تم سب کرسکتے ہو ، یہ مگر نہیں

hafiz yousuf siraj
 میں گنگ سنتاجاتاتھا اور شرم سے زمیں میں گڑاجاتا تھااوروہ کہتاجارہا تھا ۔
 تم قتل کر سکتے ہو اور تم قتل ہو سکتے ہو۔ تم دریاؤں میں کود سکتے ہو ، پہاڑوں پر چڑھ سکتے ہواورتم طوفانوں سے لڑ سکتے ہو۔ تم حج کرسکتے ہو اور لاکھوں روپے لگاکردوسروں کو حج کروا سکتے ہو ۔ تم ایک دن میں سو سو نوافل پڑھ سکتے ہو اورتم فرض نمازوں کے علاوہ تہجد بھی پڑھ سکتے ہو ۔ تم کروڑوں لگاکے مدرسے اورمسجدیں بنا سکتے ہو اورتم اربوں روپے خیرات کر سکتے ہو۔تم بہترین انجینئر،لاجواب ڈاکٹر اوراعلیٰ ترین ماہرینِ فن پیدا کرسکتے ہو۔ تم پاکستانی ہو ، تم باصلاحیت ہو ، تم جوش بھرا دل اور جدت بھرے آئیڈیاز والا ذہن رکھتے ہو۔ تم سب کر سکتے ہو مگرایک کام تم کبھی نہیں کرسکتے۔ ارفع مقاصد کی خاطرتم اپنے جان و مال اوراپنی اولاد تک قربان کرسکتے ہو۔ تم سخت گرمی میںچودہ چودہ اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بھوکے پیاسے رہ کر روزے رکھ سکتے ہو ، دن رات لگا کرتم6666آیات ، 114سورتوں اورتیس پاروں پر مشتمل پورا قرآنِ مجید حفظ کر سکتے ہو ، مگروہ کام تم پھر بھی نہیں کرسکتے۔ حالانکہ تم بخوبی جانتے ہو کہ غیرتمندزندگی اور انسانی تعمیرو ترقی کیلئے یہی پہلا اوربنیادی کام ہے ،یہ جاننے کے باجود بھی مگریہ پہلا اوربنیادی کام تم نہیں کرسکتے۔حالانکہ جتنے کام تم نے کئے اورجتنے کام کر سکنے کی تم میں صلاحیت ہے، یہ کام ان سب میں سے چھوٹا اور آسان ترین کام ہے اوریہی کام انسانی نجات کی بنیاد بھی ہے ، تم مگرسو منزلہ عمارت توبنا سکتے ہو ، اس نجات کی بنیاد نہیں رکھ سکتے ۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ تاریخ میںکسی بھی قوم کے مزدور سے لیکر معمار اور مصلح تک، سب  کو کسی بھی کام سے پہلے یہی اعلان کرنا پڑتاہے کہ وہ یہ خاص کام کرسکتاہے۔ خود تمھارے رسول نے بھی عملاًیہی بتایا تھاکہ وہ یہ کام بدرجہ کمال کرسکتے ہیں، اس اعلان کے بعدہی انھوں نے اپنے مشن کا آغاز فرمایا تھا، مگر تم ایسی اہمیت جاننے کے باوجود یہ کا م کرنے سے قاصر ، کمتراور قصور روار ہو۔
 یہ کام ہے سچ بولنا۔سچ بولنا کتنا سادہ ، کتناآسان اورانسانوں کو کتنا سرخرو، سربلنداورآزاد کر دینے والاکام ہے ۔ تم مگرامتحاناً اورایڈوینچرکے طور پر بھی اورہفتہ بھربھی، مکمل سچ بولنے کی کوشش کروتو تمھاراسانس پھول جائے ، تمھاری آنکھوں کے آگے اندھیر ا چھاجائے ، تمھارا گلا خراب ہوجائے، تمھارادورانِ خون بڑھ جائے اورتم شوگر اور دمے کے مریض بن جاؤ اورتم پکار اٹھوکہ اگربھول کر بھی سچ بول بیٹھے توتمھاری زندگی بھرکی کمائی اور بھرم اسی ہفتے بھرکی پریکٹس سے بربادہو جائے گا۔یقین کرو،اگر کسی سچ لازم کردینے والی مشین سے تم سچ بولنے پرمجبور بھی کردئیے جاؤ، تو تم سچ بولنے کے بجائے زبان کٹوا دینا سہل جانویا زندگی بھرگونگے کہلوانا زیادہ پسند کرو۔ اسی لئے حال یہ ہے کہ تمھارے تاجر سے لیکر تمھارے سیاستدان تک ، تمھارے کالم نگار سے لیکر تمھار ے اخبارتک یا تو جھوٹ بولتے ہیں یا کم از کم پورا سچ بولنے سے دامن بچاجاتے ہیں، تمھاری سیاسی ہی نہیں مذہبی جماعتیں بھی ، تمھار ا مزدور اور تمھارا مستری بھی ، تمھارا تھوک فروش اور تمھارا ریڑھی بان بھی ، تمھارا باپ اور بہن بھی، تمھاری بیوی اورتمھارا بھائی بھی ،تمھارا خونی رشتہ دار اور تمھاراسماجی تعلق دار بھی ،تمھار ا استاد اور تمھارا مذہبی پیشوا بھی،سب کر سکتے ہیں، مگرپورا سچ نہیں بول سکتے اور پھرحیرت یہ بھی ہے کہ اس کے باوجود تم چلا چلا کے کہتے ہو کہ تمھارے ساتھ دھوکا ہوجاتا ہے اور ہر شخص اور ہر ادارہ تمھارے ساتھ فراڈ کرجاتاہے۔ تمھارے سیاستدان چلاتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے خلاف اداروں نے سازش کرڈالی اور فلاں شعبے نے فلاں شعبے کویرغمال بنا لیاہے۔ ایسے میں کیا تم بھول جاتے ہو کہ جھوٹ ، فراڈ اور مکر وسازش کا یہ کاروبار موقع ملتے ہی تمھارا ہر فرد اور ہر ادارہ ہی کرگزرتاہے، مگر جب اور جس کا داؤ پہلے نہیں چل سکتا ، وہی پھرچلا اٹھتاہے کہ اسکے ساتھ زیادتی اور ظلم ہوگیا۔ کھیل ایک ہی ہے ، البتہ طاقت ور کا ہاتھ بھاری اور وار کاری ہو جاتاہے۔
 جھوٹ تمھیں اتنا مرغوب ہے کہ تم منصب دار شخصیات اوراپنی جماعتوں کے دفاع پر فی سبیل اللہ ڈٹ گئے ہو۔مجھے نہیں بتاؤ،البتہ تنہائی میں خود پر اتری کسی انسانی کیفیت میں اپنے ضمیر سے یہ ضرور پوچھوکہ کیا کوئی ایک جماعتِ واحد ہی الوہی سچائی کی حامل ہے؟ کہ تم اسی کی ترجمانی پر ڈٹ گئے ہو؟ سیاسی ہو یا مذہبی اور عسکری ہو یا کوئی اور۔ کیا صرف تمھاری پسندیدہ شخصیت ہی سچ کی حتمی نشانی ہے؟ کیا صرف اپنے مفاد کا دفاع کرنے اور اپنے عنادکو تباہ کرنے کیلئے زندگی وقف کردینے کا نام ہی حق پرستی ہے ؟
  سچ بولنا جتنا مشکل ہے ، سچ سننا اس سے بھی مشکل ترہے۔اس لئے اگر تمھارے ہاں کوئی سچ بولنے کی کوشش بھی کرتاہے تو تم اس کا گلا دبا دیتے ہو ، تم اسے پاگل ، احمق ،بے حکمت او رمصلحت ناشناس قرار دے کے رسوا کردیتے ہو ۔ تم مجھے بھی پاگل کہہ سکتے ہو، مگرمیں پوچھتاہوں کہ4سالہ اقتدار کی گمشدگی کے بعداب عوام میں نمودارہوئے، میاں محمد نواز شریف صاحب، کیاقوم کو بتائیں گے کہ اگر وہ سچے ہیں تووہ 62اور63 کی سچائی اور امانت کی شقیں آئین سے کیوں نکال دیناچاہتے ہیں؟ اگر وہ واقعی جمہوریت بچاؤکے نئے مکالمے کی خاطر مخلصانہ نکلے ہیں اور اگر وہ واقعی اقتدار کے بجائے صرف عوام کے حقِ حکمرانی کی چاہ میں نکلے ہیں تو وہ ایک حلف نامہ کیوں نہیں لہراکے دکھادیتے کہ آج کے بعد وہ یا ان کے خاندان کا کوئی فرد اقتدار میں نہیں آئے گا، کیوں کہ بہت ہو چکا ان کے خاندان کے اقتدار کا کھیل اور اب وہ صرف اورصرف ملک کا سوچیںگے ۔کیا نئے عمرانی معاہدے کی خاطررسول ِ معظم نے سب سے پہلے سود اورقتل و غارت گری کے اختتام کا اعلان اپنے گھرسے نہ فرما یا تھا؟اگر میں جھوٹاہوں توکیاسیاست میں کودنے والی بعض نئی اورخام ، بعض کم نئی اورپیتل اوربعض پرانی پاپی اورکندن ہونے کی دعویدار سیاسی جماعتیں یہ اعتراف کرنے والا جگر لائیں گی کہ ان کے بجٹوںاور بھاشنوں، ان کے مشوروںاور منشوروں ، ان کے نعروں اور تقریروں کی گاڑیوں میں کن کن غیر جمہوری طاقتوں کی آشیرباداور حکم کا پیٹرول جلتاہے ؟ یہ کام برا ہے تو وہ اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے اور اگر یہ اچھاہے تو وہ قوم کے سامنے اس سچائی کا اعتراف کیوں نہیں کرتے ؟کیاتمھارے محافظ بتاسکتے ہیں کہ جس کام کے لئے وہ آئے تھے، چونکہ اس کی نوبت کم ہی آتی ہے توفارغ بیٹھے بیٹھے انھوں نے کچھ اورکاروباربھی شعاراور شکار کرلئے ہیں ،اور ان کی سچی فہرست کسی پریس ریلیز میں وہ جاری فرما سکتے ہیں؟ کیاتمھارے سیاستدان یہ حلف دے سکتے ہیں کہ جب جب وہ ملکی مفاد کا نعرہ لگاتے اورجب جب تمھارے مذہبی سیاستدان نفاذِ اسلام کا نعرہ لگاکے سادہ لوح عوام کو گھیرتے ہیں تو دراصل ان نعروں سے مراد واقعی لگائے گئے نعرے ہی ہوتے ہیں یا سینوں سے چھلکتے کمتر مفادات؟افسوس تم نے جھوٹ کا نام سیاست ، دروغ گوئی کا نام حکمت ، منافقت کا نام مصلحت اور دھوکہ دہی کا نام فنکاری رکھ لیاہے۔
 سنو،تمھیں جتنا بھی برا لگے ، مگرجب تک تم سچ ، سچائی اور سچوں کی پرکھ کرکے انھیں برداشت کرنا نہیں سیکھ لیتے ،تمھاری کشتی یونہی طوفانِ نوح کے تھپیڑوں کی زد میں رہے گی۔ سنو، اگرسیاسی و مذہبی مفاد پرست لیڈر اپنے مفاد کی خاطر جھوٹ بولنا نہیں چھوڑ سکتے، توکیاقومی مفاد کی خاطر تم اندھی عقیدتوں کے جھوٹے آبگینے توڑ کے جھوٹ سننا ترک بھی نہیں کرسکتے؟اورہاں ! کبھی آپ کے زہریلے ضمیرنے بھی رُسوائی ہو گئی سچائی کی خاطر آپ کو یوں ڈساہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *