1947 سے لاپتہ

HamidMir1

میں نے اپنی پوری زندگی میں غلام فاطمہ کو دیکھا نہ ان سے ملا لیکن میرے لئے وہ آزادی کی علامت ہیں۔ میں نے ان کا ذکر پہلی مرتبہ 1971میں سنا، جب میں پانچ برس کا تھا۔ میں کسی کے ہلکے ہلکے رونے کی آواز سے نصف شب کو جاگ گیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ یہ میری والدہ ہیں۔ میرے والد سابق مشرق پاکستان اور موجودہ مغربی پاکستان کے خیر سگالی دورے پر ڈھاکا میں تھے۔ میں نے سوچا کہ غالبا میری والدہ میرے والد کی کمی محسوس کر رہی تھیں، لہذا میں ان کے بستر میں چھلانگ لگا کر پہنچا اور انہیں اپنے ننھے بازوؤں سے لپٹا لیا۔ میرے گال ان کے آنسوؤں سے تر ہوگئے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہیں۔ انہوں نے میرے گالوں پر پیار کیا اور آہستگی سے کہا کہ جاؤ جاکر سو جاؤ۔ لیکن جب میں نے اپنا سوال دھرایا تو وہ ایک مرتبہ پھر رونے لگیں اور کہا کہ ’’1947 ختم ہی نہیں ہوتا، یہ خون خرابہ کب رکے گا؟‘‘ میں چکرا گیا اور ان سے پوچھا کہ ’’امی جی 1947کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ اس سال پاکستان آزاد ہوا تھا، اس وقت بہت سے لوگ قتل اور اغوا ہوئے تھے۔ جب میں نے پوچھا کہ ’’اغوا کیا ہوتا ہے‘‘تو ایسے لگا کہ جیسے میری والدہ کے جسم میں کوئی ڈیم پھٹ پڑا ہوا، انہوں نے بلند آواز سے رونا اور سسکیاں لینا شروع کردیں اور اپنے دکھ پر قابو پانے کیلئے اپنے ہاتھ سے منہ کو دبا لیا۔ اس وقت تک میں شدید دہشت اور حیرت کی کیفیت میں آچکا تھا۔ کچھ دیر بعد جب ان کی ہچکیاں کم ہوئیں تو انہوں نے حوصلہ کر کے مجھے غلام فاطمہ کے بارے میں بتایا۔ وہ ان کی والدہ تھیں، میری نانی۔ اگست 1947سے چند ہفتوں قبل پنجاب کو ہلا کر رکھ دینے والے پاگل پن میں انہوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ جموں میں اپنے آبائی گھر سے نکل کر سیالکوٹ جانے والی بس پکڑی جو اس سے بہت زیادہ دور نہیں تھا جسے بین الاقوامی سرحد بننا تھا۔ نانی کے والد ان کے ساتھ ان کے ہمراہ نہ آسکے کیوںکہ وہ دیگر رشتے داروں کی ہمارے نئے وطن پاکستان نقل مکانی میں مدد دینے کا انتظام کر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی میری نانی کی بس جموں شہر سے باہر نکلی، اسے مسلح ہندو اور سکھوں کے جتھے نے روک لیا۔ انہوں نے بے رحمی سے تمام مرد مسافروں کو عورتوں اور بچوں کے سامنے قتل کر دیا۔ میری والدہ چھوٹی بچی تھیں۔ جب حملہ آوروں نے خواتین سے کہا کہ وہ بس سے باہر آئیں تو میری نانی غلام فاطمہ نے میری والدہ ممتاز سے کہا کہ وہ لاشوں کے نیچے چھپ جائیں۔ انہوں نے اپنی دو چھوٹی بچیوں جمیلہ اور شمیم کو بھی لاشوں کے نیچے چھپا دیا۔ ایک بچہ ان کی گود میں رو رہا تھا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اسے چھپایا نہیں جاسکتا تھا لہذا وہ اس کے ساتھ قریبی جنگل میں بھاگ گئیں۔ دوسری جانب میری والدہ خود کو اور اپنی چھوٹی بہنوں کو خون کے تالاب میں چھپانے میں کامیاب ہوگئیں اور اس طرح بچ گئیں۔ جہاں تک غلام فاطمہ اور ان کے معصوم بیٹے کا تعلق ہے تو میری والدہ نے روتے ہوئے وہ بتایا جو ایک رشتے دار نے بعد میں بتایا تھا کہ کس طرح غلام فاطمہ کو اپنے دائیں ہاتھ میں ایک چھڑی اور بائیں ہاتھ میں چھوٹے بیٹے کو پکڑ کر حملہ آوروں سے اپنا دفاع کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا لیکن ان پر آسانی سے قابو پالیا گیا اور حملہ آور انہیں گھسٹتے ہوئے لے گئے۔ میں اپنے ذہن سے اپنی نانی کی کہانی کو کھرچ نہ پایا۔ چند برس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میری والدہ اور ان کی بہنوں کو نومبر 1947بلوچ رجمنٹ نے کٹھوعہ کے قریب سڑک پر بھری ہوئی لاشوں میں سے نکالا تھا۔ انہیں مہاجر کیمپ بھیج دیا گیا، جہاں میرے نانا نے انہیں چند ہفتوں کے بعد تلاش کر لیا۔ انہوں نے اپنی بیوی کو کئی سال تک تلاش کیا۔ کسی مرحلے پر میرے نانا نے چند مغوی ہندو خواتین کو مغوی مسلم خواتین سے تبادلے کا بھی اہتمام کیا لیکن غلام فاطمہ کبھی واپس نہ آئیں۔ مجھے یہ بات سمجھنے میں کئی برس لگے کہ 1971میں اس رات میری والدہ اتنی شدت سے کیوں رو رہی تھیں۔ وہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران قتل اور اغوا کی کہانیاں سن چکی تھیں، جس سے وہ دردناک یاددیں پھر عود کر آئیںجنہیں وہ اس وقت سے دبانے کی کوشش کر رہی تھیں جب وہ بچی تھیں۔ میں اپنی ماں کے بہت قریب تھا۔ میں اپنی والدہ کے ساتھ ان متعدد صوفیوں کے مزاروں پر جایا کرتا تھا جہاں جا کر وہ اپنی لاپتہ والدہ اور بھائی کی واپسی کیلئے بہت اخلاص سے دعا کیا کرتی تھیں۔ مجھے لاپتہ افراد کا دکھ ان سے ورثے میں ملا ہے۔ جب بےنظیر بھٹو 1988میں پاکستان کی وزیراعظم بنیں تو میری والدہ نے مجھ سے پوچھا، ’’کیا وہ میری والدہ اور بھائی کو تلاش کرنے میں مدد دینے کے لئے کچھ کر سکتی ہیں؟‘‘ وہ کبھی ناامید نہ ہوئیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بتایا، ’’1947میں ہندو اور سکھوں نے مسلم خواتین اور مسلمانوں نے ہندو اور سکھ خواتین کو اغوا کیا۔ دونوں جانب برے لوگ تھے لیکن اچھے لوگ بھی تھے۔‘‘ ہر سال یوم آزادی پر میری والدہ غریبوں میں خوراک اور پیسے تقسیم کیا کرتی تھیں۔ آزادی کا مطلب امن اور ہم آہنگی ہوتا ہے لیکن میری والدہ کے لئے دکھ کبھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا انتقال 1993 میں ہوا۔ انہیں اپنے کاغذات میں غلام فاطمہ کی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر ملی۔ 1947سے لاپتہ اب وہ تصویر میرے موبائل فون میں محفوظ ہے اور میرے دل کی دیوار پر بھی آویزاں ہے۔ چند برس قبل میں نے ایک نینا ایلس فریشمین اور کرسٹوفر ہل کی تحریر کردہ کتاب ’’Silence Revealed:Womenʼs Experiences during Partition of India‘‘پڑھی۔ اس کتاب نے مجھے بتایا کہ میری والدہ نے کیوں مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں ان کی والدہ کی کہانی کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ وہ اپنی ماں کی توہین نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ حقیقت میں تقسیم کی متاثرہ بہت سی خواتین اس دہشت کے بارے میں کبھی بات نہیں کی جس سے وہ زندگی بھر گزری تھیں۔ زیادہ تر ایسی خواتین جو اغوا ہوئی تھیں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کے خاندان محض اس وجہ سے ان کی واپسی کے خواہش مند نہیں تھے کہ ان کی ’’پامال شدہ عزت‘‘ کی موجودگی ان کیلئے باعث شرم تھی۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین 1949میں ایک معاہدہ ہوا کہ اغوا شدہ افراد کو بازیاب ہونا چاہیے لیکن اس معاہدے پر بمشکل ہی عمل ہوا۔ الیاس چٹھہ کی ایک اور کتاب ’’پارٹیشن اینڈ کولکلٹی‘‘پنجاب میں مسلم اور غیر مسلم خواتین کے قتل اور عصمت دری کی رقت انگیز سرگزشت ہے۔ میں نے لاہور کے نزدیک کاموکی میں ایک ٹرین میں خوں ریزی اور ہندو خواتین کے اغوا کی خوفناک تفصیلات پڑھیں۔ میرا تعلق پاکستان کی اس نسل سے ہے جس کی پرورش ان والدین نے کی ہے جنہوں نے تقسیم کے صدمات کا بذات خود مشاہدہ کیا تھا۔ میں کسی طرح اپنی والدہ کے اپنی لاپتہ ماںکیلئے آنسوؤں کو نہیں بھول سکتا۔ میرے لئے آزادی میری نانی غلام فاطمہ اور ان کی طرح کی ہزاروں خواتین کی دی گئی قربانیوں کی یاددہانی ہے۔ یہ تمام خواتین صرف امن سے رہنے کی خواہش مند تھیںلیکن بے رحمانہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی پے در پے نسلیں اب بھی اس ناقابل حصول احساس کی تلاش میں ہیں۔ برصغیر کے عوام نے یقینا برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کر لیکن وہ اب بھی اپنے تعصبات اور اس نفرت کے غلام ہیں جس کا وہ گزشتہ دہائیوں میں ایک دوسرے کے خلاف اظہار کرتے رہے ہیں۔ آج وہ غیرملکی حملہ آوروں کے غلام نہیں ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کیلئے اس شدید نفرت کے غلام ہیں۔ درحقیقت دونوں ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں؛ انہیں خوف ہے کہ غالبا ہوسکتا ہے کہ وہ اس نفرت کے باوجود ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ برصغیر کے یہ لوگ، ہم ایک دوسرے کیلئے برطانیہ سے بھی زیادہ بدترین رویہ رکھتےہیں جنہوں نے تقریبا تین صدیوں تک حکمرانی کی۔ اس دوران کہ جب ہم آزادی کی 70 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، سچ یہ ہے کہ اس آزادی نے ہمیں کبھی اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کیلئے بااختیار اور قابل نہیں کیا۔ ہمارے حکمران طبقات نے اقتدار پر قبضے کیلئے آزادی کو استعمال کیا اور کمزور اور محروم طبقات کی آزادی چھین۔ جب بھی یوم آزادی آتا ہے تو میں غلام فاطمہ کے بارے میں سوچتا ہوں جنہیں 1947میں اغوا کر لیا گیا تھا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ کون سے حکمران ہیں جنہوں نے میری آزادی کو اغوا کرلیا ہے اور اسے خول میں تبدیل کر دیا ہے؟۔بلاشبہ آزاد ہونا ایک بڑی کامیابی ہے لیکن ہم نے اس آزادی کو ایٹم بم بنانے کیلئے استعمال کیا ہے اور جس کا ہم ایک دوسرے کی جانب اشارہ کرتے رہتے ہیں۔ آزادی کا مطلب بمشکل ہی ترقی، افزائش اور ہر آنکھ سے آنسو پونچھنا رہا ہے جس کا ہم سے 1947میں وعدہ کیا گیا تھا۔ زیادہ تر آزادی اشرافیہ تک محدود ہے۔ ایک بڑی اکثریت اب بھی غربت اور بیماریوں کی غلام ہے۔ آج بھی لاکھوں غلام فاطمہ ایسی ہیں جو اپنے دل کی بات آزادی سے نہیں کر سکتیں۔ ہم یوم آزادی پر گاندھی اور قائد اعظم کی بات کرتے ہیں، یہ دونوں چاہتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ تحمل سے رہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ہم روز بروز ایک دوسرے کیلئے ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں۔ آئیے ان ہزاروں غلام فاطمہ کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہیں 1947 میں دونوں جانب اغوا، قتل اور بے حرمت کیا گیا تھا۔ آئیے ان عام افراد کیلئے یادگاریں بنائیں جنہوں نے مصائب سہے اور اپنی زندگی کی صورت میں اس کی قیمت ادا کی۔ آئیے تقسیم کے دکھ کو قبول کر لیں۔ آئیے یہ سمجھ لیں کہ ہمیں بطور پڑوسی ایک دوسرے کیساتھ رہتے رہنا ہے۔ آئیے ہم یہ سوال کریں کہ 1947میں شروع ہونے والی خوں ریزی ختم کیوں نہیں ہوتی۔ ہماری قسمت میں کیوں تشدد اور دکھ کے چکر کو دہراتے رہنا لکھا ہے، امن 1947سے کیوں لاپتہ ہے۔ حقیقی آزادی اس وقت ملے گی جب ہم یہ سوالات کے جوابات حاصل کر لیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *