سندھ میں جاری خاموش یوٹرن !

riayat ullah farooqi
نواز شریف کو پنامہ کیس کے طوفان میں الجھا کر بڑی خاموشی سے سندھ کی سیاسی بساط پر ایک بڑا یوٹرن شروع کیا گیا جس کی جانب میڈیا میں پنامہ ہنگامہ خیزی کے سبب کسی کی توجہ نہیں گئی۔ اس یوٹرن میں اب تیزی آتی جا رہی ہے۔ اگر آپ غور کریں تو آصف زرداری اور الطاف بھائی چپ کا روزہ رکھ چکے۔ اس روزے کے شروع ہوتے ہی کچھ اقدامات شروع ہوگئے۔ جس ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردوں کے علاج اور 450 ارب روپے کی کرپشن کا الزام تھا وہ اب آزاد ہے اور کہتا ہے نواز شریف کو بد دعائیں دیتا ہوں۔ شرجیل میمن رینجرز کے پروٹوکول میں واپس آ چکا اور ابھی چند ہی دن قبل وزیر اعلیٰ سندھ نے پہلی بار بغیر کسی مزاحمت کے سندھ رینجرز کے اختیارات میں توسیع فرما دی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس بار انہیں ان اختیارات سے اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ الطاف بھائی کی خاموشی کے صلے بھی یوں سامنے آ رہے ہیں کہ جس عبید کے ٹو کو نائن زیرو فتح کرکے گرفتار کیا گیا تھا اور جسے "معاشرتی علوم کا سب سے خطرناک دہشت گرد" بتایا گیا تھا وہ سابق ڈی آئی جی کے قتل کیس میں 16 جولائی کو بری ہوچکا۔ یوٹرن کے اس سلسلے میں آج ایک اور بہت اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ولی خان بابر کا قاتل اور معاشرتی علوم کے دوسرے بڑے دہشت گرد فیصل موٹا کی پھانسی آج سندھ ہائی کورٹ نے عمر قید میں بدل دی ہے۔ الطاف بھائی کی کارکن لاپتہ اور قتل کئے جانے کی شکایات بھی اب سامنے نہیں آتیں۔ کراچی والو ! اپنے مہنگے موبائل اور نئی موٹر سائیکلیں فروخت کرنی شروع کردو کیونکہ پاکستان آئین و قانون کے اس اصل راستے پر چل پڑا ہے جس پر نواز شریف کے برسرِ اقتدار آنے سے قبل یہ چل رہا تھا۔ مبارک ہو ٹارگٹ کلرز واپس آ رہے ہیں۔ تم بھگتوگے ! لازم ہے کہ تم ہی بھگتوگے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *