شہیدوں کے خون سے سینچی ہے یہ آزادی

ایمان ملک

eman malik

رمضان المبارک کی ستائیسویں مقدس شب کو معرض وجود میں آنے والا یہ دیس رب کی خاص عنایتوں کا مرہون منت ہے جولاتعداد بین الاقوامی اور داخلی سازشوں کے باوجود نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ ان سازشوں کو زیر کرتے ہوئے آگے بھی بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ ستر سال ہرگز پاکستان کے لئے آسان نہ تھے اسے شدید سیاسی دباؤ، معاشی اورسفارتی بحرانوں کا سامنا رہا حتٰکہ سنہ 1971ء میں اسے دولخت کر دیا گیا مگر پھر بھی پاکستان کی ترقی کا سفررکا نہیں۔ انہی ستر سالوں میں اسے لوٹنے گھسوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کا سلسلہ بھی جاری و ساری رہا مگر پاکستان بتدریج اپنے روشن کل کی جانب قدم بھی بڑھاتا چلا گیا۔ سیلاب آئے، زلزلے آئے، جنگیں ہوئیں، خشک سالی کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر ان تمام تر مصائب و آفات کے باوجود ہماری بہادر قوم نے ہمت نہیں ہاری۔ جس کی بدولت سنہ 1992ء میں پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا اور سنہ 1998ء میں پاکستان ایٹمی قوت بنا۔ اورآج اسے پوری امت مسلمہ میں واحد ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے ایک خاص اور نمایاں مقام حاصل ہے۔
اتنا ہی نہیں کارگل کی جنگ میں ہم نے بھارت کو گردن سے دبوچ لیا تھا۔ اوراپنی فتوحات کی جھنڈے ہم یونہی گاڑھتے گئے۔ اور پھردیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھرمیں دہشت گردی کی لہر اٹھی جس سے پاکستان بھی ہرگز محفوظ نہ رہ سکا۔ اوراس سنہری موقعے کا بھرپور فائدہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سمیت چند دیگر(پاکستان کے لئےخلش رکھنے والے) ممالک نے اٹھایا۔ اور پاکستان کے قبائلی علاقہ جات ، بلوچستان اور پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی سی ایمیت رکھنے والے شہر کراچی میں" پراکسی وار" کے ذریعے دہشتگردی اور فرقہ واریت کے ذہریلے بیج بوئے گئے۔ جن سے نکلنی والی کونپلوں نے ہماری نوجوان نسل کو خاص طور پر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے متاثرکیا۔اوریوں ہمارا پیاراوطن پاکستان ایک نہایت خوفناک دہشتگردی کی آگ کی لپیٹ میں چلا گیا۔ جس نے ہزاروں پاکستانی شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو لقمہ اجل بنایا۔
گزشتہ ڈیرھ دہائی میں ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب ہماری سیکورٹی فورسز کے کانوائے( قافلے) باحفاظت پاکستان کی سڑکوں پر سفر نہیں کر سکتے تھے انہیں خود کش بمبارترجیح بنیادوں پر نشانہ بناتے حتٰکہ ہماری تاریخ نے وہ سیاہ مناظر بھی قلم بند کیئے جب ہماری فوج کے ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) اور نیوی کی پی این ایس محران بیس اور ایئر فورس کی کامرہ بیس (اور متعدد دوسری ایئر بیسز پر) بھی دہشت گرد قوتوں نے دھاوا بولا۔
مگر آفرین ہے ہماری قوم پر جو اس لعنت( دہشت گردی) کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور ہماری سیکورٹی فورسز کے دلیر اور بہادر سپوت اس کے خلاف سینہ سپر ہو گئے۔ جہاں وادی سوات کو ان شرپسندوں سے پاک کیا گیا وہیں جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے چپے چپے اور کونے کونے میں ملٹری آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ جس کے نتائج آج ہم بصورت امن موصول کر رہے ہیں۔ یہ امن ہم نے ہرگز آسانی سے حاصل نہیں کیا۔
"امن"کو پانے کے لئے پاکستان کو لاتعداد قربانیاں دینا پڑیں جن میں اے پی ایس پشاور (سکول) کے ننھے سپاہیوں کی بھی قربانیاں شامل ہیں۔ جن کی شہادت نے خیبر سے کراچی تک ملک و قوم میں ایک نئے ملی جذبے اور قومی اتحاد کی روح پھونک دی جو کہ دہشت گردی کے خلاف پہلی واضح لائحہ عمل "نیشنل ایکشن پلان" کی بنیاد بنی۔ جس سے قوم کو ایک نیا حوصلہ ملا۔
علاوہ ازیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی پولیس سروس بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی اور اس نے بھی بے دریغ قربانیاں دیں جو کہ بلا شبہ لائق تحسین ہیں۔ لہذا اگر تو یہ کہا جائے توغلط نہیں ہو گا کہ پاکستانی قوم اور اس کی سیکورٹی فورسز نے ملکر پاکستان کے حواریوں کی شروع کردہ پراکسی وار کے تانے بانے کاٹ دیئے۔
آج پاکستان کا ہر ادارہ پہلے سے زیادہ پراعتماد اور پر عزم دکھائی دے رہا ہے اور درست سمت کی جانب گامزن ہے جہاں قانون اور آئین کی حکمرانی ہوگی ۔ سب سے پر مسرت بات تو یہ ہے کہ اب ہمارے دیس میں سیاسی اور معاشی دہشت گردی کے خلاف بھی شعور اجاگر ہو چکا ہے۔ اور ان کے خلاف بھی عوامی سطح پر مہم چل نکلی ہے۔ جو یقینی طور پر پاکستان اور اسکی آیئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نہایت خوش آئیند بات ہے۔ کیونکہ اسی سے معاشی و سماجی وسائل کی مساوی تقسیم اور مساوی شہری حقوق کی انجام دہی ممکن ہو سکے گی۔
تمام مزکورہ بالا باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان قدرت کا ایک معجزہ ہے اور اس معجزے کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالٰی نے لے رکھا ہے۔ اور عظیم ہیں وہ لوگ جو اس معجزے کی حفاظت کے لئے اپنے شب و روز ایک کرتے ہیں۔ اور پے درپے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اس وطن کی ماؤں بیٹیوں کی رداؤں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور خوش نصیب ہیں وہ مائیں جو ایسے مایہ ناز سپوتوں کو جنم دیتی ہیں جو اپنی جانیں اپنے ہم وطنوں کے دفاع اور اپنے وطن کی بقاء کے لئے نچھاور کرتے ہوئے ایک پل کے لئے بھی سوچتے نہیں۔ اور عظیم اسلامی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ملک و قوم کے لئے باعث توقیر بنتے ہیں۔ یہ تمام لوگ نہایت خاص ہوتے ہیں اس لئے وہ بلا شبہ اپنے ہم وطنوں کی جانب سے بھی خاص خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
آج ہم بنا کسی خوف اور ڈر کے اپنا 70واں یوم آزادی منا رہے ہیں جو کہ بلا شبہ ہمارے انہی غازیوں اور شہیدوں کی لاتعداد قربانیوں کی مرہون منت ہے۔ اس لئے ہمیں آزادی کے اس پر مسرت موقع پر انہیں اور انکے گھرانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیئے۔ جو کہ ہمارے شہداء کے لازاوال قربانیوں کے امین ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *