ووٹ کی بے حرمتی کیا سیاستدانوں نے بھی نہیں کی؟

ansar abbasi

اپنی نااہلی کے بعد میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے ذریعے گھر واپسی کا سفر تو مکمل کیا لیکن ایک نئے سیاسی سفر کے آغاز کا پیغام دے دیا جس کا مقصد ووٹ کے تقدس کی بحالی ہے۔ اسلام آباد سے لاہور تک کے اس سفر کے دوران سابق وزیر اعظم نے بار بار ووٹ کی بے حرمتی کی بات کی اور کہا کہ عوام ووٹ دے کر اپنا وزیر اعظم منتخب کرتے ہیں لیکن چند لوگ ووٹوں کے ذریعے چنے گئے وزیر اعظم کو اپنا دور اقتدار مکمل کیے بغیر نکال باہر کرتے ہیں۔ میاں صاحب بار بار پاکستان کی تاریخ کا حوالہ دےکر لوگوں کو بتاتے رہے کہ کسی ایک وزیر اعظم کو اپنی ٹرم مکمل کرنے نہیں دی گئی جب کہ فوجی ڈکٹیٹرز لمبے لمبے عرصہ تک اقتدار پر قابض رہے۔ میاں صاحب کا کہنا تھا کہ وزرائے اعظم کا اس طرح نکالا جانا دراصل ووٹ کی بے حرمتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا مقصد ووٹ کی حرمت کو بحال کرنا ہے۔ بلاشبہ میاں صاحب نے ایک پرکشش نعرہ کے ساتھ اپنی نااہلی کے فیصلہ کو عوام کے سامنے رکھا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ نے کسی سول حکومت اور وزیر اعظم کو جم کر کام کرنے کا موقع نہیں دیا جس کی وجہ سے ستر سال گزرنے کے باوجود ہم آج تک اپنی سمت کا تعین نہیں کر سکے۔ یہ بھی درست ہے کہ عدلیہ اور فوج کے اس گٹھ جوڑ نے عوام کی ووٹ کی بار بار تزہیک کی۔ لیکن کیا یہ درست نہیں کہ ووٹ کی بے حرمتی سیاستدانوں اور وزرائے اعظم نے بھی کی۔ اگر ووٹوں کے ذریعے چنے گئے وزیر اعظم کو کسی ایک یا کسی دوسرے بہانہ نکالنا ووٹ کے تقدس کی پامالی ہے تو کیا یہ بھی درست نہیں کہ ہماری سو ل و جمہوری حکومتوں نے بھی ووٹ کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے تو ضرور استعمال کیا لیکن ووٹرز سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ کیا یہ بھی ووٹ کی بے حرمتی نہیں؟؟ کیا الیکشن میں کیے گئے وعدوں اور پارٹی منشور کو بھلا دینا بھی سول حکومتوں اور وزرائے اعظم کی طرف سے ووٹ کی بے حرمتی نہیں۔ میاں صاحب نے لاہور میں جی ٹی روڈ مارچ کے اختتامی جلسہ سے خطاب کرتے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ عوام جلد انصاف کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہیں کیوں کہ یہاں نسلیں ختم ہو جاتی ہیں لیکن کسی کو انصاف نہیں ملتا۔ میاں صاحب نے غریب اور متوسط طبقہ کو کم قیمت گھروں کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا۔ یہی وعدے میاں صاحب نے 2013 الیکشن مہم کے دوران کیے ۔ انہی وعدوں کا مسلم لیگ ن کے گزشتہ الیکشن منشور میں بھی تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ لیکن اپنے گزشتہ چار سالہ دور حکومت میں میاں صاحب نے ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ ن لیگ کا پارٹی منشور پڑھیں تو آپ کو اور بہت بڑے بڑے وعدے مل جائیں گے لیکن اُن وعدوں کو اقتدار میں آتے ہی میاں صاحب بھلا بیٹھے۔ کیا یہ ووٹ کی بے حرمتی نہیں؟؟ میاں صاحب نے تو لٹیروں کے احتساب اور نئے احتساب کمیشن بنانے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن اس سلسلہ میں اپنے دور حکومت میں کچھ نہ کیا؟؟ میاں صاحب نے پولیس اور سول سروس کو غیر سیاسی کرنے کا بھی وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ بھی بھول گئے۔ یہی حال دوسری سیاسی جماعتوں کا رہا۔ پی پی پی نے ہمیشہ اپنی سیاست روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرہ پر کی لیکن عوام کو روٹی ملی، نہ کپڑا اور نہ ہی مکان۔ اگرچہ ڈکٹیٹرشپ اور جمہوری حکومت کا کوئی تقابل نہیں لیکن پاکستان کے جمہوریت پسندوں کو ایک بات سمجھنی پڑے گی کہ جمہوریت صرف الیکشن اور ووٹ کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کی زندگیوں کو اُن وعدوں اور اُس منشور کے مطابق بدلا جائے جن کے نام پر عوام سے ووٹ حاصل کیے گئے۔ ووٹ کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کرنا اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو بھلا دینا ووٹ کی بے حرمتی اور ووٹر کے ساتھ مذاق ہے۔ میاں صاحب اگر کچھ بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے اپنے وعدوں کو پورا کریں ،عوام کی زندگیوں میں بہتر حکمرانی اور اصلاحاتی ایجنڈے سے ایسی تبدیلی لائیں کہ لوگ خوشی محسوس کر سکیں، انہیں اپنا آپ بہتر لگے، اُن کی عزت میں اضافہ ہو، سرکاری محکموں میں اُن کے کام رشوت اور سفارش کے بغیر کیے جائیں، حکومتی محکمہ جس کام کے لیے بنے ہوں وہ کام وہ مستعدی سے کریں نہ کہ احسان جتلا کر۔ جمہوریت اور آمریت کے درمیان فرق کو ووٹر اور عوام کے لیے اپنی پرفارمنس اور ڈلوری سے واضع کریں۔ محض نعروںاور وعدوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *