قائد اعظم کے سیکورٹی آفیسر کے تہلکہ خیز انکشافات

Related imageہنسوٹیا صاحب -پیدائش 1910 ء ۔ بمبئی 1934 ء میں پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوئے۔ 1943 ء میں سندھ کے انگریز گورنر سر ہیوڈاؤ کے سکیورٹی آفیسر مقرر ہوئے۔ ہیوڈاؤ کے بعد سر فرانسس موڈی گورنر سندھ مقرر ہوئے تو ہنسوٹیا صاحب ان کے بھی سکیورٹی آفیسر رہے۔ قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے بعد خواجہ ناظم الدین کے لیے 1950 ء تک بطور سکیورٹی آفیسر خدمات انجام دیتے رہے۔ 1959 ء سے 1967 ء۔ ریٹائرمنٹ تک ایس پی ٹریفک رہے۔ اس انٹرویو کے لیے ان سے میری پہلی نشست 25 اپریل 1977 ء کراچی ان کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ 1987ء تک تقریباً ہر سال دو، تین ، چار مرتبہ کراچی میں ہی ان سے انٹرویو کا سلسلہ جاری رہا۔
ایف ڈی ہنسوٹیا کے تفصیلی سوانحی خاکے کے لیے میں نے 12جولائی 2010 ء کو کراچی میں ان کے گھر فون کیا جو ان کے بیٹے ڈاکٹر مہر ہنسویٹا نے اٹینڈ کیا۔ انٹرویو کے دوران میں میری ان سے ملاقات ہو چکی تھی، وہ انہیں یاد تھی، میں نے ان کے والد کے متعلق پوچھا انہوں نے بتایا ان کا 1994 ء میں انتقال ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر مہر بہت خوش ہوئے، ان کے والد کی قائداعظم سے متعلق یادداشتیں انٹرویو کی صورت میں چھپ رہی ہیں۔ میں نے ان سے ایف ڈی ہنسوٹیا کے تفصیلی سوانحی خاکے اور ایک تصویر کی بات کی۔ انہوں نے کہا آپ مجھے اپنا ای میل ایڈریس دے دیں میں بھجوا دوں گا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اس کے بعد جب بھی میں نے فون کیا ڈاکٹر مہر سے ملاقات نہ ہوئی۔ پھر 14نومبر 2010ء کے ڈیلی ڈان میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر، فیکلٹی ممبرز اور سٹاف کی طرف سے ایک تعزیتی اعلان پڑھا کہ ڈاکٹر (کیپٹن) مہر ایف ڈی ہنسوٹیا، جو 1980 ء سے ڈاؤ میڈیکل کالج سے وابستہ تھے اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پہلے رجسٹرار تھے، 11نومبر 2010 ء کو انتقال کر گئے۔
رہے نام سائیں کا۔
س : یہ ہنسوٹیا آپ کی کاسٹ ہے یا کیا ہے؟

Image result for chief security officer of quaid azam Mr hansonج: ہنسوٹ ایک گاؤں کا نام ہے انڈیا میں ، جہاں ہم پیدا ہوا تھا کیونکہ میرے والد صاحب کا خیال تھا کہ ہم شاید ادھر واپس نہیں جائیں گے تو اپنا یہ Surname (عرفیت) بنا کے رکھا۔ ہنسوٹیا۔
س : اور ایف ڈی؟
ج: ایف ڈی۔ میرا نام فیروز ہے۔ میرے والد کا نام ہے دھن جی شاہ ہنسوٹیا میرا surname ہے۔
س : ہنسوٹیا صاحب، آپ گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے سکیورٹی آفیسر رہے۔ اس سے پہلے بھی آپ کو کسی گورنر یا سربراہ مملکت کے ساتھ سکیورٹی میں کام کرنے کا اتفاق ہوا؟
ج: میں قائداعظم کے آنے سے آگے دو گورنرز کے پاس سکیورٹی آفیسر رہا تھا۔ پہلے Sir Hue Dow (سر ہیوڈاؤ) گورنر سندھ کے ساتھ۔ اس کے بعد Sir Francis Mody (سر فرانسس موڈی) آیا، ان کے پاس بھی میں سکیورٹی آفیسر تھا۔ ان کے بعد جب قائداعظم آیا تو اس نے بھی مجھے سکیورٹی آفیسر لگایا۔ تو پہلے کچھ ٹائم میں، کوئی ایک ماہ پہلے احسن صاحب دہلی سے گورنر جنرل ہاؤس کے انتظامات دیکھنے آیا۔ میرے سٹاف میں ہندو، سکھ ، عیسائی، مسلمان سبھی تھے، احسن نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
س : ایس ایم احسن ؟
ج: ایم ایم احسن اے ڈی سی تھا قائداعظم کا۔
س : احسن قائداعظم کے پہلے تین اے ڈی سیز میں سے ایک تھے۔
ج: وہ آیا۔ اس نے سارا چیک کیا اور اپروو کیا۔ اس کے بعد قائداعظم آئے تھے۔
س : پارس ہوتے ہوئے بھی آپ کو قائداعظم کے سکیورٹی آفیسر کی حیثیت میں برقرار رکھا گیا؟
ج: پاکستان بننے کے بعد انسپکٹر پولیس چوہدری نذیر احمد جو ایس پی ریٹائر ہوئے ہیں کو میرے ساتھ رکھا گیا کہ میں انہیں کام سکھاؤں۔ ایک مہینے کے بعد آئی جی پولیس نے میری بجائے نذیر احمد کو لگا دیا۔ قائداعظم نے میرے متعلق پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ ہنسوٹیا کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔ قائداعظم بولا، کس کی مرضی سے اسے ہٹایا گیا ہے؟ پھر مجھے بلا کر کہا کہ آپ Contiue (پھر سے شروع) کریں۔ اس عملے میں اس وقت سب مذہب کے آدمی تھے۔
س : گورنر جنرل ہاؤس میں۔
ج:گورنمنٹ ہاؤس میں۔
س : تفصیل ۔
ج: سکیورٹی افسر میں تھا پارسی، میرا اسسٹنٹ دلیپ سنگ بیدی کر کے سکھ تھا۔ سارجنٹ تھے اینگلو انڈین، اینگلو انڈین کرسچین، کچھ ہندو بھی تھے سٹاف میں۔ دلیپ سنگھ بیدی پھر انڈیا چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی یہاں (کراچی میں) ہندو مسلم فسادات ہو گئے۔لگتا ہے اسے اس بات کا پتہ تھا۔
س : ان سارجنٹس کے نام؟
ج: Phili Phosky (فلی فاسکی )اور Tobin (ٹوبن)۔
س : گویا گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے سٹاف میں ہر مذہب کو نمائندگی حاصل تھی۔
ج: ہر مذہب کو۔
س : قائداعظم نے اس چیز کو پسند کیا؟
ج: اس نے بہت پسند کیا تھا۔ اس نے اس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ بہت اچھی بات ہے کہ ہر ایک قسم کے آدمی، پاکستانی ہمارے سٹاف میں رکھے گئے ہیں۔ ان کا جو گھر کا عملہ تھا اس میں بھی ہندو تھے، کرسچین تھے اور مسلمان بھی تھے۔ ان کا خاص بٹلر ہیڈ بٹلر جوزف کرسچین تھا گوا کا۔ ہاؤس کیپر کرسچین عورت Mrs Black (مسز بلک) تھی۔ باورچی بروا بنگالی تھا، ہندو تھا۔ ان کا جو دھوبی تھا وہ بھی ہندو تھا۔ ان کے بیرے اور موجی کرکے ہندو تھے۔ کاجی جو تھا موجی کا داماد تھا۔
س : کانجی اور موجی زندہ ہیں؟
ج: موجی تو مر گیا ہے۔ کانجی کا پتہ نہیں۔
س : اور ہیڈ بٹلر جوزف؟
ج: مر گیا ہے۔
س :ٹوبن اور فلی فاسکی اب کہاں ہیں؟
ج: کینیڈا۔
س : گویا قائداعظم کے ہاں ہر مذہب کو نمائندگی حاصل تھی۔
ج: سمجھو کہ گورنمنٹ ہاؤس میں مذہب کا کوئی امتیاز ہی نہیں تھا۔ کمپٹرولر آف دی ہاؤس ہولڈ انگریز تھا۔ اس کو وہ دہلی سے لائے تھے۔ ان کا ملٹری سیکرٹری کرنل سینٹ جان برنی انگریز تھا۔ وہ گیا تو کرنل نولز کو رکھا۔ وہ بھی انگریز تھا۔ ان کے تینوں اے ڈی سیز کیپٹن گل حسن، فلائٹ لیفٹیننٹ عطا ربانی اور لیفٹیننٹ ایس ایم احسن مسلمان تھے۔ ان کی جگہ جو اے ڈی سی آئے وہ بھی مسلمان تھے۔ ان کا باڈی گارڈ کمانڈر صاحبزادہ یعقوب علی خاں مسلمان تھا۔ وہ گیا تو اس کی جگہ میجر عباس آیا۔
س : یوں دنیا کو دکھا دیا کہ یہاں صحیح معنوں میں مساوات رائج ہو گی۔
ج: وہ ہر مذہب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتے تھے۔
س : قائداعظم نے تو اس کا عملاً ثبوت دے دیا۔ پھر بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس میں دوسرے مسلمان افسروں نے غیر مسلم افسروں کے خلاف مذہبی تعصب کا مظاہرہ کیا ہو۔
ج: ہاں، جب ہم لاہور میں تھا تو اس وقت ایک واقعہ یہ ہوا کہ یہاں رائے بہادر نرائن داس کا لڑکا تھا کشو، جو قائداعظم کی موٹر کا کام کرتا تھا۔ وہ ایک دفعہ آیا تو اس نے سارجنٹس سے پوچھا کہ پائداعظم کب (کراچی) آئیں گے۔ ٹوبن اور فلی فاسکی نے اسے بتایا کہ قائداعظم فلاں دن کو آئے گا۔ جب ہم لاہور سے واپس آیا تو ہم نے دیکھا کہ اس بات پر ان دونوں کو اتار دیا تھا نوکری سے۔ ہم نے دیکھا کہ سارا عملہ مسلمان ہو گیا۔
س : غیر مسلم کی جگہ مسلمان سٹاف آ گیا۔
ج: مسلمان آگئے تھے۔ outrider (موٹر سائیکل سوار محافظ) یہ سب مسلمان آنے لگے اور جو سٹاف تھا ان کو کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ جو کرسچین سٹاف تھا اس کو، سکیورٹی کا سٹاف بھی مسلمان آگیا۔ مجھے معلوم پڑا کہ مجھے بھی نان مسلم ہونے کی وجہ سے یہ ہٹانا مانگتا ہے اور آئی جی میرے جگہ انسپکٹر پولیس چوہدری نذیر کو لارہے ہیں بلکہ سنا کہ کارروائی مکمل ہے، بس چارج لینے دینے کا بات ہے۔ پھر مجھ کو خیال پڑا کہ میں مجھ کو کیوں یہ ہدایت دیا گیا تھا کہ چوہدری نذیر کو سکیورٹی کا کام سکھاؤ۔ یہ بات چل رہا تھا۔ میں جب ڈیوٹی سے آف ہوتا تھا تو بھی گورنر جنرل ہاؤس کا چکر لگاتا تھا۔ پوچھنے کے لیے کہ کوئی کام ۔ ایک روز شام کا وقت تھا ۔ میں آف ڈیوٹی تھا۔ میں ادھر گیا تو میں نے دیکھا کہ قائداعظم کا فلیگ گاڑی آگیا۔ وہ باہر جا رہا تھا ۔Unscheduled (پروگرام کے برعکس)۔
س : سیر کے لیے؟

Image result for quaid azam rare pics
ج: سیر کے لیے باہر جا رہا تھا۔ میری ذمہ داری تھی کہ میں ان کے ساتھ ہوتا لیکن یہ پروگرام ان شیڈولڈ تھا اور میری والدہ بھی ساتھ تھی۔ تو میں نے اپنے ایک مسلمان سب انسپکٹر کو جو وہاں کھڑا تھا کہہ دیا کہ ساتھ ہو جائے۔ وہ ترکی ٹوپی پہنے تھا۔ اس کو میں نے بتایا کہ بھئی میں نہیں جا سکتا ہوں کیونکہ میری مدر بھی گاڑی میں بیٹھی ہے۔ میں تو ایسے ہی چکر مارنے آگیا تھا دیکھنے کے لیے۔ تو آپ ان کے ساتھ چلے جائیں۔ لیکن میں وہاں کھڑا رہا جب تک قائداعظم آگیا وہاں۔ جب موٹر چلنے لگا تو انہوں نے ایک دم موٹر کھڑا کیا اور مجھ کو بلایا کہ آپ کیوں نہیں چلتا؟ میں بولا کہ میں تو ایسے ہی آگیا تھا۔ مجھے پروگرام کا پتہ نہیں تھا۔ میری مدر باہر کھڑی ہے اس لیے میں اس کو بھیج رہا ہوں آپ کے ساتھ۔ تو بولا۔ یہی بات ہے اور تو کچھ نہیں۔میں بولا۔ اس کی وجہ سے میں نہیں جا رہا۔ تو بولا۔ آپ سے بات کرنا مانگتا۔ تو میں بولا۔ میں ادھر ٹھہر جاؤں؟ تو وہ بولا۔ آج کوئی ضروری نہیں اتنا۔ آپ احسن سے کل صبح نو دس بجے کے درمیان کوئی ٹائم فکس کر لو اور مجھے صبح مل لو۔ اور احسن سے کہا کہ نوٹ کر لیں۔ احسن صاحب نے مجھے ساڑھے نو بجے کا ٹائم دیا۔ اس ٹائم میں کیپٹن گل حسن ان کے ساتھ جا رہا تھا۔ میں اپنی مدر کو گھر چھوڑ کے واپس گورنر جنرل ہاؤس آگیا۔ کیوں؟ میرے دل میں یہ ہو گیا کہ پتہ نہیں کیا بات ہو گا۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے گل حسن سے پوچھا کہ بھئی کیا بات تھی؟ اس نے بولا ۔ قائداعظم نے ہمیں کچھ نہیں بتایا ۔ نہ مجھے پتہ ہے۔ میں ساری رات بڑا پریشان رہا۔ دوسرے دن صبح میں آگیا تو احسن صاحب اے ڈی سی نے مجھے بلایا کہ آ پکو بلا رہے ہیں جلدی سے۔ راستے میں جاتے جاتے میں نے احسن صاحب سے پوچھا کہ بھئی کیا بات ہے۔ مجھے کاہے کے لیے بلایا گیا ہے؟ توانہوں نے مجھے جلدی سے یہ بتایا کہ آپ سے جو بھی پوچھیں صحیح صحیح بتا دینا۔ کوئی چھپانا نہیں بات۔ اتنا بولا، اتنے میں ہم پہنچ گئے کمرے کی طرف۔
س :اوپر کی منزل پر۔
ج: اوپر کی منزل پر کام کرتے تھے، آفس میں۔ وہاں جا کے احسن نے رپورٹ کیا۔ میں اندر گیا۔ سلام کیا۔ پہلے تو ادھر بیٹھے۔ پھر مجھے بولا۔ آئین سٹنگ روم میں بیٹھیں اور بات کریں۔ انہوں نے سگریٹ نکالا۔ خودنہیں پیا۔ میری طرف کیا۔ میں نے بولا میں نہیں پیتا۔ مجھے بولا۔ Because your parsi,you dont smoke (چونکہ آپ پارسی ہو اس لیے سگریٹ نہیں پیتے)۔

س : ہاں ، آپ کے مذہب میں تمباکو نوشی منع ہے ناں۔
ج: میں بولا، میں بزرگوں کے احترام میں ان کے سامنے سگریٹ نہیں پیتا۔ ویسے میں سگریٹ پیتا ہوں۔ اس کے بعد اس نے بولا۔ انسپکٹر! اب کیا گڑبڑ چل رہا ہے گورنر جنرل ہاؤس میں؟ میں سمجھا کیونکہ لاہور جانے سے آگے آدمی اندر گھس آئے تھے شاید اس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ میں بولا۔ سر intruders (دخل انداز) گورنر جنرل ہاؤس میں داخل ہوئے۔ مجھے تو ان کا علم نہیں ۔ تو بولا۔ نہیں، نہیں ، نہیں۔ وہ بات چھوڑیں ۔ اس سے ہم کوئی نہیں ڈرتا۔ یہ بتائیں آپ کو کیوں نکال رہے ہیں ۔ میں نے ان کو بتایا کہ مجھے پتہ نہیں۔ حالانکہ میں اچھی طرح سے جانتا تھا کیونکہ میں مسلمان نہیں ہوں، اس لیے مجھے نکال رہے ہیں لیکن میں ان کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ تو انہوں نے بولا۔ آپ کو پتہ تو ضرور ہو گا کچھ نہ کچھ۔ کیوں نہیں بتاتے آپ؟ میں بولا، صاحب مجھے کچھ پتہ نہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے بتایا کہ دیکھو میرے پاس ٹائم نہیں ہے کہ یہ بات ہم کرتے رہیں۔ چلو میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں اس کا جواب دیں۔ پھر انہوں نے مجھے پوچھا آپ Efficient (کارگزار۔ باصلاحیت) نہیں اس لیے نکال رہے ہیں؟

Image result for quaid azam rare pics

میں بولا نہیں۔ میں نے سکیورٹی کا کام آگے بھی بہت کیا ہے۔ میں خود کو Efficient سمجھتا ہوں۔ بولا ٹھیک ہے۔ پھر آپ کو کیوں نکال رہے ہیں؟ میں بولا ۔ مجھے پتہ نہیں۔ واپس انہوں نے پوچھا۔ Are you idiot! (کیا آپ احمق ہیں؟)میں بولا، No sir (نہیں جناب)۔ پھر آپ کو کیوں نکال رہے ہیں؟ میں بولا ، میں نہیں جانتا۔ پیچھے بولا۔ میں آپ کو بتاتا ہوں ، کیوں آپ کو نکال رہے ہیں کیونکہ آپ مسلمان نہیں ہیں۔ میں بولا۔ May be ۔ شاید۔ بولا۔Don,t say may be.it is the bloody fact (شاید مت کہیں۔ یقیناًیہی اصل وجہ ہے)۔ شاید مت بولو۔ بولو ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ یہی وجہ ہے جس کے لیے آپ کو نکال رہے ہیں۔ تو میں نے بولا۔ ہاں صاحب یہ ٹھیک ہے۔ تو پیچھے بولا۔ یہ بڑے بیوقوف ہیں۔ میں دنیا بھر میں بولتا ہوں کہ میں ہر ایک مذہب کے آدمی کو پاکستان میں Equal Status (مساوی حیثیت) سے دیکھ رہا ہوں۔ پہلے میرا یہ خالی دعویٰ تھا لیکن اب جب میں آپ لوگوں کے ساتھ باہر جاتا ہوں تو لوگ دیکھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ واقعی میں پریکٹیکل آدمی ہوں۔ واقعی ٹھیک بول رہا ہوں کیونکہ یہ چھوٹی بات نہیں ہے کہ میں نے اپنی جان کا حفاظت ایک غیر مسلم کو دے رکھا ہے۔ آپ کو پتہ ہے یہ لوگ جو آپ کو ہٹانا چاہتے ہیں، پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میں ہر کسی کو بتاتا ہوں کہ میرے ہاں اقلیتیں ہیں اور ہر اقلیت کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ آپ لوگ اس کا پراپیگنڈہ کرتے ہیں لیکن یہ لوگ یہ بنیاد ہی ڈھانے پر تلے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں)۔ اس کے آگے انہوں نے بولا دونوں اینگلو انڈین سارجنٹس کیوں ہٹا دیے گئے ؟ میں بولا ۔ سر رائے بہادر نرائن داس کا بیٹا کشو آپ کی گاڑی کا دیکھ بھال کرنے آتا تھا۔ ہم لاہور گیا تو پیچھے وہ آیا۔ اس نے سارجنٹس سے پوچھا کہ قائداعظم کب آئیں گے۔ انہوں نے بولا کہ دو روز بعد آئیں گے۔ اس بنا پر دونوں سارجنٹس کو Remove (برطرف) کر دیا گیا کہ انہوں نے کشو کوآپ کی arrival (کراچی آمد)کا کیوں بولا۔ اس پر قائداعظم بولے میرے آنے جانے کا تو اخبارات میں بھی چھپ جاتا ہے۔ کشو کو بتانے میں کیا حرج تھا۔ وہ میرے پاس اکثر کرکے آتا ہے۔ اگر اس کا نیت برا ہوتا تو کیا رکاوٹ تھا۔ پھر قائداعظم بولا۔ دونوں سارجنٹس کو بھی شام تک واپس آجانا چاہیے۔ میں بولا یہ میرے بس میں نہیں۔ یہ آئی جی کا کام ہے۔ بولا۔ آئی جی کو میں نہیں جانتا ہوں۔ آپ میرا سٹاف ہیں۔ میری مرضی کے سوائے آپ کو کوئی نہیں نکال سکے گا۔ آپ ان دونوں کو بلا لیجئے اور شام کو جیسے پہلے جاتے تھے ایسے جائیے گا۔
س :آئی جی کون تھا؟
ج:کاظم رضا۔ اس کے بعد مجھے بتایا کہ دیکھو آپ کو میں بتا دیتا ہوں کہ جب تک میں گورنر جنرل ہوں آپ ہی میرے سکیورٹی آفیسر ہوں گے۔ آپ کو یہاں سے کوئی نہیں نکالے گا سوائے اس کے کہ آپ بے وفا ہوں۔
س : Dishonest (بددیانت) ہوں۔
ج: Dishonest یا inefficient (نااہل یا بددیانت) ہوں یا آپ میں ہم کوئی نقص دیکھیں تو نکالے گا۔ اس وجہ سے سوائے آ پ کو کوئی نہیں نکالے گااور آپ آخر تک ہمارے پاس رہے گا اور اسی شام کو اسی طرح پہلے کی طرح وہ باہر نکل گئے۔
س : سیر کے لیے؟
ج: سیر کے لیے۔
س : کس طرف۔
ج: کورنگی کی طرف۔
س : عموماً کورنگی کی طرف جاتے تھے؟
ج: یا تو کورنگی کی طرف جاتے تھے یا تو یہاں ۔۔۔
س : گڈری کی طرف۔
ج: گڈری کی طرف جاتے تھے۔ اس وقت تو یہ میدان پڑا تھا۔
س : جاتے ڈیلی تھے شام کو؟
ج: ناں، اکثر کرکے نکل جاتے تھے۔ ڈیلی تو نہیں جا سکتے تھے لیکن کبھی وقت فالتو ہوتا تو جب نکل جاتے تھے۔
س : اقلیتوں کے لیے قائداعظم کا عادلانہ رویہ ان کا یہ وصف عیا کرتا ے کہ وہ ہر کسی کو برابرکا شہری سمجھتے تھے یہاں تک کہ ان کے گھریلو سٹاف میں بھی ہر مذہب کا آدمی ملازم تھا۔
ج: گھریلو سٹاف میں بھی یہ حال تھا۔
س : اور یہ بڑی جرأت تھی۔
ج: یہ سٹاف جہاں جہاں بھی ہم گئے۔ ڈھاکہ گئے، لاہور گئے،پشاور گئے۔ سب جگہ یہ سٹاف ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتا تھا۔ یہی سٹاف جاتا تھا۔
س : وہ دونوں سارجنٹس واپس لائے گئے؟
ج: نہ صرف دونوں اینگلوانڈیشن سارجنٹس فلی فاسکی او ر ٹوبن واپس بلا لیے گئے بلکہ قائداعظم کے حکم پر دوسرا غیر مسلم سٹاف بھی واپس آگیا۔
س : کشو مکینک تھا؟
ج: کشو، نرائن داس اینڈ کمپنی کا پروپرائٹر تھا۔
س : وہ قائداعظم کے پاس روزانہ آتا تھا؟

Image result for quaid azam rare picsج: اکثر کرکے آتا تھا۔
س : آپ نے پیچھے ذکر کیا ہے کہ لاہور جانے سے قبل حملہ آور گورنر جنرل ہاؤس میں گھس آئے تھے۔ اس کی تفصیل؟
ج: عید کے ایک دو روز آگے (پہلے) رات کے وقت دو آدمی پولو گراؤنڈ کی طرف کی دیوار سے اندر گھس گئے۔
س : بڑی عید ہو گی؟
ج: بڑی عید۔
س : 47 ء کی۔
ج: 47 ء کی عید کے ایک دو روز آگے رات کے ایک دو بجے گورنر جنرل ہاؤس میں گولی چلنے کا آواز آیا۔ کیونکہ آواز آگیا گولی کا اس وجہ سے وہاں اور آدمی بھی آگئے۔ دو آدمی وہاں سے بھاگ گئے اور سکیورٹی کا ایک کانسٹیبل بے ہوش پڑا تھا۔ جب اسے ہوش میں لائے تو ہم نے اس کو سوال کیا تو وہ کچھ صحیح جواب نہیں دے رہا تھا۔ پہلے اس نے اشارہ کیا بلڈنگ کی طرف بولا دونوں حملہ آور ادھر سے آرہے تھے اور مجھ پر حملہ آور ہو گئے۔ میں نے انٹیریئر گارڈ(اندرونی محافظ) سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں گولی کا آواز سن کر لان کی طرف چلا آیا۔ مجھے نہیں پتا کہ وہ لوگ اندر سے آئے یا باہر سے۔ مجھے شک ہوا کہ اگر اندر سے آرہے ہیں تو پھر قائداعظم کو اٹیک کیا ہو گا کیونکہ اس نے بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا تو وہ سیڑھی قائداعظم کے کمرے کو جاتی تھی۔ احسن صاحب بھی وہاں آیا تھا کیونکہ وہ وہاں رہتا تھا۔ میں نے احسن صاحب کوبتایا کہ پتہ نہیں پڑتا کہ حملہ آور اوپر جا کے آئے ہیں کہ نہیں۔ آپ اوپر جا کے پوچھ آئیں۔ احسن صاحب اوپر چلے گئے۔ جیسے اس کے پاؤں کا آواز ہوا قائداعظم جاگتے تھے۔ انہوں نے پوچھا۔ what is that? (کیا معاملہ ہے) اس نے بتایا سر ، میں احسن ہوں۔ پوچھا کیا ہو رہا ہے یہ گڑبڑ۔ اس نے بتایا کہ نیچے گولی چھوٹ گئی پولیس والے سے۔ اس نے ایسا ہی بتایا ہے۔ بول،ا پوچھنے آیا ہوں آپ ٹھیک ہیں۔ قائداعظم نے بولا۔ I am All right (میں ٹھیک ٹھاک ہوں)۔ احسن صاحب نیچے اتر آیا۔
س : قائداعظم اندر ہی سے انہیں جواب دے رہے تھے؟
ج: اندر ہی سے جواب دے رہے تھے۔
س : قائداعظم وس اقت تک کام میں مصروف تھے۔ رات گئے تک؟
ج: ہاں اپنے کمرے میں ہی۔
س : ان کے سونے کا معمول کیا تھا؟
ج: رات آٹھ بجے اپنے کمرے میں چلے جاتے۔ لیکن کبھی بارہ بجے ، کبھی ایک بجے، کبھی دو بجے تک جاگتے رہتے تھے۔ سوچتے رہتے۔
س : اچھا پھر ؟
ج: اس کے بعد ہم نے کارروائی کیا۔ کارروائی میں یہ ہوا کہ بڑے آفیسرز نے رپورٹ درج کرا دی پولیس میں۔ میں اس کے برخلاف تھا کہ کیس داخل کرنے سے کراچی میں Riots (فسادات) ہو جائیں گے ہندو مسلمان کے۔
س : وہ دونوں حملہ آور ہندو تھے؟
ج: ہاں۔
س : یہ آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا کہ دونوں حملہ آور ہندو تھے۔
ج: میں نے زیادہ جاننے کے لیے جب سپاہی سے اور سوال کیے تو معلوم پڑا کہ رات جب اسے ہوش میں کیا گیا تو وہ خوف سے تھا۔ گھبراہٹ میں وہ حملہ آوروں کے متعلق صحیح نہیں بتا سکا تھا۔ اب وہ تھوڑا ہوش میں آگیا تو میں نے اس سے بہت سوال کیا۔ اس نے مجھے بتایا ’’ایک آدمی نے گورنر جنرل ہاؤس کی پولو گراؤنڈ سائیڈ کی طرف سے دیوار پھلانگی۔ میں سمجھا کہ یہ چھلانگ آپ نے لگائی ہے۔ اس غلط فہمی پر میں نے اسے سلیوٹ کیا۔ اس پر اس شخص نے ریوالور نکال لیا۔ میں نے جپھی ماری اور اس کی ریوالور پکڑی۔ اتنے میں اس کا دوسرا ساتھی بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔ ہم دونوں کا آپس میں کشمکش ہوا۔ اس میں ایک گولی چھوٹ گئی۔ ایک یا دو گولی۔ ہوا میں۔ تو اس کا دوسرا ساتھی تھا، اس نے مجھے چاقو مارا۔ پھر اس نے مجھے زور سے ٹکر ماری اور گرا دیا۔ میں بے ہوش ہو گیا۔ وہ جو دو تھے انہوں نے شلوار اور قمیض پہنی تھی اور سر پر کالی جناح کیپ تھی۔ اس کے اوپر چاند تارا لگا تھا‘‘۔ تو میں نے اندازہ لگایا کہ اس ٹائم میں کیونکہ کانگریس والے جو تھے وہ چاہتے تھے کہ ہندو یہاں سے چلا جائے اور قائداعظم کی یہ خاص نصیحت تھی کہ کوئی یہاں سے Minority (اقلیت) جاوے نہیں۔ سب یہاں ہی رہیں۔ باہر اگر معلوم ہو جائے گا تو riots ہو گا اور ہندو بھاگ جائے گا۔ اس وجہ سے میں نے وہ رپورٹ روک دیا۔

Image result for quaid azam rare picsس : آپ کا خیال تھا کہ باہر مسلمانوں کو پتا چل جاتا کہ دو ہندو قائداعظم پر حملہ آور ہونے کی نیت سے گورنر جنرل ہاؤس گئے ہیں تو کراچی میں ہندو مسلم فسادات چھڑ جائے اور قائداعظم کی خواہش کے برعکس ہندو یہاں سے انڈیا چلے جاتے۔
ج: یہ اس حملے کا Political aspect (سیاسی پہلو) تھا۔ جب پاکستان بن رہا تھا تو یہ بات نہیں تھا کہ ہندو مسلمان اپنے گھروں سے چلے جائیں گے۔ قائداعظم چاہتے تھے ہندو یہاں سے نہ جائیں۔ کانگریس والے چاہتے تھے کہ ہندو لوگ یہاں سے انڈیا چلے جائیں کیونکہ ہندو تاجر اور کاروباری تھے۔ اس لیے کانگریس والے چاہتے تھے وہ جائیں تو پاکستان کا اکنامکس تباہ ہو جائے گا۔ میرے خیال میں اسی وجہ سے قائداعظم پر قاتلانہ حملے کا پلان بنایا گیا کہ جب خبر باہر نکلے گی تو ہندو مسلم فسادات ہو گا اور ہندو تاجر اور صنعت کار مجبوری میں انڈیا چلا جائے گا اور پاکستان کا اکنامکس نقصان اٹھائے گا۔ تفتیشی عملہ میرے ساتھ اتفاق کرتا تھا۔ اس لیے میں نے پولیس سے وہ رپورٹ واپس لے لی جو ہائر آفیسرز نے درج کرائی تھی کیونکہ جیسے اس رپورٹ کی خبر ہوتی مسلمان جوش میں آجاتا اور کراچی میں ہندو مسلم فسادات ہو جائے۔
س : یہ آپ نے کیسے اندازہ کیا کہ حملہ آور ضرور ہندو ہی ہوں گے؟
ج: اس وجہ سے کہ اگر وہ مسلمان ہوتے تو ان کو جناح کیپ پہننے کی ضرورت نہیں تھی۔ دوسری بات یہ تھی کہ جب اس نے ساری بات بتائی اور بتایا کہ اس نے مجھے ٹکر ماری تو لڑائی کے وقت سندھی ہندو ٹکر مارتے تھے، اکثر کرکے یہ ہندو لوگ۔ بنئے لوگ۔
س : سندھی مسلمان ٹکر نہیں مارتے تھے؟
ج: مسلمانوں میں صرف مکرانی ٹکر مارتے تھے اور وہ حملہ آور مکرانی نہیں تھے۔
س : کسی دوسری ایجنسی نے بھی آپ سے اتفاق کیا؟
ج: سی آئی ڈی نے اس کی انکوائری کی۔سی آئی ڈی بھی میرے خیال کی تھی کہ وہ ہندو تھے اور اس کا وجہ یہی تھا آنے کا اور کچھ نہیں تھا۔ وہ لوگ بھی یہی بولا کہ یہ ہندو تھے۔
س : سی آئی ڈی والوں نے بھی یہی کہا کہ وہ ہندو تھے؟
ج: سی آئی ڈی والوں نے۔
س : وہ بھی آپ سے متفق تھے؟
ج: لیکن دوسروں کو تو پتا نہیں تھا اس ٹائم میں۔ یہ جو افسر تھے وہ جانتے تھے اس بات کو لیکن یہ بات باہر نہیں آئی۔
س : اسی بنا پر آپ نے وہ رپورٹ واپس لے لی کہ ہندو مسلم فسادات نہ ہو جائیں۔
ج: ہاں ، اور قائداعظم نے میرے سے اتفاق کیا۔
س : اس رپورٹ کی کاپی ہے آپ کے پاس ؟
ج: نہیں۔
س : اس سپاہی کا نام جو حملہ آور کی ٹکر سے بے ہوش ہو گیا تھا؟
ج: یاد نہیں۔
س : حملہ آور کے چاقو کے وار سے وہ کس حد تک زخمی ہوا؟
ج: کیونکہ سردی کے دن تھے، سپاہی نے اوورکوٹ پہنا تھا۔ اس لیے چاقو سے اسے زیادہ زخم نہیں آیا۔
س : اس نے بتایا تھا کہ حملہ آور پولوگراؤنڈ کی طرف سے آئے تھے۔
ج: اس کے بعد میں نے جب باہر انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ وہ موٹر میں پولو گراؤنڈکی طرف سے آئے تھے اور وہاں گھڑی کے پہیوں کے نشان بھی تھے۔ میرا خیال تھا انہوں نے موٹر گاڑی گورنر جنرل ہاؤس کی دیوار کے ساتھ کھڑی کی۔ پھر اس کی چھت پر چڑھ کے انہوں نے دیوار پھلانگی لیکن وہ ٹریس نہیں ہو سکے۔
س : حملہ آور نے جب دیوار پھلانگی تو اس سپاہی کے بقول اس نے اسے سلیوٹ کیا کیا وہ سمجھا کہ یہ آپ ہیں۔ رات کو آپ دیوار پھلانگا کرتے تھے؟
ج: رات کو گشت کرتے ہوئے میں اکثر کرکے گورنر جنرل ہاؤس کی دیوار پھلانگتا تھا۔ سپاہی نے غلطی سے intruder (دخل انداز)کو جو سلیوٹ کیا وہ نیچرل بات تھا۔
س : اس واقعہ پر قائداعظم کا رویہ کیا تھا؟
ج: ہاں، قائداعظم کا ملٹری سیکرٹری کرنل نولز ، نہیں ، جان برنی جب دوسرے دن قائداعظم سے بولا کہ انہوں نے خواہ مخواہ آپ کو ڈرا دیا رات کو۔ تو قائداعظم نے کہا I am not afraid (میں ڈرتا نہیں)۔ یہ ان کی ڈیوٹی تھی۔ انہوں نے ڈیوٹی کی۔ میں کسی سے ڈرتا نہیں۔ میرا اگر مرنا ہو گا تو میں ایسا بھی مر سکتا ہوں۔ یہ تو بات ہی نہیں ہے ڈرانے کی ہم کو۔ تو انہوں نے بالکل ٹھیک کیا۔ پھر ہم لاہور چلے گئے اور لاہور میں ایک مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ رہے کیونکہ وہاں بیمار ہو گئے تھے قائداعظم۔
س : وہیں سے واپسی پر آپ کی یہ تبدیلیاں ہوئیں جن کا آپ نے شروع میں ذکر کیا ہے؟
ج: اس کے بعد ہوئی تھیں۔
س : گورنر جنرل ہاؤس میں آپ نے سکیورٹی کے انتظامات کیا کر رکھے تھے؟
ج: میں نے گورنر جنرل ہاؤس میں سکیورٹی کا سخت انتظام کر رکھا تھا۔
س : قائداعظم کا حکم تھا؟

Image result for quaid azam rare picsج: نہیں۔ وہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کا سکیورٹی کیا جائے۔ میں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا ہوا تھا کہ وہ درختوں کے پیچھے چھپ کر رہیں ۔ کہیں قائداعظم کی ان پر نظر نہ پڑے۔ لیکن جب ان کو سکیورٹی کا کوئی سپاہی نظر پڑتا تو وہ برا مناتے تھے۔ ان کا سکیورٹی کیوں کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے اگر میری موت کا وقت آن پہنچا تو ایک ہزار سپاہی بھی میری جان نہیں بچا سکیں گے۔
س : آپ نے بتایا ہے کہ قائداعظم کے پاکستان کا گورنر جنرل بننے سے قبل آپ سندھ کے انگریز گورنروں کے بھی سکیورٹی افسر رہے۔
ج: ان کے بعد میں خواجہ ناظم الدین کے پاس کوئی ففٹی (1950 ء) تک رہا۔ دو سال۔
س : آپ نے ان میں اور قائداعظم میں کوئی نمایاں فرق محسوس کیا۔ خاص طور پر انگریز گورنروں اور قائداعظم میں؟
ج: قائداعظم کا شخصیت یہ تھا کہ اس کے سامنے کوئی ٹک نہیں سکتا تھا۔ نہ کوئی بات کرنے کا ہمت کر سکتا تھا۔ ان کو دیکھ کر ہی آدمی ڈر جاتے تھے۔
س : اتنی شخصی وجاہت تھی۔ اس قدر رعب تھا؟
ج: رعب اتنا تھا۔ ایک مثال میں دے سکتا ہوں کہ جب ہم ڈھاکے گئے تو ہم کو پتہ پڑا کہ کریم اللہ ہال میں جب یہ جائیں گے۔
س : کریم اللہ ہال۔
ج: ہاں۔ کریم اللہ ہال۔
س : ایک تو وہاں نواب آف ڈھاکہ نواب سلیم اللہ خان کے نام پر ہے نا سلیم اللہ ہال؟
ج: ہاں ، سلیم اللہ ہال۔ I am sorry ۔ تو ہم کو پتہ پڑا کہ سلیم اللہ ہال میں جب یہ تقریر کریں گے تو ادھر ایجی ٹیشن ہو گا۔ بنگلہ زبان کے لیے۔ لیکن جب قائداعظم نے لیکچر شروع کیا تو کچھ نہ ہوا۔ ذرا بھی ہلچل نہیں دیکھی۔ ایک چڑیا کے موافق بھی شور نہیں ہوا۔ آخر تک کسی بھی آدمی نے ایک بھی آواز نہ نکالا۔ نہ کسی نے کچھ خلل ڈالا۔ کھانسی تک نہیں ہوئی کسی کو۔ اتنا Silence (سناٹا) رہا۔ جب تک وہاں رہے کوئی بھی ایجی ٹیشن نہ ہوا حالانکہ اس کے بعد، ہمارے جانے کے بعد ہمیں پتہ پڑا کہ ہو ہو بہت کیا لیکن ان کے سامنے وہ کچھ کرنے کی ہمت نہیں کر سکے۔
س : وجہ ۔۔۔؟
ج: ان کا رعب اتنا تھا کہ کوئی ان کے سامنے ۔۔۔
س : کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا تھا۔
ج: ہاں۔ حالانکہ اطلاع بہت تھا کہ کریں گے لیکن کچھ نہیں کیا۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ کوئی کچھ کرنا بھی چاہتا تو نہیں کر سکتا تھا۔
س : وہاں قائداعظم نے لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں؟
ج: وہاں ہر آدمی کو الگ الگ ملتے رہے۔
س : ایسٹ پاکستان کے اس دورے کے دوران میں قائداعظم ڈھاکہ گئے۔ چٹاگانگ گئے۔ وہاں استقبال کی کیا کیفیت تھی؟
ج: دریا کی موجیں جیسے آتی ہیں اس طرح آدمی آتے تھے۔
س : جس طرح مشرقی پاکستان میں پانیوں کے سیلاب آتے ہیں؟
ج: پانیوں کے موافق آدمی تھے اور ان کو کنٹرول کرنا پولیس کے لیے بڑا ۔۔۔
س : مشکل تھا؟
ج: مشکل!بہت مشکل تھا اور یہ کسی سے ڈرتا نہیں تھا۔ یہ چلا جاتا تھا جہاں جی چاہے۔

س : سکیورٹی کی پرواکئے بغیر؟
ج : سکیورٹی کی یہ قطعاً پروا نہیں کرتا تھا۔
س : کہ میرے آگے پیچھے سکیورٹی ہے؟
ج : یہ سکیورٹی مانگتا ہی نہیں تھا۔ لیکن یہ تو ہم سمجھیں کہ زبردستی کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے کو سکیورٹی کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ میں پبلک کا آدمی ہوں۔
س : آپ سے کہا کرتے تھے کہ مجھے سکیورٹی کی ضرورت نہیں؟
ج : ہاں۔ سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن گورنر جنرل کی حیثیت سے ہم کو ان کی سکیورٹی کرنا پڑتی تھی۔
س : آپ کی ذمہ داری جو تھی۔ کل کو کچھ ہو جاتا تو لوگ آپ کو پکڑتے۔
ج : اگر کچھ ہو جاوے تو ہم کو لازمی پکڑ لیتے تو اس کی وجہ سے میں ہمیشہ ان کو بولتا کہ میں اپنے لیے کر رہا ہوں۔
س : گورنر جنرل ہاؤس میں تو آپ اپنے آدمیوں کو چھپا کر رکھتے تھے۔ جب باہر جاتے تو کیا کرتے؟
ج : میں اکثر کر کے Plain Clothes (سادہ کپڑوں) میں جاتا تھا۔ سکیورٹی کا کوئی بھی آدمی یونیفارم میں ان کے ساتھ نہیں جاتا تھا۔ سارے پلین کلوتھ میں جاتے تھے۔
س : آپ لوگ ان کے کتنا قریب رہتے تھے؟
ج : ان سے ہم اتنے فاصلے پر رہتے تھے کہ ہم سن نہیں سکتے تھے کہ کیا بات کرتے ہیں۔ ہم ان کے پیچھے رہتے تھے۔ بہت پیچھے رہتے تھے۔ دوسرا یہ تھا کہ سکیورٹی سٹاف کو میری انسٹرکشنز تھیں کہ وہ قائداعظم سے اتنا فاصلے پر رہیں کہ انہیں پتہ نہ چلے کہ ان کی سکیورٹی ہو رہی ہے۔
س : ایسٹ پاکستان کا آپ ذکر کر رہے تھے ۔ ایسٹ پاکستانیو ں میں قائداعظم کی وہاں آمد پر جوش و خروش تھا؟ ان کے حق میں نعرے لگاتے تھے؟
ج : ہاں۔ بالکل۔ بہت۔
س : ویسا ہی جوش و خروش جو ویسٹ پاکستانیوں میں تھا؟
ج : جیسا ویسٹ پاکستان میں ہم نے دیکھا وہی ایسٹ پاکستان میں دیکھا۔ چٹاگانگ میں بھی یہی حال تھا۔ جہاں ہم گئے یہی حال تھا۔ ڈھاکہ میں قائداعظم چیف سیکرٹری عزیز احمد کے بنگلے میں رہے۔ وہاں گارڈن پارٹی میں بھی شرکت کیا۔ نواب سلیم اللہ ہال میں ایڈریس کیا۔
س : میں پھر اپنے اس سوال کی طرف آتا ہوں۔ آپ نے قائداعظم سے پہلے دو انگریز گورنروں سر ہیوڈاؤ اور سر فرانسس موڈی کو سرو کیا۔ قائداعظم اور ان میں آپ نے کیا فرق محسوس کیا؟
ج : یہ بڑا honest (دیانت دار) آدمی تھا۔ قومی ملکیت کو ضائع نہیں کرنے دیتا تھا۔
س : بڑا سوچ سمجھ کے خرچ کرتے تھے؟
ج : بڑا سوچ سمجھ کے۔ گورنر جنرل ہاؤس کی جو موٹرز تھیں ان کو استعمال نہیں کرنے دیتے تھے کسی کو ذاتی کام کے لیے۔ یہ اتنے بااصول تھے کہ کسی شخص کو گورنمنٹ ہاؤس کی موٹر استعمال نہیں کرنے دیتے تھے۔ ڈیوٹی کے علاوہ کوئی شخص سرکار ی موٹر استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ جب ہم باہر جاتے تھے بھولے جی اکثر کرکے یا نواب صاحب بہاولپور کے بنگلے پر جا کے رہتے تھے۔
س : ان کے ریسٹ ہاؤس میں؟
ج : ان کے ریسٹ ہاؤس میں، ملیر۔ تو ان کی ڈاک، سبزی ، راشن اور اخبارات ، اکثر کرکے اخبار مانگتے تھے۔ یہ سب چیزیں گورنر جنرل ہاؤس سے لانے کے لیے ایک بار موٹر جاتی تھی۔ ان کا آرڈر تھا کہ یہ چیزیں لانے کے لیے ایک بار ہی موٹر جائے گی، دوسری بار نہیں جائے گی۔ اس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے۔ اگر دوسری بار موٹر گئی تو سوال پوچھتے تھے کہ کیوں گئی موٹر۔ اتنا پابند تھا یہ اس چیز کا۔ کسی کو قومی ملکیت خراب کرنے نہیں دیتے تھے۔ نہ سٹاف کو، نہ کسی کو۔
س : بڑا سخت آرڈر تھا؟
ج : کیونکہ خراب ہوتی ہے موٹر خواہ مخواہ۔ نہ سٹاف کو نہ کسی کو موٹر استعمال کرنے کا حق ہوتا تھا۔
س : قومی پیسے کے معاملے میں اس قدر محتاط تھے؟
ج : وہ قوم کا ایک پیسہ بھی فضول خرچ نہ کرتے تھے۔ خرچ کرنے سے پہلے پورا جائزہ لیتے۔ جب دیکھتے کہ اس جگہ پیسہ خرچ کرنا ضروری ہے پھر خرچ کرتے۔
س : گورنر جنرل ہاؤس کے ہاؤس ہولڈ سے چونکہ ڈیوٹی فری اشیاء ملتی تھیں، سنا ہے کہ اگر سٹاف کا کوئی آدمی ہاؤس ہولڈ سے ضرورت سے زیادہ چیزیں لیتا تو اس کا سخت نوٹس لیتے؟
ج : ہاں، پہلے پہلے تو یہ ہوا تھا ، جب لوگ تازے تازے آئے تھے، جب کچھ پتہ نہیں تھا ۔ وہ سب کھانے پینے میں لگ گئے تھے۔ ایک روز وہ حساب چیک کر رہے تھے۔ دیکھا کہ سارا سٹاف تینوں وقت سرکاری کھاتے میں کھانا کھا رہا ہے۔ قائداعظم نے اس کو پسند نہیں کیا۔ بولا۔ ’’قانون کے مطابق میرے اے ڈی سی سرکاری خرچ پر کھانا کھا سکتے ہیں۔ باقی لوگ ڈیوٹی دے کر چلے جاتے ہیں۔ یہ سہولت ان کا حق نہیں‘‘۔ اس کے بعد پھر یہ ہو گیا کہ صرف ان کے اے ڈی سیز ہی سرکاری کھانے سے کھانا کھا سکتے تھے ۔ باقی سب کا بند ہو گیا۔ ملٹری سیکرٹری کا بھی۔
س : سنا ہے بعض لوگوں کو بدعنوانی پر ملازمت سے نکال بھی دیا؟
ج : ہاؤس ہولڈ سے ڈیوٹی فری آرٹیکل (اشیاء )ملتی تھیں تو بعض لوگ لالچ میں آجاتا اور قائداعظم کو پتہ پڑ جاتا تو اس کو ملازمت سے نکال دیتے۔
س : مثلاً؟

Image result for quaid azam rare picsج : کمپٹرولر آف ہاؤس ہولڈ انگریز تھا۔ میجر کرکے تھا۔ قائداعظم دہلی سے اسے لائے تھے۔ انہوں نے حساب چیک کیا تو بولا۔ ’ہم تو صرف دو بہن بھائی ہیں اتنا خرچہ کیسے ہو گیا؟‘‘۔ کیونکہ وہ میجر گڑبڑ کرتا تھا۔ پتہ چلا میجر صاحب خوب کھاتے پیتے رہے۔ وہ شراب پیتا تھا۔ قائداعظم برداشت نہیں کرتے تھے کہ ان کے سٹاف کا کوئی آدمی شراب نوشی کرے۔ اس کو نکال دیا۔ پھر کریم اللہ کو رکھا۔ وہ بمبئی سے آیا تھا۔ وہ بھی چار سو بیس تھا۔ اس کا یہ حال تھا کہ کب ہم لاہور گئے تو وہ مراتب علی سے بولا کہ مس جناح کنجوس ہیں۔ کچھ کھانے کو نہیں ملتا۔ حالانکہ یہ بات غلط تھی۔ کریم اءۂ نے کیا کیا۔ کھانڈ بیچ دیا کرتا تھا۔ قائداعظم کو پتہ پڑا تو اس کو بھی نکال دیا۔ پھر عزیز بیگ کو رکھا۔ عزیز بیگ آخر تک رہا۔ پہلے ملٹری سکرٹری کرنل سینٹ جان برنی تھا۔ انگریز تھا۔ اس کے متعلق پتہ پڑا کہ ہاؤس ہولڈ سے ڈیوٹی فری آرٹیکل خرید کر باہر بیچ دیتا ہے۔اسے بھی نکال دیا۔ اس کی جگہ کرنل نولز آیا۔ وہ آخر تک رہا۔ قائداعظم سرکاری اخراجات میں بہت سخت تھے۔پھر انہوں نے ہر ایک آدمی کا Status (مرتبے) کے مطابق راشن کر دیا تھا کہ اتنا چیز ملے گا۔
س : کوٹہ مقرر کر دیا؟
ج : کوٹہ مقرر کر دیا کہ اتنی سگریٹ ملے گی۔ اتنی یہ چیز ملے گی، اتنی وہ ملے گی کیونکہ ڈیوٹی فری آرٹیکل تھے تو وہ ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔
س : اتنا خیال تھا قومی پیسے کا؟
ج : اتنا خیال تھا قومی پیسے کا ۔ پیسے بچاتے تھے۔ایک پیسہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔
س : قائداعظم کا کوئی رشتہ دار کبھی گورنر جنرل ہاؤس آیا؟
ج : ایک دفعہ شام کے وقت ایک بوڑھی عورت آئی ایک لڑکی کو لے کے۔ میں نے انہیں اپنے کمرے میں بٹھایا۔ جو لڑکا تھا اس کی شکل قائداعظم کے جیسے تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں محمد علی کی چاچی ہوں یا پھوپھی۔ یہ مجھے ابھی خیال نہیں ہے۔ اس نے بولا۔ میں ان سے ملنے آئی ہوں۔ جب محمد علی بچہ تھا تو میرے ہاتھ سے کباب بنوا کے بڑے شوق سے کھاتا تھا۔ میں اس کے لیے کچھ کباب بنا کے لائی ہوں۔ مجھے اس کے پاس جانے دو۔
س : وہ شامی کباب تھے یا عام روایتی کباب، سیخ کباب؟
ج : کباب تھے۔ شامی نہیں۔ میں نے اس کو بتایا کہ ان کو تو ایسا نہیں دیکھا جا سکتا۔
س : اپوائٹمنٹ کے بغیر؟
ج : آپ کباب مجھے دے دو۔ میں بھیجتا ہوں اور ان سے پچھوا لیتا ہوں۔ اس وقت وہاں کوئی اے ڈی سی نہیں تھا۔ اس روز چھٹی کا دن تھا۔ اس لیے وہ کباب میں نے چپڑاسی کو دیئے اور قائداعظم کے نام ایک چٹ لکھی کہ اس طرح کر کے ایک عورت آئی ہے۔ وہ یہ بولتی ہے۔قائداعظم نے کباب رکھ لیے اور کہلوا دیا کہ میں ان سے نہیں مل سکتا۔ ان کو کسی طرح سے ٹال دو۔
س : اچھے طریقے سے؟
ج : اچھے طریقے سے ۔ ان کا انسلٹ نہیں ہووے لیکن ان کو ٹال دو۔ میں نے ان کو بولا کہ قائداعظم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ نہیں مل سکتے آپ کو۔ تو اس ٹائم میں ہم کیونکہ باہر جانے والے تھے تو قائداعظم کی گاڑی آگئی پورچ میں۔ میرا دفتر پورچ کے ساتھ تھا۔ قائداعظم ٹہلنے کے لیے جا رہے تھےunscheduled ۔ شام کے وقت کورنگی یا گڈری روڈ کی طرف سیر کے لیے نکل جاتے تھے۔ بعض دفعہ ان شیڈولڈ جاتے تھے۔ آج بھی ایسا تھا۔ گاڑی دیکھ کے نوجوان اس بوڑھی عورت سے بولا کہ قائداعظم تو جانے والے ہیں۔ اس لیے وہ ہٹے نہیں وہاں سے کہ ابھی تو وہ نیچے اتریں گے۔
س : آپ نے بتایا نا کہ قائداعظم اوپر کی منزل پر رہتے تھے۔ وہیں آفس تھا اس لیے انہوں نے خیال کیا کہ ابھی تو قائداعظم نیچے اتریں گے؟
ج : تو پیچھے جا کے میں اپنے تینوں سپاہیوں کو بولا کہ میرے کمرے کے دروازے پر اس طرح جا کے کھڑے ہو جاؤ کہ یہ آجا نہ سکیں۔
س : آپ نے اپنے تینوں سپاہیوں سے بولا۔ تو کیا آپ کے سٹاف میں تین سپاہی تھے؟
ج : اس وقت وہا ں تین سپاہی تھے۔

Image result for quaid azam rare picsس : آپ نے ان تین سپاہیوں سے بولا کہ دروازے پر اس طرح کھڑے ہو جاؤ کہ قائداعظم کی آمد پر یہ لوگ کمرے سے باہر نہ نکل سکیں؟
ج : باہر نہ نکل سکیں۔ کیونکہ قائداعظم کے حکم پر بالکل عمل کرنا پڑتا تھا۔ نہیں تو وہ بڑے ناراض ہوتے تھے۔ تو میں نے ان کو روک دیا۔ اس کے بعد قائداعظم نیچے اترے۔ انہوں نے بھی دیکھا۔ موٹر میں بیٹھ کے ہم سیر کو چلے گئے۔ واپس آئے جب بڈھی چلی گئی تھی تو دوسرے دن ہم ملیر میں نواب صاحب کے بنگلے پر تھا۔ وہ شام کو سیر کے لیے نکلے۔ ہم پیچھے چل رہے تھے۔ سیر کے وقت مس جناح ان کے ساتھ ہوتیں۔ ایک اے ڈی سی اور میں ان کے پیچھے رہتے۔ اتنے فاصلے پر کہ ہم ان کی بات سن نہیں سکتے تھے کہ کیا بات کرتے ہیں تو جس سے انہوں نے بات کرنا ہوتی با لیتے۔ اب انہوں نے مجھے بلایا۔ بولا انسپکٹر! جو کل آئے تھے جانتے ہو میں نے ان سے کیوں ملنا نہیں چاہا تھا؟ اس کو ہم نے اس لیے نہیں دیکھا کیونکہ میں گورنر جنرل بن گیا۔ لیکن میرا اصول یہ ے کہ کوئی بھی میرا رشتے دار اگر ہم کو دیکھنے آئے گا تو وہ شاید اس کا ناجائز فائدہ اٹھا لے۔
س : میرے ساتھ ملاقاتوں کو وہ ناجائز فائدے اٹھانے میں استعمال نہ کرے؟
ج : اس لیے میں ان کو نہیں ملنا چاہتا تھا۔
س : اس قدر احتیاط کرتے تھے۔
ج : ہاں ۔ لیکن ایسا ہے کہ وہ میرے رشتے دار ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ وہ میرے رشتے دار ہیں لیکن میں کسی کو نزدیک اس وجہ سے نہیں آنے دیتا ہوں کہ وہ اس کا کوئی فائدہ نہ اٹھا لیں۔ ناجائز فائدہ۔
س : میں ملوں گا ہی نہیں تو پھر لوگ کاہے کو انہیں ناجائز فائدہ پہنچائیں گے۔ ان کی تو رشتہ داری مشکوک ہو جائے گی۔
ج : وہ ہم کو بار بار بولتے تھے۔ آپ یہ نہیں سمجھیں کیونکہ آپ میرے سکیورٹی آفیسر ہیں ۔ میں آپ کو کوئی فائدہ دے سکوں گا۔
س : قائداعظم کا بھائی بھی ان سے ملنے آیا تھا؟
ج : مجھے یاد نہیں۔
س : بہن سے بہت پیار تھا؟
ج : وہ بہن کی بہت عزت کرتے تھے۔ہر موقع اور ہر فنکشن پر دونوں بہن بھائی ساتھ رہے۔ صرف ایک فنکشن ایسا ہوا جس میں مس جناح ان کیساتھ نہیں بیٹھے۔ پاکستان بنا تو قائداعظم جلوس کے ساتھ اسمبلی ہال جاتے تھے۔ان کے ساتھ اس وقت میں ماؤنٹ بیٹن بیٹھتا تھا۔ مس جناح دوسری گاڑی میں لیڈی ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ بیٹھیں۔ جب قائداعظم کا وفات ہو گیا تو اسکے پیچھے مس جناح گورنر جنرل ہاؤس سے فلیگ سٹاف ہاؤس (کراچی) شفٹ ہو گئیں۔
س : حسن رضا صاحب راوی ہیں کہ جب وہ45 ء میں قائداعظم کی خدمت میں کوئٹہ حاضر ہوئے تو محترمہ فاطمہ جناح کشیدہ کاری میں مصروف تھیں۔ آپ نے انہیں کبھی اس حالت میں دیکھا؟
ج : نہیں۔
س : آپ کے سامنے کبھی قائداعظم نے اپنی بیٹی کا بھی ذکر کیا؟
ج : میرے سامنے کبھی نہیں کیا اس کا ذکر ہوا۔ ہمارے ساتھ صرف کام کی بات ہوتا تھا۔ جب خوش مزاج ہوتا تو تھوڑا بہت بات کر لیتا تھا۔ وہ بہت کم گو تھے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے۔ فضول بات نہیں کرتے تھے۔
س : اے ڈی سیز کے ساتھ ان کا رویہ کیسا ہوتا؟
ج : جب کوئٹہ اور زیارت میں تھے۔ وہاں گیسٹ آتے تو اے ڈی سی بھی کھانے پر ساتھ ہوتے۔ کراچی میں ڈیوٹی پر موجود اے ڈی سی میز پر ساتھ کھانا کھاتے۔جب کراچی میں ہوتے تو تین میں سے دو اے ڈی سیز کی ڈیوٹی ان کے ساتھ ہوتی۔ باہر جاتے تو ایک یا دو اے ڈی سی ساتھ لے جاتے اور تیسرا یہاں رہتا۔
س : سنا ہے کھانے پر بڑے خوشگوار موڈ میں ہوتے؟
ج : زیارت میں ایک روز کھانے پر بیٹھے تھے۔ مظہر احمد نے قائداعظم سے سوال کیا۔ سر کیا پاکستان اس شکل میں آپ کے تصور میں تھا؟ قائداعظم نے بولا کہ مجھ کو تھوڑا سا بھی شک ہوتا کہ پاکستان اور بھارت اس قسم کا بنے گا تو میں اپنا بنگلہ ایسے ہی نہیں چھوڑ آتا۔ وہاں سے میں ایک چیز بھی نہیں لایا ہوں۔ ان کا مطلب تھا آمدورفت رہے گی۔
س : قائداعظم کورنگی یا گڈری روڈ کی سیر کے لیے روزانہ جاتے؟
ج : کبھی کبھی، جب ٹھیک ہوتے تھے۔
س : ہفتے میں چند روز کے لیے وہ ملیر وغیرہ بھی جاتے؟
ج : ہفتے کے آخری تین دن جمعہ،ہفتہ، اتوار وہ کراچی سے باہر گزارتے۔ کبھی ہاکس بے سے بھی آگے بھولے جی اور کبھی ملیر۔ ملیر میں وہ نواب صاحب بہاولپور کے گیسٹ ہاؤس میں رہتے۔
س : انہوں نے ملیر میں کچھ زمین بھی تو خریدی تھی۔
ج : انہوں نے نواب صاحب کی آدھی زمین خریدی تھی۔ یہ میں نہیں کہہ سکتا انہوں نے نواب صاحب سے یہ زمین کیسے لی۔ یہ تو مجھے پتہ نہیں۔
س : خریدی تھی؟
ج : اس پر ان کا بنگلہ بنانے کا خیال تھا تاکہ نواب صاحب کو بار بار تکلیف نہ دی جائے۔ انہوں نے اس زمین پر بنگلہ بنانے کے لیے آرکیٹیکٹ کو بلایا۔ سب کچھ کیا تھا۔ تو ایک روز احسن صاحب نے مجھے بولا کہ قائداعظم ملیر کے نزدیک جانا مانگتے ہیں لیکن نواب صاحب کے بنگلے میں نہیں۔ اس لیے آپ ملیر کے نزدیک کوئی جگہ ڈھونڈیں جہاں ہم جا کر رہیں۔ میں نے ان کوSuggest (تجویز)کیا کہ ڈملوٹی میں ایک بنگلہ ہے۔ ڈملوٹی واٹر ورکس پر سرکاری بنگلہ ہے۔ وہ نزدیک بھی ہے اور ان کے رہنے کے قابل بھی ہے۔ تو ہم ڈملوٹی میں جا کے رہے۔ شام کا وقت ہوا تو انہوں نے بولا کہ ہم نواب صاحب کے بنگلے کا وزٹ کرے گا۔ وہاں جائے گا۔ زمین پہ جائے گا۔ ہم وہاں پہنچے تو یہ بڑے ناراض ہو گئے ، دیکھ کے کچھ، اور بولا، مالی کہاں ہے؟ نواب صاحب کا منیجر کہاں ہے؟ وہ دونوں وہاں نہیں تھے۔ ان کو دیکھا کہ آئے ہیں، بھاگ گئے تھے۔ انہوں نے احسن صاحب کو بولا کہ آپ کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ہو رہا ہے؟ وہ خیال میں پڑ گئے کہ کیا بات ہے؟
س : سوچنے لگے۔
ج : سوچنے لگے۔ مجھے بولا۔ آپ کچھ دیکھ سکتے ہیں کیا غلط کام ہو رہا ہے۔ میں بولا یس سر۔ بولا کیا؟ میں نے ان کو بتایا اپنا پانی نواب صاحب کے بنگلے میں جاتا ہے تو بولا Yes۔ تو وہاں کنواں تھا جس میں الیکٹرک پمپ لگا تھا تو وہ اس کا پانی نواب صاحب کے بنگلے میں لے جاتے تھے۔
س : اوپن زمین میں؟

Related imageج : اوپن زمین میں لے آتے تھے۔ وہاں وہ لوگ گھاس وغیرہ اگا کر بیچ دیتے تھے۔ پھر انہوں نے ہمیں بولا کہ آپ بندوبست کرو نیا مالی کا اور پمپ مین کا۔ تو جب دوسرے ہفتے ہم ادھر گئے تو ہم وہ دو آدمی لائے۔ بتایا ان کہ کہ یہ مالی ہے، یہ پمپ مین ہے۔ انہوں نے ہم سے بولا کہ ان کہ لگا دو۔ میں بولا، سر چارج لینا ہووے گا ان سے۔ہم وہاں گئے۔ منیجر صاحب بھی ادھر آگئے۔ مجھے بولا۔ کیا تنخواہ ہے؟ ہم نے بولا کہ مالی کا ایک سو بیس روپیہ اور پمپ مین کا ڈیڑھ سو روپیہ۔ قائداعظم نے نواب صاحب کے آدمی سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا دیتا تھا۔ منیجر سمجھتا تھا کہ پانی چوری والا بات میں نے قائداعظم کو بتایا تھا ، اس لیے اس نے تنخواہ گھٹا کر بتائی کہ ہم مالی کو پچاس روپے اور پمپ مین کو پچھتر روپے دیتے تھے۔ قائداعظم میری طرف دیکھ کے بولے۔ you are extra vagant ۔ آپ نے کچھ زیادہ تو فکس نہیں کر دیا؟میں بولا۔ نہیں صاحب۔ گورنر جنرل ہاؤس میں بھی یہی تنخواہ دیتے ہیں۔ایم ای ایس میں بھی یہی دیتے ہیں۔ پی ڈبلیو ڈی میں بھی یہی دیتے ہیں۔
س : آپ نے دیکھ لیا تھا۔
ج : ہم سب دیکھ کے گئے تھے۔ ہم نے بتایا کہ یہی تنخواہ ہوتا ہے گورنمنٹ کا۔ پیچھے میں نے بولا۔ صاحب یہ کام کی تنخواہ لیتے تھے لیکن جو پیدا ہوتی تھی فصل یہ کھا جاتے تھے۔ ابھی یہ فصل ہم کو ملے گی۔ اس سے بہت ہنسنے لگے۔ منیجر کو بولا کہ جواب دو ہمارے سکیورٹی آفیسر کو۔
س : آپ کو وہ نام سے پکارا کرتے تھے؟
ج : انسپکٹر بولتے تھے کیونکہ میرا نام ہنسوٹیا ان کے منہ پہ نہیں آتا تھا جلدی سے۔ اس کی وجہ سے وہ مجھے انسپکٹر بولتے تھے۔
س : ملیر اور بھولے جی جانے کا معمول اخیر تک رہا؟
ج : جب بہت زیادہ بیمار ہو گئے پھر نہیں گئے۔
س : بھولے جی میں قائداعظم کا قیام کہاں ہوتا؟
ج : بھولے جی میں قائداعظم خان بہادر عبدالستار کے hut (جھونپڑی) میں رہتے تھے۔ یہ ہٹ لکڑی کا بنا تھا اور معمولی قسم کا تھا۔ اس میں بجلی بھی نہیں تھی اور ہم لوگ اس کے سامنے والی ہٹ میں رہتے۔ قائداعظم overwork (بساط سے زیادہ کام کرنے) سے اتنا تھکے ہوتے کہ شام کو سمندر کی تھوڑی سی سیر کے بعد آکر سو جاتے۔ بولتے مجھے ڈسٹرب نہیں کریں گے۔ اور یہ بھی آرڈر تھا کہ قریب والی ہٹوں میں جو لوگ رہتے ہیں انہیں کوئی تکلیف نہ دیا جائے۔
س : قائداعظم نے بھولے جی میں بھی تو زمین خریدی تھی؟
ج : ہاں، خان بہادر عبدالستار کے ہٹ کے بازو میں۔
س : خان بہادر عبدالستار زندہ ہیں؟
ج : فوت ہو چکے ہیں۔
س : قائداعظم بھولے جی یا ملیر جاتے تو سٹاف میں سے کون لوگ ان کے ہمراہ ہوتے؟
ج : ایک اے ڈی سی، ایک آبدار، ایک باورچی اور چوتھا میں ہوتا۔
س : جب کسی تقریب میں شرکت فرماتے تو؟
ج : پھر بھی بہت تھوڑا عملہ لے جاتے۔ اکثر کرکے ایک اے ڈی سی۔ ایک ان کا پرسنل اسسٹنٹ سیکرٹری فرخ امین اور تیسرا میں۔
س : اتنا تھوڑا عملہ وہ کس خیال سے رکھتے، خرچ گھٹانے کے لیے؟
ج : ہاں۔
س : قائداعظم لاہور ، کوئٹہ، پشاور ، ڈھاکہ، چٹاگانگ بھی گئے۔ وہاں کیا صورت تھی؟
ج : منیر حسین صاحب!
س : منیر حسین نہیں ، منیر احمد۔
ج : منیر احمد صاحب ، اکثر جب ہم باہر جاتے تھے تو وہ ہوائی جاز جاتے تھے۔ ایک میں یہ خود جاتے تھے، ساتھ مس جناح ایک یا دو اے ڈی سی، دو لے جاتے تو ایک یہاں (کراچی) رہ جاتا تھا۔ جب تک احسن صاحب تھا اسے لے جاتے۔ جب وہ چلا گیا پھر کوئی اور اے ڈی سی ہوتا۔ ایک یا دو ان کے ذاتی ملازم ہوتے اور دوسرے جہاز میں ہم ہوتا تھا۔ ایک ہمارا Orderly (اردلی) ہوتا تھا۔ ایک اے ڈی سی ہوتا تھا۔فرخ امین ہوتا تھا ان کا پرسنل اسسٹنٹ سیکرٹری۔پہلے پہلے ان کا ڈاکٹر تھا کرنل رحمن، وہ ہوتا تھا۔ باقی کوئی بھی سٹاف اس کے ساتھ نہیں جاتا تھا۔ ہم لوگ پہلے جاتے تھے۔

س : کچھ دیر پہلے ؟
ج : ہاں ، آگے نکل جاتے تھے۔ وہاں جا کے سارا انتظام دیکھتے تھے۔ سکیورٹی کے انتظامات دیکھتے تھے۔ اس کے بعد دوسرے دن یا شام کو ان کا جہاز آجاتا تھا۔ جب ہم مشرقی بنگال گئے تھے جب بھی دو ہی جہاز۔ ڈکوٹہ میں گئے تھے جو ہمارا ڈکوٹہ تھا، دہلی میں اترا تھا ایندھن بھروانے کے واسطے۔ دونوں مرتبہ دہلی میں اترا۔ جب واپس آئے تب بھی۔ واپسی پر ہمارے والے جہاز میں ایوب خان بھی ہمارے ساتھ آیا تھا۔ وہ اس وقت مشرقی بنگال میں جی او سی تھا۔ قائداعظم والا جو ڈکوٹہ تھا اس میں ٹینکی بڑھا دی تھی۔ وہ سیدھا ڈھاکہ پہنچا۔ انڈین علاقے میں اتر کے نہیں گیا۔
س : انہوں نے کہا تھا کہ میں وہاں اتروں گا نہیں۔
ج: وہ سیدھا کراچی سے ڈھاکہ چلا گیا تھا اور سیدھا ہی ڈھاکہ سے کراچی واپس آیا تھا۔
س :اس سے وہ یہ تاثر چاہتے ہوں گے کہ ہم ایسٹ اور ویسٹ کے تعلق کے لیے انڈیا پر انحصار نہیں کرتے۔ ایک ہزار میل کے فاصلے کے باوجود۔
ج: ایک ہزار میل کے فاصلے کے باوجود۔
س : اتنا کم سٹاف اس لیے ساتھ لے جاتے تھے کہ قومی پیسہ کم سے کم خرچ ہو؟
ج: ہاں، بہت کم کرتے تھے، بہت کم کرتے تھے، ایک پیسہ فضول خرچ نہیں کرے تھے۔
س : اس طرح وقت بھی ضائع نہیں کرتے تھے؟
ج: وقت کا استعمال بھی اسی طرح کرتا تھا۔
س : زیادہ سے زیادہ؟
ج: زیادہ سے زیادہ۔ میں گورنمنٹ ہاؤس میں دو انگریز گورنروں ڈاؤ اور موڈی کا سکیورٹی آفیسر رہا۔ قائداعظم کے بعد خواجہ ناظم الدین کا بھی رہا۔ سب سے زیادہ وقت کا استعمال قائداعظم کرتے تھے۔ ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔ وقت کی اتنی قدر تھی کہ بغیر کسی کام یا مطلب کے قائداعظم کسی سے بات نہیں کرتے تھے۔ منیر صاحب اس کے بارے میں ایک واقعہ میں بتاتا ہوں کہ جب پہلی عید ہوئی پاکستان بننے کے بعد۔
س :چھوٹی عید۔ عیدالفطر۔ 18 اگست 1947 ء کو؟
ج: ہاں ، تو اس روز یہ ہوا وہ ہر ایک پولیٹیکل لیڈر، ہر ایک سفیر، بڑے بڑیے افسر آئے انہیں عید ملنے۔
س :وہ لوگ اپنے ساتھ تحفے بھی لائے؟
ج:تحفے تحائف لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ قائداعظم تحفے نہیں لیا کرتے تھے۔
س : قائداعظم تحفہ قبول نہیں کیا کرتے تھے؟
ج:نہیں۔
س :خاص دوستوں سے بھی نہیں؟

Image result for quaid azam rare picsج:خاص دوستوں کی اور بات ہے۔ خاص دوستوں سے پھل لے لیا۔ اسے گفٹ نہیں کہہ سکتے ان معنوں میں۔ آخر گورنر جنرل بننے سے پہلے پورے انڈیا میں ان کا آنا جانا تھا۔
س :جب آپ لوگ قائداعظم کے ساتھ پشاور گئے تو مہتر آف چترال نے ان کے سٹاف کے لیے چترالی چوغے تحفہ پیش کئے تھے۔
ج: مجھے نہیں پتہ۔
س :گورنر جنرل ہاؤس میں پاکستان کی پہلی عید کی بات ہو رہی تھی۔
ج:ہر ایک اوپر کی منزل پر چڑھ گیا ان کو ملنے کے لیے اس طرح دوپہر تک ملنے لگ گئے۔ دوپہر کے بعد انہوں نے بلایا اے ڈی سی کو کہ بھئی ان کو کس نے اوپر بھیجا۔ کس کے حکم سے بھیجا۔ انہوں نے بول دیا کہ سکیورٹی آفیسر نے۔
س : انہوں نے ذمہ داری آپ پر ڈال دی۔
ج: میرے پر ڈال دی۔ قائداعظم نے بتایا کہ ’’جب میں بمبے میں تھا اور جب میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ جب میں صرف محمد علی جناح تھا ۔ جب بھی مجھے کوئی بنا اپوائنٹمنٹ نہیں مل سکتا تھا۔ اب تو میں گورنر جنرل ہوں۔ میری مصروفیات بڑھ چکی ہیں اور میرے پاس اتنا عملہ ہے پھر کی بات ہے کہ جس کی مرضی میں آیا اوپر آرہا ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ اصل میں نیا ملک بنا تھا۔ لوگوں کو پروٹوکول کا خیال نہیں تھا۔ میں اس سے پہلے دو انگریز گورنروں کا سکیورٹی آفیسر رہ چکا تھا۔ طریقہ یہ تھا کہ ایسے اہم موقع پر ایک وزیٹرز بک گورنمنٹ ہاؤس کی بلڈنگ میں رکھی جاتی تھی۔ ملنے والے اس پر اپنے دستخط کر کے چلے جاتے تھے۔ ہیڈ آف دی سٹیٹ سے ملاقات ضروری نہیں ہوتی تھی۔ اس کے بعد یہاں بھی یہ طریقہ کیا گیا کہ ایک وزیٹر بک اندر رکھی جاتی تھی۔ یہ بڑے آدمی اور سفیر جو آتے تھے اس پر دستخط کر کے چلے جاتے تھے۔
س :بغیر ملے؟
ج:بغیر ملے۔ وہ ملتے نہیں تھے کسی کو۔ بنا اپوائنٹمنٹ کسی کو نہیں ملتے تھے۔
س :وزیروں کو بھی نہیں؟
ج:کوئی بھی آنہیں سکتا تھا۔ پہلے سے اپوائنٹمنٹ لیتے تھے، اس کے بعد آتے تھے۔
س :ہر منسٹر؟
ج:ہر منسٹر ۔ کیونکہ ہمارے پاس سے ان کو جانا پڑتا تھا اور ہم کو ہمیشہ اندر سے کہلوایا جاتا تھا کہ فلانا آدمی فلانے ٹائم پر آئے گا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ بنا اپوائنمنٹ کوئی نہیں آتا۔
س :کسی کو رعایت نہ تھی۔ سب اسی طرح ملتے تھے؟
ج: سب۔ کوئی شخص ان سے ان شیڈولڈ (طے شدہ وقت کے بغیر) نہیں مل سکتا تھا۔ خواہ منسٹر ہو۔ اسے اپوائنٹمنٹ ضرور لینا پڑتا تھا۔ ہم لوگوں کو ایک کارڈ دیا جاتا کہ آج یہ وزیٹر فلاں فلاں وقت آئیں گے۔
س :لیاقت علی خاں بھی بغیر اپوائنمنٹ نہیں ملتے تھے؟
ج: ایک لیاقت علی خان اور ایک غلام محمد (وزیر خزانہ) ان شیڈولڈ مل سکتے تھے۔ وہ بھی آنے سے پہلے ٹیلی فون پر بول دیتے تھے۔ باقاعدہ ٹائم بھی طے کر لیتے تھے۔
س :اور سردار عبدالرب نشتر؟
ج:نشتر بھی بنا اپوائنٹمنٹ نہیں ملتے تھے۔ قائداعظم وقت کا بہت قدر کرتے تھے۔ بغیر کام کسی سے نہیں بات کرتے تھے۔
س :ہنسویٹا صاحب ! آل انڈیا مسلم لیگ کا جو آخری اجلاس کراچی میں ہوا، 14 اور 15 دسمبر 1947 ء کو، وہ بڑا ہنگامہ خیز تھا؟
ج:منیر صاحب، اس ٹائم میں جو پہلا اجلاس ہوا تھا خالق دینا ہال میں تو میں، مسٹر شریف خان، وہ اس ٹائم میں ایس ایس پی تھا اور ایک اے ڈی سی سکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے جگہ اور انتظام دیکھنے کے لیے خالق دینا ہال گیا۔ جب وہاں پہنچے تو محمود ہارون اور سعید ہارون نے، جو مسلم لیگ کے نیشنل گارڈ تھے اور انتظام ان کے سپرڈ تھا، ہم کو اندر نہیں جانے دیا۔ بولا۔ ’’ہمارا انتظام ہے مسلم لیگ کا۔ اس میں کوئی دخل نہیں کر سکتا‘‘۔ تو اس کے بعد ہم واپس آئے۔ ہم نے آکر رپورٹ کیا ملٹری سیکرٹری کو کہ اگر یہ حال ہے تو پیچھے ہم جواب دہی نہیں لے سکتے۔ کیونکہ نوجوان ہمیں اندر نہیں جانے دیتے۔ اس کے باوجود قائداعظم وہاں جانا چاہیں تو بے شک جائیں۔ ملٹری سیکرٹری نے یہ چیز قائداعظم کو رپورٹ کیا۔ قائداعظم ملٹری سیکرٹری سے بولا ۔ ’’میں گورنر جنرل پہلے ہوں اور مسلم لیگ کا صدر بعد میں۔ جب تک میرا سٹاف میرے ساتھ نہیں جائے گا میں اجلاس اٹینڈ نہیں کروں گا‘‘۔ ہمارا عملہ ضرور جائے گا۔ اندر بھی بیٹھے گا۔ مسلم لیگ کی یہ میٹنگ پرائیویٹ تھی۔ بند کمرے میں تھی۔ کوئی باہر والا اندر آنے کا مجاز نہ تھا۔ ہم تو خالی باہر کی اجازت مانگتے تھے۔ انہوں نے بولا اندر بھی جائے گا ۔ تو اس کے بعد ایک دم صلاح مشورہ ہوا اور مسلم لیگ کی طرف سے ایک سپیشل پاس مجھے ملا۔ ایک احسن صاحب کو ملا جو اے ڈی سی تھا اور ایک شریف خاں کو۔ ہم نے اندر جا کر ہال کا جائزہ لیا۔پھر ہم نے وہ جالاس اٹینڈ کیا۔ قائداعظم اتنے قاعدے کے آدمی تھے۔ ہم تینوں اندر بیٹھے تھے دونوں دن۔ جب ایک دفعہ مسلم لیگ کی میٹنگ وہاں (خالق دینا ہال) ہوئی اور دوسری دفعہ فریئر ہال میں ہوئی۔ دوسرے دن۔ دونوں دن وہاں اندر گئے لیکن یہ (قائداعظم) اتنا قاعدے کا پابند تھا کہ نہیں گیا جب تک ہم کو پاس نہیں مل گیا۔
س :اصول کا معاملہ آگیا اس لیے۔
ج:ہاں۔
س :کہتے ہیں یہ میٹنگز بڑی ہنگامہ خیز تھیں؟
ج:مسلم لیگ کو بھی یہ لوگ بیچ میں ڈالنا مانگتا تھا۔ قائداعظم بولتا تھا۔ ’’مسلم لیگ ایک جماعت ہے۔ اسے حکومتی معاملات میں مخل ہونے کا کوئی حق نہیں‘‘۔
س :تفصیلاً بتائیں۔
ج:جب یہ ہوا تھا، لاسٹ میٹنگ جو اس نے اٹینڈ کی، مسلم لیگ کی ، فریئر ہال میں۔
س :فریئر ہال میں!
ج:پہلے ایک سٹنگ ہوا تھا خالق دینا ہال میں، دوسری ہوئی تھی فریئر ہال میں ۔ اس ٹائم میں یہ لوگ لایا تھا کہ ایک شخص دو عہدے نہیں رکھ سکتا۔ ایک دم مسلم لیگ کا بھی عہدہ دار نہیں ہو سکتا۔ گورنمنٹ میں بھی پوسٹ نہیں رکھ سکتا۔’’وہ لوگ مسلم لیگ سے لیاقت علی خان کو ہٹانا چاہتے تھے۔ اس وقت یہ لوگ بھول گئے کہ قائداعظم مسلم لیگ کے بھی صدر تھے‘‘۔ اس نے اس کو Oppose (مخالفت) کیا۔
س :کس نے؟
ج:قائداعظم نے اس ریزولیوشن کو اپوز کیا کہ یہ کیوں نہیں مسلم لیگ کا عہدہ لے سکتا۔
س :یہ کس نے موو کیا تھا کہ ایک شخص بیک وقت مسلم لیگ کا اور سرکاری عہدہ دار نہیں ہو سکتا؟
ج:یہ لوگ لایا تھا۔ سر فیر وز خان نون اور یہ لوگ۔
س :کہ جو منسٹر ہو یا جس کے پاس کوئی حکومتی عہدہ ہو وہ مسلم لیگ کا عہدہ دار نہیں ہو سکتا۔
ج: وہ مسلم لیگ کا عہدہ دار نہیں ہو سکتا۔ دونوں عہدے نہیں رکھ سکتا۔ یہ لوگ مسلم لیگ کے کانسٹی ٹیوشن میں یہ چینج لانا مانگتا تھا۔ اس وقت اس (قائداعظم) نے بوالا دیکھو نا’’ ایسا ووٹ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے کہ جسے آپ نہیں چاہتے ، آپ اسے ووٹ نہ دیں‘‘۔ آپ نہیں لو اس کو لیکن ضابطہ بنانا تو ایک embargo (بندش) ہو جاتا ہے۔ آپ سمجھ رہے ہیں؟
س : ہاں ، ہاں ۔

Image result for quaid azam rare picsج:تو بولا ۔ پیچھے آپ بولے گا کہ Amendment (ترمیم) لاؤ۔ درحقیقت اس وقت وہ اپنے متعلق کہہ رہے تھے ۔ تو اتنے میں کوئی اٹھ کے کھڑا ہوا ’’سر ہم ایک ترمیم لانا چاہتے ہیں‘‘۔ وہ بولا ۔ ایک دفعہ اگرکانسٹی ٹیوشن میں چینج کیا تو پیچھے ہزار ایمنڈمینٹ آئے گا۔ ایک نہیں آئے گا لیکن پریشان نہ ہوں میں پہلے ہی مستعفی ہو چکا ہوں۔
س :قائداعظم کا مؤقف تھا کہ یہ جو آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایک شخص کے پاس بیک وقت مسلم لیگ کا عہدہ اور سرکاری عہدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے آپ آئین میں نہ لائیں۔ ویسے روایت بنا لیں۔
ج: جب ووٹنگ پاور ہے آپ کے پاس۔
س :تو پھر آپ اس شخص کو مسلم لیگ کا عہدہ دار چنیں ہی نہیں جس کے پاس سرکاری عہدہ ہے۔
ج:اس کو بنائیں ہی نہیں۔
س : کیونکہ وہ تو ووٹرز ہی نے بنانا ہوتا ہے؟
ج:وہ تو آپ بنائیں گے۔ ٹھیک ہے۔ ایک embargo (بندش) کیوں لاتا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا!
س : یہ کس نے کہا تھا کہ دونوں عہدے ایک شخص میں یکجا نہیں ہونے چاہئیں؟
ج:یہ فیروز خاں نون نے کہا تھا۔
س : فیروز خاں نون نے؟
ج: فیروز خان نون نے۔
س :اچھی طرح یاد ہے آپ کو؟
ج:ہاں ، (وہ (فیروز خان نون) بیٹھ نہیں رہا تھا تو اس کو Snub (جھڑک) بھی دیا۔ ’’سٹ ڈاؤن‘‘۔تب انہوں نے اپنا مؤقف پیش کیا۔
س :قائداعظم نے فیروز خان نون سے کہا سٹ ڈاؤن؟
ج:بیٹھ جاؤ۔ میں وضاحت کرتا ہوں۔ تب انہوں نے کہا آپ سخت پابندی کیوں لگانا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس ووٹ ہے۔ آپ اس کے حق میں ووٹ دیں گے تو وہ آئے گا ورنہ نہیں۔
س :کہ یہ اگر ایمنڈمنٹ کرنی پڑی تو پھر پرابلم ہو جائے گی۔ بہتر ہے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرو؟
ج:اس وقت یہ لوگ بولا تھا کہ مسلم لیگرز کو ادھر بھیجو۔ باہر بھیجو۔ قائداعظم بولا ۔ مسلم لیگی کیوں؟ خود حکومت کو یہ کرنا چاہیے۔
س :کون بولا کہ مسلم لیگرز کو بھیجو؟
ج:یہ لوگ بولتے تھے۔
س :جو آئے تھے کونسلرز؟
ج:ہاں۔
س :کہ مسلم لیگرز کو ملک کو باہر بھیجو۔
ج:ملک سے باہر بھیجو پراپیگنڈہ کرنے کے لیے۔
س :پاکستان کے لیے؟
ج:پاکستان کے لیے ۔ وہ بولا۔ یہ کام حکومت کا ہے ۔ مسلم لیگ ایک پارٹی ہے حکومت نہیں۔ وہ سراسر آئینی بات کر رہے تھے۔
س : یہ بات تو تھی نا ان میں؟
ج:تو پیچھے اس نے ریزائن کیا۔ اسی وجہ سے پھر ریزائن کر دیا۔
س :جب پشاور میں قائداعظم اور غفار خان کے درمیان گفتگو ہوئی جیسا کہ این ایچ ہاشمی صاحب نے مجھے بتایا کہ آپ حفاظتی اقدام کے طور پر پردے کے پیچھے چھپ گئے ، مبادا غفار خاں قائداعظم کو کوئی جسمانی گزند پہنچا دے؟
ج:منیر صاحب۔ یہ واقعہ بالکل غلط ہے۔ قائداعظم کی کبھی کسی سے کوئی بھی گفتگو ہوئی یا ملاقات ہوئی تو کوئی بھی ادھر حاضر نہیں ہوتا تھا۔ اے ڈی سی اطلاع دیتا تھا اوریہ بات غلط ہے کہ ہم پردے کے پیچھے تھا یا کوئی بات سنی۔ یہ کبھی نہیں ہوا۔ ایک سال تک میں رہا ہوں یہ کبھی بھی بات نہیں ہوئی ہے۔ اور یہ نہ کسی سے ڈرتا تھا کیونکہ جب سکیورٹی آفیسر کی حیثیت سے میں آدمی رکھتا تھا تو ان کو پتہ پڑ جاتا تو بڑا ناراض ہوتا تھا۔
س :کسی بھی جگہ خواہ جلسہ جلوس ہو؟
ج:ہاں ۔ بولتا تھا کہ اگر میرا موت ہو گا تو آپ ایک ہزار سپاہی بھی رکھے گا تو میں نہیں بچ سکتا۔
س : اتنا یقین تھا۔
ج:اتنا یقین تھا ان کو۔ تو یہ ہم سے ناراض ہو جاتا تھا۔ تو غفار خان کی تو بات ہی نہیں ۔ بلکہ کوئی بھی آتا تھا۔ یہ ہر ایک آدمی کو ملتے تھے۔ ہر ایک قسم کے آدمی کو ملتے تھے۔ باقی یہ تھا کہ کوئی بھی آدمی لکڑی یا اسلحہ لے کر اندر نہیں جاتا تھا۔
س : یہ تو اصولی بات ہے؟
ج:اصولی ہوتی ہے۔
س : یہ تو کوئی بھی نہیں چاہے گا؟
ج:جو ملنے جاتے تھے وہ لکڑی وکڑی باہر رکھ جاتے تھے۔
س : ملاقاتی کی تلاشی لی جاتی تھی؟
ج:نہ کسی کی تلاشی لی جاتی تھی نہ کسی سے کوئی سوال پوچھا جاتا تھا کہ آپ کے پاس کچھ ہے۔ وہ خود ہی باہر رکھ کے جاتے تھے۔
س :ہاں ، قبائلیوں کے پاس اسلحہ وغیرہ تو ہوتا ہے؟
ج:لیکن وہ خود ہی رکھ کے جاتے تھے لیکن کسی کی ہم نے کبھی تلاشی بھی نہیں لی۔
س :گویا قائداعظم اور غفار خان کے درمیان تنہائی میں ہونے والی ملاقات کے موقع پر آپ کا پردے کے پیچھے چھپنے والا واقعہ غلط ہے؟
ج:بالکل جھوٹ ہے۔
س :قائداعظم اور غفار خان کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔ پتہ چلا؟
ج:کوئی ہوتا ہی اندر نہیں تھا۔
س :اس گفتگو کے بس ہ دو ہی رازداں ہیں۔ قائداعظم اور غفار خان؟
ج:یا اس کو پتہ تھا یا قائداعظم کو پتہ تھا۔ دوسرا وہاں کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ کوئی ہوتا ہی نہیں تھا۔
س :ہنسوٹیا صاحب، بعض لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم سخت طبیعت کے تھے۔ وہ ان کے لیے مغرور کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ آپ بطور سکیورٹی آفیسر ان کے قریب رہتے تھے۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟
ج:منیر صاحب، اس کو مغرور تو نہیں بولا جا سکتا۔ لیکن وہ اصول کے آدمی تھے۔ وہ جہاں جاتا تھا وہاں ہزاروں آدمی ہوتے تھے بلکہ لاکھوں آدمی ہوتے تھے۔ ہر ایک آدمی کی خواہش ہوتی کہ اس سے ہاتھ ملائے۔ اگر یہ ہاتھ ملانے جاویں تو ان کا وقت ضائع ہوتا تھا۔ دوسرا ان کی طبیعت اتنی اچھی نہیں تھی۔
س : بیمار رہتے تھے؟
ج:بیمار آدمی تھے۔ تو اس وجہ سے وہ جاب جاتے تھے تو پیچھے ہاتھ کر دیتے تھے اور چلتے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی ان سے ہاتھ نہیں ملا سکتا تھا۔ لیکن وہ ایک اصول کی طرح سے جاتے تھے۔ دوسرے یہ تھا کہ ان کے سامنے کوئی آنے کی اتنی ہمت ہی نہیں کرتا تھا۔ ان کا اتنا رعب ہوتا تھا۔ پبلک پر بھی ہوتا تھا۔ آفیسروں پر بھی ہوتا تھا بلکہ منسٹروں پر بھی اتنا ہی رعب ہوتا تھا۔
س :عوامی اجتماع پر بھی اسی طرح کنٹرول تھا؟

Image result for quaid azam rare picsج:اتنا کنٹرول ہوتا تھا۔ ایک واقعہ یہ ہو گیا کہ پاکستان بننے کے بعد کوئی عرب پرنسز آئے تھے۔ شام کے وقت میں ٹی پارٹی کا دعوت دیا تھا۔
س :گورنر جنرل ہاؤس میں ؟
ج:گورنر جنرل ہاؤس میں۔ تو اس ٹائم میں دلی میں فسادات ہو گئے تھے تو یہاں گورنمنٹ ہاؤس کے باہر کوئی دو تین ہزار آدمی ہوں گے، نعرے مارتے ہوئے وہاں آکے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے دروازہ بند کر دیا، مین گیٹ۔ لیکن کیونکہ ہم کو بار بار کھولنا پڑتا تھا مہمانوں کے لیے۔ اس کے ساتھ وہ اندر آکر گھس جاتے تھے۔ میں ان پر سخت ایکشن بھی نہیں لے سکتا تھا۔
س :ظاہر ہے مہمانوں کے لیے تو دروازہ کھولنا پڑتا تھا؟
ج:مہمانوں کے لیے۔ Invitees (مدعوئین) جب آئے تھے تو ان کے لیے دروازہ کھولنا پڑتا تھا۔ ان کی گاڑی کے پیچھے یہ بھی آجاتے تھے اندر۔ اس طرح کوئی ہزار دو ہزار آدمی اندر جمع ہوگیا۔
س :کچھ باہر بھی رہ گئے ہوں گے؟
ج:کچھ باہر رہ گئے۔ میں نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ پھر بڑا رش ہونے لگا تو انہوں نے (قائداعظم نے) ایس ایم یوسف کو بھیجا۔
س :یہ پولیٹیکل سیکرٹری تھے قائداعظم کے؟
ج:نہیں ۔ یہ ان کے سیکرٹری تھے۔ پرائیویٹ سیکرٹری۔ ان کا پولیٹیکل سیکرٹری تو کرنل شاہ تھا۔ قائداعظم کے زمانے کے بعد افغانستان میں ایمیسڈر بن کے بھی گیا تھا تو ایس ایم یوسف صاحب کو بھیجا کہ بھئی کیا بات ہے۔ تو ہم نے ان کو بتایا کہ یہ قائداعظم سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے بولا کہ قائداعظم نہیں ملنا مانگتا۔ جب بہت یہ ہو گیا تو واپس میں نے لکھا کہ یہ کنٹرول کرنا میرے لیے مصیبت ہوتا ہے تو انہوں نے بولا کہ ان کو وہاں روک دو۔ آگے نہیں آئیں۔ جب پارٹی ختم ہووے گا ۔ دوسری جگہ سے مہمانوں کو نکال دیں گے لیکن ان کو مارنا یا ایسے ایکشن نہیں لینا۔
س :قائداعظم نے کہلا بھیجا کہ ان کو مارنا یا ان پر سخت ایکشن نہیں لینا؟
ج:ہاں ۔ توآخر میں یہ ہو گیا کہ شام ہونے لگی۔ ہم کو ڈر تھا کہ ان کے ساتھ کوئی بدمعاش آدمی بھی گھس جائے گا اندر تو ہم ان کو روک نہیں سکے گا۔ سکیورٹی ہماری خراب ہوتی تھی۔ میں یوسف صاحب کو بولا کہ یہ جاتے نہیں ہیں۔ قائداعظم کم سے کم ان سے کچھ بات کریں۔ آخر میں قائداعظم نے یہ بولا کہ ان کو سامنے لان میں بٹھاؤ۔ جو باہر جانے کا رستہ ہے وہاں ایک چھوٹی لان تھی۔ ادھر بٹھاؤ اور اوپر سے بات کرے گا۔
س : بالکونی سے؟
ج:ہاں۔ اس کے پہلے لیاقت علی خاں ادھر آگیا سمجھانے کے لیے لیکن انہوں نے لیاقت علی خان کو نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وہاں قتل عام ہوتی ہے اور آپ پارٹیاں کرتے ہیں۔
س : دہلی میں مسلمانوں کا جو قتل عام ہو رہا تھا؟
ج:ان کا کہنا یہ تھا کہ پیسے یہاں برباد کرتے ہو، بلڈنگیں بنانے میں اور فرنیچر بنانے میں۔ اس کے بدلے میں آپ ہوائی جہاز بھیج کے ہمارے رشتے داروں کو اور ہمارے جو باقی لوگ رہ گئے ہیں ان کو بلا لیا جائے۔ آخر میں قائداعظم نے بولا کہ میں ان سے بات کروں گا۔ اس کے بعد قائداعظم اوپر آئے۔لوگوں نے نعرے لگائے۔ انہوں نے بولا سٹ ڈاؤن۔ تو ہر ایک آدمی بیٹھ گیا اور pin drop Silence (مکمل سکوت)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *