیا ابھی تک زندہ ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے ممبئی کے جناح ہائوس کی ملکیت کے لئے ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور کہا کہ جس گھر میں وہ پیدا ہوئیں اس گھر میں اندگی کے آخری دن گذارنا چاہتی ہیں۔ انہیں ابھی تک جناح ہائوس ممبئی کی ملکیت نہیں ملی۔ وہ چاہتیں تو حکومت پاکستان سے کچھ بھی لے سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے عظیم باپ کی زندگی میں ایک دفعہ نافرمانی کی لیکن کبھی اپنے باپ کے نام پر کوئی مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کو بیٹی کی نافرمانی کا بہت دکھ تھا لیکن اس نافرمانی سے ان کی سیاست کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یہ تو ایک عظیم سیاسی انسان کی بیٹی کا قصہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *