برستے پھولوں میں پھول مسلاگیا

yousuf saraj
 عباسی خلیفہ معتضد کے زمانے میں ایک شخص اپنی حماقت اور مالداری کے باعث بہت مشہور تھا۔ لطف کی بات یہ تھی کہ یہ مالداری اس کی کسی حکمت ِ عملی، دانشمندی یادور اندیشی کا نہیں بلکہ اس کی خالصتاً اور مشہورِ زمانہ حماقت کا نتیجہ تھی۔ یہ دنیا کا شاید وہ واحد احمق تھا ، جسے کبھی کسی معمولی سے تجارتی خسارے کا بھی سامنا نہ ہوا تھا۔ یہ اپنے دوستوں میں بڑے دکھ سے کہا کرتا کہ کاش کاروبار میں خسارے کا کبھی میں بھی درد محسوس کر سکوں۔ اسے گھاٹا کھانے کی بڑی شدیدچاہ تھی۔ یہ کئی دفعہ جان بوجھ کے ایسے سودے کرتاجن میں میں گھاٹا یقینی ہوتا، لیکن قدرت اسے اس میں بھی نفع ہی دے دیتی۔ ایک دن کسی نے مشورہ دیا ، ایک طریقہ ایسا ہے جس میں تمھیں کسی صورت نفع ہو ہی نہیں سکتا، تم یوں کرو کہ کوفے سے کھجوریں خریدو اور بصرہ شہر میں لے جا کے بیچو کہ جو کھجورکے باغات کا مشہور شہر ہے۔ یوں تمھیں ان شااللہ گھاٹا پڑ جائے گا۔ اسے یہ تجویز پسند آئی۔ اس نے کوفہ سے مہنگے داموں کھجوریں خریدیں اور اونٹوں پر لاد کے بصرہ گھاٹا کھانے چل دیا۔قدرت خدا کی دیکھئے کہ جب اس کا قافلہ بصرہ پہنچا ، اس دفعہ بصرہ میں کھجور کے باغات پر کوئی ایسی افتاد آن پڑی تھی کہ بصرہ کے باغات میں ایک بھی کھجور پھل نہ دے سکی تھی۔ یوں اس کی لائی کھجور کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مہنگے داموں اس کی کھجور فوراً فروخت ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ہمارے ہاں سیاستدان وہ طبقہ ہے، جسے فائدے کمانے میں آپ اس عرب کی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ قدرِ مشترک یہ کہ عرب احمق کو ہر موقعے سے فائدہ قدرت کی طرف سے مل جاتاتھا، سیاستدان ہر موقعے سے فائدہ اپنی چالاکی سے اٹھالیتے ہیں۔ سیاستدان خواہ بھینس چوری ، کرپشن ، منصب کے ناجائز استعمال جیسے معاملے میں بھی جیل چلا جائے، وہ قوم کو بتائے گا کہ اس کو یہ سزا قوم سے محبت اور اس کی خدمت کی وجہ سے دی گئی ۔ چنانچہ جب وہ باہر نکلے گا تو لوگ پھولوں کے ہار لئے اس کا استقبال کریں گے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ زرداری صاحب ہماری قوم میں کرپشن کا استعارہ بن گئے تھے۔ ان کیلئے ٹین پرسنٹ اور پھر ہنڈرڈ پرسنٹ جیسے القاب بھی ایجاد کئے گئے تھے۔ مگر جب ان کو جیل میں استقامت سے بیٹھے دیکھا تواور تو اور مجید نظامی مرحوم جیسے ن لیگ کے سرپرست نے بھی انھیں’ مردِ حر ‘قرار دے دیا تھا۔ سیاستدانوں کے سیکنڈل بن جائیں تو بھی یہ ان سے اپنی شہرت کے علاوہ مظلومیت کا موقع نکال لیتے ہیں۔ انھیں موچ بھی آجائے تویہ پریس کانفرنس کرکے بتائیں گے کہ جونہی یہ قوم کے حق میں سٹیپ لینے لگے ، انھیں عین اسی وقت موچ آگئی۔ میاں صاحب اس وقت ملک کے مقبول ترین ، تجربہ کار ترین اور اقتدار کے ایوانوں کے سب سے زیادہ سرد و گرم چشیدہ سیاستدان ہیں۔ حالیہ پانامہ کیس میں انھوں نے وہی کیا جو ایک سیاستدان کو کرنا چاہئے تھا۔ انھوں نے جی روڈ کے ذریعے آئینی فیصلے کو عوام کے ہاں مذاق بنا دیا۔ پہلے میاں صاحب اشاروں کنایوں میں بات کرتے رہے ، جوں جوں وہ پنڈی سے دور اور لاہور سے قریب ہوتے گئے ، کھلتے چلے گئے۔ انھوں نے ووٹرز کو اعتماد میں لیا۔ اپنی مظلومیت کی بات کی۔ عدالت کے فیصلے کو مقتدروں کا شاخسانہ قرار دیا۔ خودکو ملکی ترقی کا نمائندہ قرار دیا، اپنی معزولی کو اس ترقی کی سزا کہا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی یہ تشریح کی کہ انھیں کرپشن سے پاک قرار دے دیا گیاہے۔ یہ کسی نے نہ پوچھا کہ یہ سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں جو نیب کی طرف کیس دائر کئے گئے ، وہ کیاہیں؟ کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ ایک منٹ میں نہیں ججوں نے تو سال بھر سے زائد عرصہ صفائی کو اور جے آئی ٹی کے بعد بھی دو ماہ وضاحت کیلئے دئیے تھے۔ میاں صاحب نے اس سب کو سازش قرار دے دیا۔ بظاہر تو یہ سازش نہیں مگر ملکی تاریخ کو دیکھیں تو پورے یقین سے کچھ کہنا بھی ناممکن نہیں۔ بہرحال میاں صاحب نے پانامہ ہنگامہ میں ہوئی شکست کو اس ریلی کے ذریعے وقتی طور پر ہی سہی اپنی فتح میں بدل دیا۔ سیاستدان اسے ہی کہتے ہیں۔
    ریلی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ صد شکر کہ چند افسوسناک واقعات کے علاوہ یہ معاملہ بہ عافیت اپنے انجام کو پہنچا۔ افسوس ناک واقعات میں ایک تو سخت گرمی میں اپنی ذمے داریاں ادا کرتے میڈیا ورکروں سے لیگی ورکرز کا ناروا سلوک تھا۔ شاید اپنی مرضی کی رپورٹنگ کرتے نہ پا کر لیگی ورکرز نے ان رپورٹرز کی پٹائی کر کے موبائل وغیرہ چھین لیے تھے۔ دوسرا زیادہ دردناک واقعہ اس بچے کا حادثاتی قتل تھا، جو جہلم سے گوجرانوالہ آتے ہوئے میاں صاحب کے سیکورٹی سکواڈ کی تیز رفتارگاڑیوں کے ٹائروں تلے کچلا گیا۔ بچے کے والدین روتے اور چلاتے رہے۔ میاں صاحب پر پھینکے جاتے پھولوں میں ان کا پھول مسلا گیا تھا، ان کی زندگی اندھیر ہو گئی تھی۔ میاں صاحب نے اپنی تقریرمیں اس بچے کا ذکر کیا، ان کے گھرجانے اور ہر طرح کے ازالے کا وعدہ فرمایا۔ اگر سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل ریلی میں سے کوئی ایک گاڑی اس مرتے بچے کیلئے رک جاتی تو ممکن تھا کہ بچے کی جان اور میاں صاحب کے وہ چند کروڑ بچ جاتے جو اب اس خاندان کو دینے پڑیں گے۔ قوم کو افسوس ہوا کہ اتنے بڑے قافلے ، اتنی زیادہ ایمبولینسز اور اتنی گاڑیوں والے قافلے سے جان بلب بچے کے حصے میں ہسپتال جانے کیلئے ایک گاڑی بھی نہ آسکی۔ اسے موٹر سائیکل رکشے میں جان ہارنا پڑی۔ خواجہ سعد رفیق صاحب نے بچے کو جمہوریت کا پہلا شہید قرار دیا۔ لوگوں کو یہ جملہ پسند نہیں آیا۔ اگر اس ریلی کے نتیجے میں ایسی ہی جمہوریت آنی ہے جس کی بنیادوں میں ماؤں کو اپنے بچوں کا خون بہانا پڑے گا تو یہ بڑی خوفناک اور خونی جمہوریت ہوگی۔ عوام تو اپنے جسم و جاں ہی نہیں اپنے حقوق کے تحفظ والی جمہوریت چاہتے ہیں۔
 میاں صاحب کی یہ بات درست ہے ، ہمارے اٹھارہ وزیراعظموں میں سے کوئی ایک بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکا۔ ہمارے وزیراعظم قتل ہوئے ، کوڑوں اور جیل کے کواڑوں کے مستحق ہوئے۔ جلاوطنیوں کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ احتساب بھی ہوا تومخصوص مقاصد کیلئے ٹارگٹ کلنگ کی طرح منتخب لوگوں کا ہوا۔ اس کا حل نکلنا چاہئے۔ میاں صاحب نے پنڈی میں اگرچہ یہ کہا تھا کہ وہ اب مزید وزیراعظم نہیں بنیں گے، گوجرانوالہ میں البتہ انھوں نے عوام سے کہا کہ تم مجھے پھر وزیراعظم بنادو گے۔ میاں صاحب فرما رہے ہیں کہ وہ ملک کو اب حقیقی جمہوریت کا تحفہ دیں گے، توہمیں یقین کرلینا چاہئے کہ میاں صاحب واقعی اب اس کاز کے لئے کام کریں گے۔ امید ہے کہ وہ پہلی فرصت میں پارٹی الیکشن کروائیں گے۔ وہ بلدیاتی الیکشن کروا کے عوام کے ان براہ ِ راست نمائندوں کو اختیار سونپیں گے۔ اب جب کہ میاں صاحب کے بقول یہاں کی عدالتیں ملک کے وزیراعظم کو بھی انصاف نہیں دیتیں تو انھیں اندازہ ہو گیاہوگا کہ نچلی عدالتوں میں ایک عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ یقینا وہ اب اس ملک کے عدالتی نظام کو بھی عام آدمی کے لئے آسان ، سستا اور موثر بنانے میں دن رات ایک کر دیں گے۔ میاں صاحب نے درست فرمایاکہ یہاں عوام کی پرچی جج پھاڑ کے پھینک دیتے ہیں۔ یہ تو خیر کبھی کبھار ہوتاہے مگر یہاں کے ادارے ہر روز عوام کی خودی ، ان کا وقار ، ان کا حق اور ان کی عزت نفس تار تار کردیتے ہیں۔ رشوت اور سفارش پس ِ پشت نہ ہو تو تھانے ، کچہری ،پٹواراور کسی بھی محکمے میں عوام کا ووٹ اسی طرح پھاڑ کے دفتری ڈسٹ بن میں پھینک دیا جاتاہے۔امید ہے کہ میاں صاحب جس جمہوریت کے لئے زندگی وقف کرنے کا اعلان فرمارہے ہیں، اس سے مراد صرف  اہلِ اقتدار اور وزیراعظم کا تحفظ نہیں ہوگا، بلکہ ان عوام کابھی تحفظ ہوگا کہ جن کے ووٹ کی طاقت سے کوئی وزیراعظم وزیرِ اعظم بنتاہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *