جنابِ منصفِ اعلی! تکڑی میں جھول آ گیا

kashif butt

تعصب وہ آسیب ہے جو انسان کے ساتھ لپٹ جائے تو اسے کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ یہ تعصب کسی بھی نسبت سے ہو سکتا ہے بس اس کے اظہار کی ہمت ہونی چاہیے۔ ویسے بھی کچھ خصلتیں انسان میں ایسی پائی جاتی ہیں جنھیں دور کرنا دشوار ہوتا ہے لیکن انسان کے پاس اتنا اختیار ضرور ہوتا ہے کہ وہ انھیں دبائے رکھے۔ اور وہی انسان بہتر ہے جو اپنے جذبات پہ گرفت مضبوط رکھے تا کہ اس کی کسی بات یا کسی فعل سے دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔
اگلے دنوں وطنِ عزیز کے منصفِ اعلیٰ نے ایک ایسا ہی بات کہہ دی جو انھیں نہیں کہنی چاہیے تھی۔ وہ جس منصب پہ بیٹھے ہیں وہاں موجود شخص کو ہر قسم کے تعصب سے بالا ہونا چاہیے۔ لیکن ان کی گفتگو میں جس تعصب اور نفرت کا اظہار موجود تھا اس پہ ہر باشعور انسان حیران و پریشان ہے۔منصفِ اعلیٰ ثاقب نثار نے سرسید احمد خان کے شانے پہ بندوق رکھ کے فائر کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بھی بھول بیٹھے کہ وہ جس منصب پہ موجود ہیں خود اس منصب پہ ان سے قبل ایک صاحب براجمان رہ چکے ہیں اور وہ اسی قوم سے ہیں جن کا جناب ثاقب نثار نام بھی نہیں لینا چاہتے۔ اور مزید یہ کہ اس ’’قوم‘‘ کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں بھی موجود ہے جو خود کو پاکستانی کہلوانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ لیکن ہمارے منصف شاید انھیں اس پہچان سے بھی محروم کرنے کے دے پے ہیں۔ شاید جناب ثاقب نثار خود بھی پاکستان کی تاریخ اور موجودہ آبادی کے بارے میں درست معلومات نہیں رکھتے۔
پہلے ہی وطنِ عزیز میں غیر مسلموں کے ساتھ ناروا سلوک عام ہے ایسے میں اگر منصفِ اعلی بھی اسی انداز کی بات کرے تو معاشرے کی مجموعی فکری سطح کو سمجھنا کوئی زیادہ دشوار نہ ہو گا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ کہاں ہے وہ تہذیب اور اقدار جس کا حوالہ ہم لوگ صبح شام ہر جگہ دیتے پھرتے ہیں۔ کم ظرفی اور تعصب کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ انصاف کی سب سے اونچی نشست پہ بیٹھا شخص عوام پہ نجاست پھینکنا شروع کر دے۔ جناب ثاقب نثار کو کوئی بتائے کہ آپ جو اپنی طرف دیکھنے والوں پہ فوراً توہینِ عدالت کا راگ الاپنے لگ جاتے ہیں۔ آپ نے غلط وقت پہ غلط بات بول کر اس ملک میں موجود ہر غیر مسلم کی بالعموم اور ہر ہندو کی بالخصوص توہین کی ہے۔ آپ کیسے ان غیرمسلموں کو انصاف فراہم کریں گئے؟؟؟ آپ کا باطن تو خود ان سے نفرت میں بھرا ہوا ہے۔۔۔ آپ فرشتے نہیں ہیں کہ آپ کے جذبات آپ کے فیصلوں پہ اثر انداز نہ ہوں۔۔۔ آپ خدا بھی نہیں ہیں کہ جو آپ فرما دیں گئے وہی حق ہو جائے گا۔ لازماً آپ کے فیصلوں پہ آپ کے احساسات و جذبات اثر انداز ہوتے ہوں گئے اور وہ لوگ جو آپ کے مخاطب تھے ان پہ بھی یہ سوال بنتا ہے کہ کیا وہاں موجود کسی میں اتنی اخلاقی جرأت بھی نہ تھی کہ اٹھتا اور پوچھتا کہ جب آئین پاکستان میں موجود ہر شخص کو اس کے عقیدے سے بلند ہو کر مساوی حقوق دیتا ہے تو آپ کون ہوتے ہیں کسی کے عقیدے کو برا کہنے والے۔ ستر برس قبل جب ہندوستان اور پاکستان دو الگ ملک معرضِ وجود میں آئے تھے تو قائداعظم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہندو یا کوئی اور غیر مسلم یہاں اچھوتوں کی طرح زندگی گزاریں گئے۔ لیکن آپ نے اپنے ایک جملے سے سب پہ ظاہر کر دیا کہ ہمارا نظام اور ہماری سوچ کس جانب رواں ہے۔ آج پاکستان کے غیر مسلموں کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ انھیں یہاں انصاف نہیں ملتا۔۔۔ آخر کیوں ان کی بچیاں غائب ہو جاتی ہیں۔۔۔ کیوں خاکروب کی نوکری انھی کے لیے مخصوص کی جاتی ہے۔۔۔ کیوں دفاتر میں کام کرنے والے غیر مسلموں کے زیرِ استعمال برتنوں کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔۔۔ کیوں دفاتر میں غیر مسلم خواتین سے مسلم خواتین کے برعکس توقعات رکھی جاتی ہیں۔۔۔ کیوں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پہ حملے ہوتے ہیں۔۔۔ کیوں ان پہ بے جا الزامات لگائے جاتے ہیں۔۔۔ اور سب سے اہم کہ کیوں انھیں وطنِ عزیز سے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔۔۔ آج ان سب سوالوں کا جواب ان غیر مسلموں کو مل گیا ہو گا جو اس وطن کی محبت میں خاموشی سے ہر ظلم سہتے آئے ہیں۔ آج انھیں احساس دلایا گیا ہے کہ وہ جس چھت کے نیچے پناہ لیے ہوئے ہیں اس چھت میں ایک ایسا شگاف ہے جو بارش ہی نہیں پتھروں کے لیے بھی راستہ فراہم کرتی ہے۔
آج وطنِ عزیز میں ۷۰ ویں یومِ آزادی کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ وہ یومِ آزادی جس نے مسلمانوں کے ساتھ اس ملک کے غیر مسلموں کے لیے بھی تحفظ کا اعلان کیاتھا۔ طے ہوا تھا کہ ۱۹۴۷ء سے قبل کے حالات کا ۱۹۴۷ء کے بعد دونوں ممالک میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن قائد یہ بات نہیں جانتے تھے کہ آنے والے دنوں میں ایک منصفِ اعلیٰ ان کی تعلیمات کے پرخچے اڑا دے گا۔ کچھ عرصہ پہلے جنابِ ثاقب نثار معززین منصفین سے خطاب میں کہہ رہے تھے کہ تکڑی میں جھول نہیں آنا چاہیے۔ تو جنابِ منصفِ اعلیٰ! تکڑی میں جھول تو آ گیا۔ اور وہ تین معیارات جو آپ نے منصفین کی تعیناتی کے لیے بیان کیے تھے ذرا خود ہی ان کی روشنی میں اپنا آپ دیکھ لیجیے۔ اور پھر اپنے ضمیر سے پوچھیے کہ کیا آپ نے خود ان معیارات کی پاسداری کی؟ اور اگر جواب نفی میں ملے تو اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے اس عہدے سے الگ ہو جائیے جس پہ بیٹھنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت انسان کا کسی بھی قسم کے نسلی، لسانی، مذہبی، یا دیگر تعصب سے پاک ہونا ہے۔ اور اگر آپ اب بھی اپنے آپ کو منصفِ اعلیٰ کی نشست کا اہل سمجھتے ہیں اور اس پہ جمے ہوئے ہیں تو آپ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آپ بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو خود کو حرفِ آخر جانتا ہے اور اپنی ہٹ دھرمی اور انا کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے۔
موجودہ حالات میں ہر پاکستانی کو چاہیے کہ اس ناانصافی اور تعصبانہ رویے پہ اپنی اپنی بساط کے مطابق احتجاج کرے اور انصاف و قانون کے لیے آواز بلند کرے۔ ہماری پہچان اس وطن سے ہے اور یہی وہ اکائی ہے جس نے ہمیں قوم قرار دیا ہے۔ ہم سب پاکستانی قوم ہیں اور ہمارے سب افراد ایک سے ہیں۔ نسلی، لسانی، نظریاتی یا مذہبی اکائیاں شناختی اکائیاں ضرور ہیں لیکن ان کی بنا پہ تعصب اور نفرت ہمارا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں رہنے والے کسی بھی پاکستانی کو دوسرے سے سند لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنے خبثِ باطن کا مظاہرہ کرے تو اس پہ چار حرف بھیج کر آگے بڑھ جانا چاہیے کہ اس خطہ میں خدائی کے دعوے دار بہت بڑھ گئے ہیں اور جب کوئی خدائی کا دعوے دار ہونے لگے تو اسے انصاف کے معیارات دکھائی نہیں دیتے۔
منصف سے ماورا ہے ریاست سے ماورا
انصاف اِک سفر ہے عدالت سے ماورا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *