میری تقریر پڑھنے کے قابل نہیں تھی، آرمی چیف کا انکشاف

Related image

اسلام آباد:بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملک کے سترویں یوم آزادی کے موقع پر بھارت کی سرحد پر کھڑے ہو کر قومی پرچم کو سربلند کرنے اور پاکستان کے دشمنوں کو زور دار پیغام دینے پر طمانیت ملی ہے۔دی نیوز کے ساتھ جناح کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی تقریب کے بعد خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ واہگہ کی سرحد پر پرچم کشائی کے موقع پر فی البدیہہ خطاب کرنا پڑاتھا کیونکہ ان کی تقریر بارش کے باعث بھیگ کر پڑھنے کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔جنرل قمر باجوہ پہلے آرمی چیف ہیں جنہوں نے زمانہ امن میں بھارت سے متصل  سرحد کی راہداری پر کھڑے ہو کر بھارتیوں کو پیغا م دیا ہے کہ وہ اس حرکتوں اور ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں جناح کنونشن سینٹر کی تقریب میں دیگرممالک کے علاو ہ سعودی عرب کے سفیر نواف الملکی اوربھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالا بھی موجود تھے جبکہ امریکی سفیر نظرنہیں آئے۔تقریب کے انتظام وانصرام کیلئے اسلام آباد کے میئرانصر عزیز شیخ اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت محترمہ مریم اورنگزیب اورکیڈ کے وزیرمملکت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بہت سویرے کنونیشن سینٹر آگئے اور انہوں نے پورے بندوبست کی خود پڑتال کی۔ تقریب کے اختتام پر قومی اسمبلی کے اسپیکر سردارایاز صادق اور سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی ایک ہی گاڑی میں پارلیمنٹ ہائوس کیلئے روانہ ہوئے جسے سردار ایاز صادق چلا رہے تھے۔اس موقع پر میاں رضا ربانی سے دریافت کیا گیا کہ انہوں نے مختلف اداروں کے درمیان مکالمے کا ڈول ڈالنے کا جو اعلان کر رکھا ہے ’’برترقوتوں‘‘ کی طرف سے انہیں کوئی جواب ملا ہے تو چیئرمین سینیٹ نے بذلہ سنج ہو کر کہا کہ جب کوئی پیغام جائے گا تو جواب ملے گا۔ بعدازاں سردار ایاز صادق اور میاں رضا ربانی نے پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے جمہوریت کے نشان پر گلدستے رکھے اور سلامی لی۔جناح کنونیشن سینٹر کی تقریب کے اختتام پر صدرممنون حسین کو وزیر عظم شاہد خاقان عباسی، سردار ایازصادق اور میاں رضا ربانی نے رخصت کیا جبکہ چین کے نائب وزیراعظم وانگ یانگ کو رخصت کیاگیا تو انہوں نے اسپیکر سردار ایاز صادق سے مختصراً گفتگو کی وہ اپنے دورئہ پاکستان پر بہت خوش تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *