مشکیزہ۔۔۔بلوچستان میں آج بھی بنتا اور استعمال ہوتا ہے

zareef baloch
ظریف بلوچ
کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے.ایجادات قوموں کی تہزیب و تمدن اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں.بلوچستان جو کہ قدیم ثقافت اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے.ماضی میں بجلی کی سہولیات موجود نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مشکیزہ بناکر سرد اور ٹھنڈے پانی پیتے تھے.
مشکیزہ جیسے بلوچی زبان میں "مشک"کہا جاتا ہے زمانہ قدیم سے پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مشکیزہ کو ایجاد کیا گیا اور مشکیزہ بنانے کا کام کافی مشکل اور کھٹن ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس کو بناتے ہیں اور زیادہ تر بلوچ خواتین مشکیزہ بنانے کا کام کرتے ہیں.مشکیزہ بنانے کے لئے بکری اور بکرا کا کھال استعمال کیا جاتا ہے.بکری اور بکرا کو ذبح کرنے کے بعد کھال کو  اتارنے میں کافی احتیاط کیا جاتا ہے کہ اس میں سوراخ نہیں ہو .اور سوراخ ہونے کی صورت میں کھال مشکیزہ بنانے کے لئے کام نہیں آتا ہے.یہ کام بھی ماہر لوگ ہی کرتے ہیں.کھال کو اتارنے کے بعد تقریبا چار ہفتوں تک اس تازہ چمڑے کو سورج کی تپش میں رکھ کر خشک کیا جاتا ہےاور پھر کیکر کے چھلکے لیکر انکو گرم پانی میں ابالا جاتا ہےاور دس دن تک ہیی پانی کھال میں رکھا جاتا ہے.جس سے یہ چمڑہ مضبوط ہوجاتا ہے اور پھٹنے کی خطرہ ٹل جاتا ہے اور پھرریشم کے دھاگوں سے غیر ضروری سوراخ بند کرکے صرف پانی ڈالنے اور نکالنے کے لئے ایک بڑا سوراخ رہ جاتا ہے . پانی رکھنے کی وجہ کھال کی اصل رنگت تبدیل ہوجاتی ہے اور یہ یک دم سرخ کلر میں تبدیل ہوجاتی ہے.اور کھال مضبوط اور پائیدار بن جاتی ہے.
Image result for mashkeeza
بعد میں مشکیزہ براؤن کلر کا بن جائے گا جو اس کا اصل شکل کہلائے گا.مشکیزہ کو بلوچ ثقافت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اس حوالے سے معروف بلاگراور مقامی صحافی غلام یاسین بزنجو کہتے ہیں کہ مشکیزہ کو لوگ پانی ٹھنڈا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور مشکیزہ میں پانی رکھنے سے اسکی رنگت اور ذائقہ برقرار ہوگی.انکا کہنا ہے کہ مشکیزہ کی تیاری کا مرحلہ انتہائی مشکل اور کھٹن کام ہے جسے آج بھی مکران کے دہیی علاقوں میں استعمال کیا جارہا ہے.اور جب ماضی میں پوری دنیا میں پانی ٹھنڈا کرنے کے ذرائع نہ تھے تو بلوچوں نے اپنی ضرورت کے پیش نظر مشکیزہ بناکر دنیا کو فریج اور ڈیفریزر بنانے کا آئیڈیا فراہم کردیا...
رائٹر اور محقق گلزار گچکی کا کہنا ہے کہ جب انسانوں نے گاؤں کی صورت میں رہائش اختیار کرنا شروع کیا تو قحط کے دنوں میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے آغاز خیال کیا.اور تب سے مشکیزے کا استعمال شروع کیا اور یہ قدیم زمانہ سے شروع کیا گیا.وہ کہتے ہیں آج بھی ان علاقوں میں مشکیزے کا استعمال ہورہا ہے جہاں اب تک بجلی نہیں پہنچی ہے.غلام یاسین بزنجو کہتے ہیں کہ آج بھی کیچ اور آواران کے دور افتادہ گاؤں میں مشکیزے کا استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ بجلی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دہیاتوں میں پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مشکیزہ استعمال کرنے کی قدیم روایت آج بھی زندہ ہے.نوجوان لکھاری بالاچ قادر کے مطابق مشکیزہ ہزاروں سال قدیم ایجاد ہے اور یہ بلوچ قوم کا ثقافتی ورثہ ہے.
mash
مشکیزہ کی ایک چھوٹی قسم بھی ہے جسے مقامی زبان میں "کلی"کہا جاتا ہے اور یہ چھوٹے بکری اور بکرے کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے.اور اسے عام طور پر چرواہے استعمال کرتے ہیں جوکہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہلکی وزن کا ہوتا ہے
شہری علاقوں میں بجلی کی سہولت موجود ہونے کی وجہ سے آج مشکیزے کی جگہ فریج اور ڈیفریزر نے لے لیا.جبکہ اب بھی دور افتادہ پہاڑی اور میدانی علاقوں میں لوگوں کے لئے پانی ٹھنڈا کرنے کا واحد ذریعہ مشکیزے ہے..بلوچ ثقافت کا یہ اہم حصہ بعض علاقوں میں قصہ پارینہ بن چکا ہے اور شہری علاقوں میں رہائش پزیر نوجوان نسل شاید مشکیزے سے اب واقفیت بھی نہیں رکھتے ہیں.ایک طرف دنیا میں تیزی کے ساتھ جدت آرہی ہے تو دوسری طرف بعض قدیم روایت اور ایجادات اب ماضی کا حصہ بن رہے اور قدیم ثقافت کا حصہ بن کر میوزیم کی زینت بن جائیں گے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *