ایک خیال 

Image may contain: 1 person, smiling, close-up
اگر بھارت کو سی پیک منصوبے میں شامل کر لیا جائے ۔ اور لاہور سے ایک موٹر وے نکل کر دھلی سے ھوتی آگے چلی جائے ۔ تو ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو صرف اس ایک مد میں اپنے سالانہ بجٹ سے زیادہ آمدن ھو گی۔ پاکستان میں اپنے معاشی اسٹیک زیادہ ھونے کی وجہ سے بھارت خود چاھے گا۔ یہ خطہ پر امن ھو جائے ۔ اور انہی معاشی اور مالی فوائد کی وجہ سے وہ کشمیر کے مناسب حل پر بھی تیار ھو جائے گا۔ اہل یورپ نے ایسے ھی اپنے صدیوں پرانے تنازعات کو حل کیا۔ چین نے ایسے ھی ہانگ کانگ  کو حاصل کیا۔ اور تائیوان سے مل کر چلا۔ اور روس اور جاپان سے دوستی قائم کی۔ آج کے زمانے میں معاشیات اسلحے سے بڑی طاقت بن گئ ھے۔پاکستان کے نقشے پر نگاہ ڈال کر دیکھیں ۔ خطے کے بیچوں بیچ ایک طویل پٹی ایک راہداری کی مانند دینا کے مختلف حصوں کو زمینی اور سمندری راستوں سے  آپس میں ملا رھی ھے۔ اللہ پاک نے ایک قدرتی راہداری ھمیں گفٹ کی تھی۔ ھم نے اسے اپنی معاشی قوت بنانے کی بجائے ایک کمزوری بنا رکھا ہے ۔  دوست بدلے جا سکتے ہیں ۔ ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔ ھم نے ستر سال بھارت سے لڑ کر دیکھ لیا اور اپنے ستر ھزار لوگ مروا لیے۔ اور ملک تڑوا لیا۔
Related image
اب ایک بار ہندو بنیے کو معاشی اور مالی طریقے سے قابو کرنے کی کوشش کرلیں ۔ مضبوط فوج اور ایٹم بم کی چھڑی سے اسے ڈرائے رکھیں۔ لیکن ساتھ ھی سی پیک کی گاجر بھی آفر کر دیں۔ ایک بار یہ ترکیب بھی آزمانے میں کیا حرج ھے۔ چین اپنا یار ھے۔ وہ گارنٹی بن سکتا ہے ۔ ھو سکتا ھے۔ اس طرح ھم لڑے بغیر ھی کشمیر حاصل کر لیں۔ لڑ کر تو لیا نہیں جا سکتا ۔ معاشی بندوبست سے ھماری سرحدیں محفوظ ھو جائیں ۔ خطے میں امن آ جاے۔ دہشتگردی کا خاتمہ ھو جاے۔ ریاست امیر ھو جائے ۔ اور جنوبی ایشیا کے لوگ بھی اھل یورپ کی مانند مل جل کر خوشی اور خوشحالی کی پر امن زندگی گزارنا شروع کر دیں۔ جوانوں کے سینے بارود سے بھر دینے کی بجائے محبت، امن اور دوستی سے بھر کر دیکھ لیں۔ یاد رھے 1964 تک بھارت اپنی تجارت کے لیے کراچی کی بندرگاہ استعمال کرتا رھا ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *