اسٹیبلشمنٹ کیا ہوتی ہے؟

محمد اقبال قریشی

muhammad iqbal qureshi

Image result for establishment

اسٹیبلشمنٹ یا انصرام یا استقرار، عام طور پر پاکستانی تجزیہ نگاروں میں استعمال ہونی والی اصطلاح ہے جو پاکستان میں فوجی حاکمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ پس پردہ ریاستی انتظام کے متعلق یہ افراد، جو مکمل طور پر فوج سے تعلق نہیں رکھتے وہ پاکستان کی سیاست، دفاع اور جوہری پروگرام کے پالیسی فیصلوں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف پاکستان کے جوہری منصوبوں بلکہ دفاعی بجٹ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی اپنے مروجہ نظریہ کے مطابق استعمال کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ ان میں شامل افراد کو ہر طرح سے خفیہ رکھا جاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بننے کے لیے عہدہ چھوٹا یا بڑا ہونا معنی نہیں رکھتا ، بس اسٹیبلشمنٹ کے قوانین اور اصولوں کی پابندی کو مدنظر رکھا جاتا ہے ، یوں سمجھ لیجیے یہ ایک گھوسٹ ادارہ ہوتا ہے جو حساس اداروں سے بھی زیادہ حساس انداز میں اپنا کام کرتا ہے ، اسے خفیہ ہاتھ بھی کہتے ہیں ۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جامع تعریف سٹیفن پی کوہن نے اپنی کتاب “آئیڈیا آف پاکستان“ میں کی ہے:
کوہن کے مطابق پاکستان کی یہ انصرامی قوت دراصل درمیانی راستے کے نظریہ پر قائم ہے اور اس کو غیر روایتی سیاسی نظام کے تحت چلایا جاتا ہے جس کا حصہ فوج، سول سروس، عدلیہ کے کلیدی اراکین اور دوسرے کلیدی اور اہمیت کے حامل سیاسی و غیر سیاسی افراد ہیں۔ کوہن کے مطابق اس غیر تسلیم شدہ آئینی نظام کا حصہ بننے کے لیے چند مفروضات کا ماننا ضروری ہے جیسے:

1 بھارت کے ہر قدم اور ہر چال کا منہ توڑ جواب دینا انتہائی لازم ہے۔
2 پاکستان کے جوہری منصوبے ہی دراصل پاکستان کی بقا اور وسیع تر حفاظت کی ضمانت ہیں۔
3 جنگ آزادی کشمیر جو تقسیم ہند کے بعد شروع ہوئی، کبھی بھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔
4 وسیع پیمانے پر ہونے والی عمرانی اصلاحات، جیسے کہ زمینوں کی مفت تقسیم وغیرہ انتہائی ناپسندیدہ عمل ہیں۔
5 غیر تعلیم یافتہ اور مڈل کلاس طبقہ کو ہمیشہ پامال اور کچل کر رکھنا ہی حکمت ہے۔
6 اسلام پسند نظریہ ہونا انتہائی موزوں بات ہے لیکن اسلام کا مکمل طور پر نفاظ ممکن نہ رہے۔
7 اور یہ کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار رہنے چاہیے لیکن کبھی بھی امریکہ کو پاکستان پر مکمل طور پر گرفت حاصل نہ ہونے پائے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ان کلیدی نکات میں یہ بھی اکثر شامل کیا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ہر حال میں ریاست کے انتظام، سیاست وغیرہ پر گرفت مضبوط رکھنی چاہیے۔
اس کے علاوہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی انتخابات اور انتظام پر اثر انداز ہونے کی پالیسی بھی شامل ہے، جس کے تحت پاکستان میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی جماعتیں اور اتحاد بنائے اور توڑے بھی جاتے رہے ہیں۔ پاکستان کے سیکولر اور لبرل خیالات کے حامل گروہ ان تمام اتحادوں اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل میں پیش پیش رہتے ہیں، اس کی ایک مثال متحدہ مجلس عمل ہے جو پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب معلومات آپ کو کسی بھی ویب سائٹ سے بآسانی مل سکتی ہیں ، بس آپ نے گوگل پر سرچ کی زحمت کرنا ہو گی ، لیکن اگر آپ اتنی سی بھی زحمت نہیں کر سکتے تو اسی انصافی بلاگر کی پوسٹ پر پرانی پاکستانی فلموں کی ایکسٹرا اداکارائوں کی طرح آہو نی آہو کرتے رہیے !!! بقلم خود محمد اقبال قریشی
نوٹ : درج بالا تحریر کا مقصد لائیکس کا حصول نہیں بلکہ شعور کا بیج بونا ہے ، مجھے یقین ہے ہمیشہ کی طرح میں اپنی اس کوشش میں ناکام ہی رہوں گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *