ہماری تہذیب

Afshan Huma

 حال ہی میں مجھے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی فنی و ثقافتی کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا۔ اگست کے مہینے کی مناسبت سے میں نے سوچا ہے کہ ایک جشن کا اہتمام کیا جائے۔ ہمارے ملک کو آزادی ملے ستر سال پورے ہورہے ہیں۔ اس ملک کے رہنے والوں کے لیے اس سے زیادہ خوشی کا دن اور کونسا ہوگا۔ برطانوی کالونی کا خاتمہ اور بر صغیر کے مسلمانوں کی اپنی ایک آزاد ریاست کا قیام۔ یہ جملہ اپنے اندر ایک بہت بڑی جدو جہد کی داستان سموئے ہوئے ہے۔ کالونی کیا ہوتی ہے۔ مذہب رنگ اور قوم کی بنیاد پر ہمارے آباء نے جو ظلم و جبر سہا اور اس کا سامنا کرتے ہوئے اس وقت کے رہنمائوں نے قوم کو جیسے اس اندھیرے طوفان سے باہر نکالا وہ کسی خواب یا تصور کی داستان لگتی ہے۔ کیونکہ میں اس ملک کی تیسری نسل ہوں اور میں نے نہ تو وہ جبر دیکھا، نہ ظلم سہا نہ ویسے رہنماء پائے۔ میرے لیے اس سب کی حقیقت صرف اور صرف تاریخ کی کتابوں اور میری نانی اور دادی کی کہانیوں سے جڑی ہے۔ لیکن میں خوش قسمت ہوں کہ میں نے یہ کہانی اس نسل سے سنی جو آزادی کے وقت نہ صرف موجود تھے بلکہ انہوں نے ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں اور آزادی و غلامی کی ہوا میں سانس لیا۔ وہ بتا سکتے تھے اور بتا تے رہے کہ یہ کس قدر بڑا فرق ہے۔ غلامی کی  نہ تو صبح ایسی روشن ہوتی ہے نہ شامیں ایسی پر سکون۔

لہذا میں نے اپنے ساتھیوں سے بات چیت کی کہ کیوں نہ اس سال آزادی کی سترہویں سالگرہ پر جوش انداز میں منائی جائے۔ میں نے اپنے تئیں اس پر تحقیق شروع کی کہ اس جشن میں کیا ہونا چاہئے۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بات کی تو نتیجہ یہ نکلا کہ اس موقع پر بہترین طریق یہ ہو گا کہ ہم اپنی تہذیب کو اجاگر کریں تا کہ ہماری ستر سالہ بزرگ نسل اور نئی نسل اپنی تہذیب سے ایک جگہ اور ایک طرح محظوظ ہو سکیں ۔ میں نے معلومات حاصل کرنا شروع کی کہ ہم اپنی تہزیب سے کیا مراد لیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ تہزیب کے عناصر کون کونسے ہیں۔ میرے ناقص علم کے مطابق ان میں زبان، لباس، رہن سہن، خوراک، موسیقی، شاعری، تخلیقی فنون، فن تعمیر، دستکاری،کے ساتھ ساتھ اقدار، تہوار، میلے اور مذہبی روایات سب شامل ہیں۔ یہاں تک پہنچ کر معاملہ کچھ گھمبیر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اب میں اس شش و پنج میں تھی کہ پاکستان کی تہزیب کو ایک جگہ اور ایک وقت میں سمونا کس قدر مشکل ہو گا۔ کیا پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں اور پاکستان میں کھائے جانے والے کھانے نیز یہاں جنمی موسیقی اور فن پارے ایک محدود وقت میں انجوائے کیے جا سکتے ہیں؟ آخر کار ہم نے سوچا کہ 14 اگست پر تو ایک یوم آزادی کی تقریب کی جائے اور پھر اگست کے مہینے کے آخر میں ایک ہفتہ بھر کی تقاریب کا اہتمام کیا جائے جس میں ملک کے تمام حصوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے بعد ہوا یوں کہ یوم پاکستان 14 اگست 2017 آ گیا۔رات بارہ بجے سے لے کر جانے کس وقت تک لوگوں کے جذبات رہائشی علاقوں میں بم کی طرح پھوٹتے رہے۔ بحر کیف میں صبح صبح اٹھی اور یونیورسٹی کی پرچم کشائی کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہوئی۔ سڑکوں پر ہو کا عالم بتا رہا تھا کہ قوم نے گزشتہ رات بہت جشن منا ڈالا ہے۔ یونیورسٹی میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں یونیورسٹی کی کالونی میں رہنے والے خاندان شامل تھے۔ ہال کھچا کھچ بھرا تھا اور بچوں نے انتہائی محنت سے ملی نغمے اور تقاریر تیار کر رکھی تھیں۔ بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ اس کے بعد مجھے ایک نجی تقریب میں شرکت کے لیے گوجرخان جانا تھا۔ اپنی ستر سالہ تہذیب کا شدت سے احساس تھا اس لے میں نے اکیلے جی ٹی روڈ پر ڈرائیو کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اپنی دو دوستوں کو ہمراہ لے لیا۔ ان دونوں کی موجودگی ہمیشہ اس بات کی ضامن رہتی ہے کہ ایک اکیلا دو گیارہ اور تین تیتیس۔ ہم تینوں نے موٹر وے پر تو کافی مرتبہ اکٹھے سفر کیا ہے لیکن جی ٹی روڈ پر تقریبا" ایک گھنٹے کا یہ پہلا سفر تھا۔ تمام ڈرائیورز کا یہ مشترکہ نصب العین لگ رہا تھا کہ وہ ہمیں ضرور اوور ٹیک کریں گے اور اگر ہم پہلی لین میں 100 یا 110 کی سپیڈ پر بھی ہوں تو بھی ہمیں ڈپر اور ہارن دینا لازم ہے۔ میں نہیں جانتی کہ مرد ڈرائیورز کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے یا نہیں کیوں کہ میں ہمیشہ سے ایک خاتون ہی ہوں اس لیے میری کسی بات کو بھی مرد حضرات مائینڈ نہ فرمائیں۔ کل سے مجھے شدید احساس ہو چکا ہے کہ ستر سالہ تہذیب میں اور کچھ پروان چڑھا یا نہیں مردوں کی عزت نفس بحیثیت ڈرائیور کافی بلند ہے۔ وہ اپنے سے آگےکیا  دائیں بائیں بھی کوئی گاڑی برداشت نہیں کرتے۔

پنڈی سے گوجر خان کے راستے میں ہم نے آزادی مناتے ہوئے جوانوں کی دو ریلیاں بھی دیکھی۔ ماشاءاللہ ان کی قومی یکجہتی تو دیدنی تھی۔ کاروں کی کھڑکیوں سے باہر نکلے ہوئے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار جوان، موٹر سائیکلوں پر سوار پر جوش بچے جوان اور نسبتا" بوڑھے یقینا" ایک اور آزادی لینے جا رہے تھے۔ قانون، شرم، لحاظ، اد ب احترام اور تہزیب سے آزادی۔ انہیں کوئی سگنل نہیں روک سکتا۔ کوئی اقدار آڑے نہیں آتیں جب وہ ہوٹنگ کرتے ہوے خطرناک حدوں کو چھوتی ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ مجھے امانت چن کے سٹیج ڈرامے کا ایک ڈائیلاگ یاد آ رہا ہے "یہ بہدری نہیں بیوقوفی ہے"۔ اس قوم نے ستر سالوں میں تہذیب کو جیسے پیچھے چھوڑا ہے اس کا تعین ٹی وی پروگرامز سے لے کر کل رات بارہ بجے تک کے پٹاخوں اور شور شرابے سے مکمل طور پر کیا جا سکتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار اس تہذیب کا ایک خاصہ بنتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو بچوں کے ہاتھوں میں موبائیل دیتے ڈر لگتا ہے لیکن موٹر سائیکل یا کار دیتے نہیں۔

اب میں سوچ میں ہوں کہ وہ جشن جو مجھے منانا تھا وہ کس بات کا جشن ہو گا۔ ستر سالہ آزدی کا یا اپنی اقدار کھو دینے کا، غلامی سے نجات کا یا شرم لحاظ اور تہزیب کھو دینے کا؟ ہم نے اپنے لخت جگر گنوا دیے، مائوں کی گودیں اجاڑ دی، جوانوں کے خون اپنے ہی ہاتھوں بہا دیے کبھی رنگ، نسل، زبان اور کبھی مزہب کے نام پر۔ شاید جشن نہیں منایا جانا چاہئے۔ شاید فکر کی ضرورت ہے۔ یہ تمام رنگ جو  تہذیب کی خوبصورتی ہیں ہم انہیں رنگوں کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں سوائے اپنے رنگ کے اور کو ئی رنگ بھلا ہی نہیں لگتا۔ ہمیں قدر ہی نہیں کہ ایک چھوٹے سے خطہ میں اللہ کی اتنی عنایات کا ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ میں ایک ہفتہ کی تقاریب ضرور منائوں گی اور اپنے ساتھیوں کو بھی کہوں گی کہ میرا ساتھ دیں لیکن ان تمام تقاریب میں ایک ہی پیغام ہو گا ، امن کا پیغام۔ ایک دوسرے سے ذیادہ بلند آواز، ایک دوسرے سے ذیادہ ولولہ انگگیزی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی نہیں سراہنے کی تہزیب۔ آپ دعا کیجئے گا اللہ ہمیں ہماری اقدار واپس دے دے۔ آمین

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *