دہشت گردی کو ہم اپنا مسئلہ شمار ہی نہیں کرتے

photo-nusrat-javed-sb-6-2

سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو ہم میڈیا والے بہت پسند کرتے ہیں۔ ان کی وطن سے بے پناہ محبت اور ایمان داری کے چرچے بھی بہت ہیں۔ اس ملک میں امن وامان کے مبینہ طور پر حتمی ذمہ دار ہوتے ہوئے البتہ ان کے چند فرائض بھی تھے۔ ان فرائض کو بہت اہتمام سے تیار ہوئے نیشنل ایکشن پلان میں صراحتاََ بیان بھی کردیا گیا تھا۔ ہم صحافیوں نے مگر اس پلان میں طے ہوئے اہداف کی روشنی میں چودھری صاحب کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی کبھی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔
ایان علی کی ڈالروں سمیت اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتاری کے بعد عدالتی پیشیوں نے ٹی وی سکرینوں پررونق البتہ خوب لگائے رکھی۔ ’’ڈالر گرل‘‘ کا سیزن ختم ہوا تو سندھ حکومت میں وزارتی اختیارات کے ساتھ شامل ہوئے ڈاکٹر عاصم گرفتار ہوگئے۔ ’’ذرائع‘‘ کی مہربانیوں سے ہمیں خبر ملی کہ موصوف کا ذاتی ہسپتال ’’دہشت گردوں‘‘ کو علاج معالجے کی سہولتیں خیراتی انداز میں فراہم کرتا تھا۔ اپنی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عاصم نے JIT کو مبینہ طور پر ’’سب کچھ‘‘ بتا دیا تھا۔ ان کے ’’اعترافی بیانات‘‘ کیمرے کے ذریعے ریکارڈ ہونے کے دعوے ہمارے سامنے آئے۔ چودھری صاحب نے ایک دوبار پیپلز پارٹی کو یہ دھمکی دے کر خاموش کروانے کی کوشش بھی کہ وہ اس ریکارڈنگ کو منظر عام پر لانے کو مجبور ہوجائیں گے۔ ارادہ ان کا بہت مصمم اور نیک تھا۔ اس ارادے پر لیکن آج تک عمل نہیں ہو پایا۔ فی الوقت ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردی کی سہولت کاری نہیں بدعنوانی کے الزامات کے تحت احتساب عدالتوں میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ ان کی عدالتی پیشیاں ٹی وی سکرینوں پر اگرچہ ایان علی کی پیشیوں جیسی رونق نہیں لگا سکتیں۔ ’’مزا نہیں آیا‘‘ والا معاملہ ہو چکا ہے۔
ایان علی اور ڈاکٹر عاصم سے وابستہ جھوٹی سچی کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم اس بات کو قطعاً بھول چکے ہیں کہ پاکستان میں بلوچستان نام کا ایک صوبہ بھی ہوتا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ اس ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ہمارے جنرل راحیل شریف صاحب جنہوں نے تن تنہا انتہائی جرأت و بہادری دکھاتے ہوئے بقیہ پاکستان میں دہشت گردی کی کمر توڑ دی تھی، اس صوبے پر خاص توجہ نہیں دے پائے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں گزشتہ کئی مہینوں سے تقریباً معمول بن چکی ہیں۔
گزشتہ برس اس صوبے کے وکلاء کی ا یک کثیر تعداد ایک ہولناک واردات کا شکار ہوئی۔ اس واردات کا ایک عدالتی کمیشن نے بھرپور جائزہ لیا۔ اپنی رپورٹ میں اس کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان کے تناظر میں وفاقی وزارتِ داخلہ کی کارکردگی کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ پانامہ دستاویزات کے انکشاف کی بدولت خوش ہوئی ہماری قوم اس رپورٹ میں بیان ہوئے حقائق پر لیکن توجہ نہ دے پائی۔
ہفتے کی شب کوئٹہ ہی کے پشین چوک میں دہشت گردی کی ایک اور ہولناک واردات ہو گئی ہے۔ نشانہ اس کے بلاشک ہمارے فوجی اہلکار تھے۔ یہ کالم لکھنے تک شہید ہونے والوں کی تعداد 15 بتائی گئی ہے۔ ابھی تک کسی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی باقاعدہ ذمہ داری بھی قبول نہیں کی۔ مجھے یقین ہے کہ بدقسمتی سے چند مذمتی بیانات اور کھوکھلے دعوئوں کے بعد ہماری ریاست کے سیاسی اور غیر سیاسی حکمران اس واقعہ کو بھی بھول جائیں گے۔
بلوچستان اور خاص کر اس کا صوبائی دارالحکومت مسلسل دہشت گردی کا شکار کیوں ہے؟ اس سوال کو تواتر کے ساتھ ہمارا آزاد، مستعد اور بے باک ہونے کا دعوے دار میڈیا ہرگز نہیں اٹھائے گا۔ دہشت گردی ہمارے میڈیا کا Dominant Discourse ہرگز نہیں۔ ہمیں اصل دلچسپی صرف اور صرف بدعنوان اور نااہل سیاستدانوں کے کڑے احتساب سے ہے۔
پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیراعظم کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے آئین کے آرٹیکل 62 میں بیان کردہ صادق اور امین کے معیار پر پورا نہ اُترنے کے جرم میں اپنے عہدے کے لئے نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا ہے۔ اپنی فراغت کے بعد موصوف نے جی ٹی روڈ کے ذریعے ’’گھر واپسی‘‘ کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ تین روز سے ہم ’’کتنے بند ے تھے‘‘ والا سوال اپنی سکرینوں پر اٹھائے چلے جا رہے ہیں۔
لاہور پہنچ جانے کے بعد سپریم کورٹ سے نااہل قرار پائے نواز شریف نے اگلا قدم کیا اٹھانا ہے۔ اس سوال کے بارے میں گرما گرم مباحثے ہوں گے۔ سکرینوں پر رونق لگی رہے گی۔ بلوچستان میں مسلسل جاری دہشت گردی کے اسباب پر غور کرنے کا کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہو گا۔ اس صوبے میں امن و امان کی ذمہ داری جن قوتوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہے، ان سے ’’سب پر بالادست‘‘ ہونے کی دعوے دار پارلیمان کوئی سوال کرنے کی جرأت ہی نہیں دکھا پائے گی۔ شاید ہماری اعلیٰ ترین عدالت بھی آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت ملے اختیارات کو اس ضمن میں ازخود سوالات اٹھانے کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گی۔
بحیثیتِ قوم نااہل اور بدعنوان سیاستدانوں کا کڑا احتساب ہم نے اپنا مشن بنا رکھا ہے۔ جمہوری نظام کی لاج رکھنے اور اسے توانا تر بنانے کی خاطر یہ کڑا احتساب اب سپریم کورٹ کی ذمہ داری بن چکا ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر گزشتہ 30برسوں سے چھائے شریف خاندان سے اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ ابھی تک وہ صرف وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لئے نااہل قرار پائے ہیں۔ اب باری ہے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت احتساب عدالتوں میں مقدمات چلانے کی۔
مجھے یقین ہے کہ ان کی جی ٹی روڈ کے ذریعے ’’گھر واپسی‘‘ ان مقدمات کو جلد از جلد چلانے میں آسانیاں فراہم کرے گی۔ اس کے بعد گرفتاریاں ہیں۔ ضمانتوں کے لئے پیشیاں ہیں۔ ان سب کی Live Coverage ہو گی۔ اس کوریج کی بدولت ہم دہشت گردی سے متعلق سوالات اٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کریں گے۔ ہمیں شاید اس کے لئے فرصت بھی نہ ملے۔
دریں اثناء ہمارے ہمسایے،افغانستان،میں بھی نومنتخب ٹرمپ انتظامیہ ’’کچھ کرنا‘‘ چاہ رہی ہے۔ اس معاملے کی بابت بھی ہمارے ہاں غور کرنے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کر رہا۔ بدعنوان سیاست دانوں کے کڑے احتساب کے ذریعے عبرت کے نشان بنانے کے بعد جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہمارا قومی مشن بن چکا ہے۔ دہشت گردی کو ہم اپنا مسئلہ شمار ہی نہیں کرتے۔ ربّ کریم ہمارے حال پر رحم کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *