ویاگرا جیسی شاندار ایجاد کرنے والے سائنسدان کی ایک اور تہلکہ خیز ایجاد

scientist

نیویارک۔ آج کل ہمیں کچھ ایسے طاقتور اور خطرناک بیکٹیریا کا سامنا ہے جو اینٹی بائیوٹکس کے خلاف شدید مزاحمت رکھتے ہیں۔ ان پر اینٹی بائیوٹکس کم ہی اثر کرتی ہیں، چنانچہ ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ تاہم اب ’ویاگرا‘ ایجاد کرنے والے برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ براﺅن نے ان بیکٹیریا کا علاج بھی دریافت کر لیا ہے۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرڈیوڈ کا کہنا ہے کہ اگر ہم اینٹی بائیوٹکس کو بازار میں عام دستیاب چند دواﺅں کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو ان کے اثر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ ان طاقتور بیکٹیریا کے خاتمے کے قابل ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 1980ءکی دہائی میں ویاگرا ایجاد کرنے والے 67سالہ ڈاکٹر براﺅن نے لیبارٹری میں 5طاقتور بیکٹیریا کے خاتمے کے لیے اینٹی بائیوٹکس اور دیگر ادویات کے 30ہزار آمیزوں کے تجربات کیے، جن میں سے 30انتہائی کامیاب رہے۔ اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ دیگر دواﺅں کے یہ 30آمیزے خطرناک بیکٹیریا کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت ختم کرنے میں کامیاب رہے۔ ڈاکٹرڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ”اس تحقیق سے بلڈ پوائزننگ، پیشاب سے متعلقہ انفیکشنز اور نمونیا جیسے امراض کے علاج کی نئی راہیں کھلیں گی۔ بیکٹیریا ارتقائی عمل سے گزر کر اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ ہماری آج کی اینٹی بائیوٹکس ان پر بے اثر ہوتی جا رہی ہیں۔ بیکٹیریا کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف یہ مزاحمت ختم کرنے کے لیے جدید میڈیسن میں ادویات کا ایک خلاءموجود ہے جسے مذکورہ طریقے سے عارضی طور پر پُر کیا جا سکتا ہے۔“رپورٹ کے مطابق یہ بیکٹیریا اس قدر طاقتور ہوتے جا رہے ہیں کہ ایک ماہر لارڈ او نیل کی تحقیق کے مطابق 2050ءتک کینسر سے زیادہ ان بیکٹیریا سے ہلاکتیں ہونا شروع ہو جائیں گی:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *