ایران نے امریکہ کو خوفناک دھمکی دے دی

Image result for hassan rouhani

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ ’چند ہی گھنٹوں‘ میں اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ عالمی طاقتوں سے معاہدے کے تحت ایران نے اپنا جوہری پروگرام روک دیا تھا لیکن اگر یہ پروگرام دوبارہ شروع کیا گیا تو یہ 2015 کے مقابلے میں زیادہ جدید ہو گا۔ایران کا کہنا ہے کہ اُس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ کی جانب سے یکطرفہ پابندیاں معاہدے کی خلاف ورزی ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے متن کے مطابق ’ایران ایسی کوئی بھر سرگرمی جاری نہیں رکھ سکتا، جیسے جوہری ہتھیار لے جانے کی صیلاحیت والے بیلسٹک میزائل وغیرہ۔‘ایران کا کہنا ہے کہ اُس نے جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائل کے تجربات نہیں کیے ہیں اور ایران کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔منگل کو ایران کے صدر حسن روحانی نے پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اُن کا ملک جوہری معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے پورا کرنا چاہتا ہے لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ یہ ’واحد آپشن‘ نہیں ہے۔حسن روحانی نے جوہری معاہدے کو ’امن اور سفارت کاری کی فتح کا ماڈل‘ قرار دیا۔

ایران

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو ختم کر دیں گے جبکہ رواں سال جنوری میں کیے گئے میزائل تجربے کے بعد امریکی انتظامیہ نے کہا تھا کہ ایران کی ’جارحانہ اور متنازع سرگرمیوں پر امریکہ زیادہ دیر تک آنکھ بند نہیں کر سکتا۔‘گو کہ امریکہ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ایران کا میزائل تجربہ جوہری معاہدے کی ’براہ راست خلاف ورزی‘ نہیں ہے لیکن پھر بھی امریکہ نے ایران کے میزائل پروگرام اور طاقتور افواج پاسدرانِ انقلاب سے وابستہ 25 افراد پر پابندیوں عائد کی ہیں۔رواں سال جولائی میں ایران کی جانب سے خلا میں راکٹ بھیجنے کے کامیاب تجربے کے بعد بھی امریکہ نے چھ کمپنیوں پر پابندی لگائی تھی۔اگست میں صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے قانون پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت صدر کسی بھی ایسے شخص کے خلاف پابندیاں لگا سکتے ہیں جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پاسدرانِ انقلاب کی معاونت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسی کارروائیوں میں ملوث ہو۔ایران کے اراکینِ پارلیمان نے امریکہ کی جانب سے ان اقدامات کے ردعمل کے طور پر ایسے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت بیلسٹک میزائل پروگرام اور پاسدرانِ انقلاب کے شعبے قدس فورس کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *