ریس کے بادشاہ نے اپنا نام "محمد" رکھ لیا

ریس کےبادشاہ کہے جانے والے برطانوی ایتھلیٹ سر مو فرح نے کہا ہے اب انھیں 'محمد' کے نام سے پکارا جائے۔اس کے ساتھ انھوں نے اپنے ناقدوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میڈیا ان کے کارناموں کو 'تباہ کرنے' کی کوشش کر رہا ہے۔خیال رہے کہ یوسین بولٹ کی طرح محمد فرح کی میدان سے رخصتی امید کے مطابق نہیں رہی کیونکہ وہ پانچ ہزار میٹر کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آئے اور نقرئي تمغے کے حقدار ٹھہرے۔ انھوں نے برطانیہ میں جاری ورلڈ چیمپیئن شپ کا آغاز دس ہزار میٹر ریس میں طلائي تمغہ حاصل کر کے کیا تھا۔اب وہ سڑک پر ہونے والی میراتھن ریس کی جانب جانا چاہتے اور ایک نیا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے انھوں نے اپنے برانڈ نام 'مو' کی جگہ پورے نام 'محمد' کو منتخب کیا ہے۔برطانوی اخبار دا گارڈین کے مطابق انھوں نے کہا: 'میرا روڈ کا نام محمد ہے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ مو کا کام پورا ہو گیا۔ میں نے کیا حاصل کیا اور کیا کارنام انجام دیا مجھے اب اسے بھول جانے کی ضرورت ہے۔'

مو فرح

مو فرح پر ان کے کوچ البرٹو سلیزر کے ساتھ ساز باز کا الزام ہے اور سلیزر کے خلاف امریکہ کی ڈوپنگ مخالف ایجنسی جانچ کر رہی ہے۔فرح کبھی ڈوپنگ کی جانچ میں پکڑے نہیں گئے ہیں اور دونوں ڈوپنگ کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔محمد فرح نے اپنے ناقدوں کو جواب دیتے ہوئے کہا: تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔ میں نے اپنے کریئر میں جو حاصل کیا ہے لوگوں کو اس پر فخر ہے۔ آپ جو چاہیں لکھیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنی محنت اور لگن سے حاصل کیا ہے۔ میں نے اپنی جان لگا دی ہے اور سالہا سال اپنے ملک کے لیے کارنامہ انجام دیا ہے۔'مو فرح اپنے کوچ کے ساتھ

انھوں نے مزید کہا: 'کبھی کبھی مجھے یہ عجیب لگتا ہے بعض لوگ کچھ چیزیں اپنے حساب سے لکھنا چاہتے ہیں اور اپنی طرح سے کہانی کہنا چاہتے ہیں۔34 سال ایتھلیٹ 24 اگست کو زیورچ میں ہونے والی پانچ ہزار میٹر کی آخری دوڑ کے بعد میراتھن پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔مو فرح نے دنیا کے اہم ترین مقابلوں میں دس طلائی اور دو نقرئی تمغے کے ساتھ اپنے ٹریک کے کریئر کا خاتمہ کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *