سیاسی لیڈر ، بھگوڑے گیڈر

razia syed

آج کا دن تو بہت ہی منہوس ہے کہ صبح ہی صبح گلی کے ایک لیڈر سے پالا پڑ گیا ، ہم نے دامن چھڑا کر سائیڈ سائیڈ سے نکلنا چاہا تو بس راستہ روک کر کھڑے ہوگئے ’’آخر بٹیا تم جا کہاں رہی ہو؟ آج شام تو ہم نے بڑے والے پلے گرائونڈ میں جلسہ رکھا ہے ، آجانا یاد سے ، گانے والے بھی بلوائے ہیں ِ اور کیا یاد کرو گی تم ، تمھیں ’’ ڈی جے بٹ ‘‘ نہ بھلوا دیا میں نے  تو انکل طارق نہ کہنا ۔ ‘‘

بالکل طارق انکل جنہیں آج کل لیڈر بننے کا شوق ہوا ہوا ہے ، گلیاں ہیں تو وہ ان کے نام کی جھنڈیوں سے سجی ہیں ، ریکارڈنگ فل آواز میں لگی ہوئی ہے ، بچے ناچ رہے ہیں ،ٹینٹ والوں کی موجاں ہی موجاں اور ہم ہیں کہ بس سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ ان کی درخواست کیا ہمیں حکم ہے کہ ان کے جلسے کی کوریج  نہ صرف ٹی وی پر کروائیں بلکہ اخبار میں بھی کم ازکم دو کالمی خبر تو ہونی ہی چاہیے

ہماری تو پوچھئے ہی نہیں سوچ رہے ہیں کہ کونسا برا وقت تھا جب ہم نے صحافی بننے کی ٹھان لی تھی اور یہ سوچا تھا کہ معاشرے کو اپنی تحریروں سے سلجھائیں گے ، یہ الگ بات کہ سمجھتے ہم اپنے آپ کو افلاطون ہی ہیں ورنہ دیکھئے ناں جس بندے کی تحریریں ہی ٹیٹرھی میڑھی ہوں اس سے معاشرہ تو کیا خاک اسکا گھر تک نہیں سلجھے گا کیونکہ چولھا جو نہیں جلے گا ۔۔

چلیں اب آپ کو  مزید سسپنس میں کیا رکھنا ، شام ہوئی ہم اپنے چینل کا ایک کیمرہ مین لے کر جلسہ گاہ میں پہنچے اور سمجھا یہی کہ بس شاید حاضرین نے سیلمانی ٹوپی پہن رکھی ہے جو ہمیں دکھائی نہیں دے رہے ، ابھی ہم جلسے کے شرکا کو تلاش کر ہی رہے تھے کہ انکل نمودار ہوئے اور کہنے لگے کہ بس بٹیا سب آتے ہی ہیں ، تم پہلے آگئیں اب مجھے کیا پتہ تھا کہ تمھارا سب سے ’’تھکا ہوا ‘‘ اور ’’ویلا ‘‘ چینل ہے ۔

خیر خدا خدا کرکے آگے کی تین نشستوں پر بچے بوڑھے ، مائیاں ، تائیاں سب بٹھائیں اور جلسے کا آغاز ہوا اور انکل نے کہا کہ ان کی انسرشنزز بنائو ہمارا کمیرہ مین اب دہائیاں دے کہ انکل ایسا نہیں ہوتا ، خالی کرسیاں ، تو انکل کہنے لگے ’’تم لوگ مجھے بنائو نہیں ، کبھی خان جی کا جلسہ دیکھا ہے سب لوگ ڈی جے کی طرف ہوتے ہیں ، وہاں بھی کرسیاں  خالی ہی ہوتی ہیں یا زیادہ سے زیادہ چند کرائے کے ’’بھالو‘‘ ہوتے ہیں ۔

 پھر شروع ہوا انکل کا خطاب ، اب تو جو انکل نے تقریر کی واہی تباہی کی پہلی تین نشستوں پر بیٹھے ہوئے مجاہدوں نے بھی توبہ توبہ کر لی۔ ، انکل کی تقریر کا لب و لباب یہ تھا کہ ’’بھائیو اور بہنو ، مجھے کبھی نااہل نہ کرنا  ،محلے کی ترقی کے لئے میرا کردار کسی سے چھپا نہیں ، دیکھو میں نواز شریف سے بڑا لیڈر ثابت ہوں گا آپ سب مجھے موقع تو دیں اور اتنی ہی دیر میں ’’موقع موقع ‘‘ والا گانا بجا دیا گیا ۔ ’’اوہ کم بختو مجھے ابھی بولنے تو دو جی ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ یہ گلیاں جو ٹوٹی پھوٹی ہیں سب مرمت ہوں گی ۔‘‘ اچھا کیسے یہ بھی تو بتا دیں رات تو گلی ٹھیک تھی صبح چھ بجے آپ کے دو بندے آکے ٹھیکا ٹھوکی کرنے لگے اور وقت تھا فجر کا تاکہ کوئی ان کو پکڑ نہ سکے ، یہ آواز تیسری نشست سے آنے والی آنٹی سلیمہ کی تھی

۔ابھی انکل کچھ کہنے کے لئے منہ کھولنے ہی والے تھے کہ تایا شبیر نے کہا ’’چھیتی کر طارق ، جہیڑا سپ کنڈا این کڈ ، تیری تائی  نے مینوں سبزی لین استے بھیجیا سی ، توں منیوں کیمرے آگے بال دتا ۔‘‘

تایا شبیر کے اٹھتے ہی سارا محلہ اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھ گیا کیونکہ وہ جاتے ہی یہ کہہ گئے تھے ’’ ایہدے تے مٹی پائو ، اٹھ کے روٹی  شوٹی کھائو ‘‘ اب بھگوڑا کون ہے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہو گی ناں ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *