طاہرالقادری سے پانچ سوال

محمد خلیل الرحمان
muhammad khalil ul rehman .
سانحہ ماڈل ٹاوُن میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کیساتھ پہلے بھی کئی بار اظہار ِ یکجہتی کر چکا ہوں اب پھر کر تا ہوں  لیکن یہ چند سوالات مجھے بہت پریشان کرتے ہیں .
1. جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ہم بھی اس کی تائید کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کے وابستگان کا یہ طرز عمل عجیب ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں رپورٹ شائع کر کے میاں شہباز شریف نے اپنی موت کو دعوت دینی ہے بھلا . اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ رپورٹ کے مندرجات سے آگاہ ہیں . اگر وہ آگاہ ہیں تو پبلک کرنے کا مطالبہ کیسا بلکہ اگلا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک خفیہ دستاویز انکے ہاتھ کیسے آ گئی ؟ اس کے بر عکس اگر وہ آگاہ نہیں تو یہ یقین کیسا کہ اس رپورٹ کے تحت وزیر اعلیٰ کو سزا ہو گی ؟
2۔ ڈاکٹر صاحب مقتولوں کی طرف سے اس مقدمہ کے مدعی خود کیوں بنے ؟ نہ یہ قانوناً درست ہے اور نہ شرعاً ۔ چلیں اگر بن ہی گئے تھے تو وہ خود یا مقتولین کے ورثا جسٹس نجفی کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کا حصہ کیوں نہ بنے ؟ اگر جسٹس موصوف پر عدم اعتماد تھا تو اس کا اظہار کرنا چاہئے تھا ۔ اگر اعتماد تھا proceedings کا حصہ بننے میں کیا امر مانع تھا ؟
qad
3۔ تحریک قصاص اپنے شباب پر پہنچ چکی تھی ۔ دھرنہ دینے والوں کی عزیمت کو سلام لیکن پھر یہ دھرنہ یکایک کسی نتیجہ خیزی کے بغیر ہی ختم کر دیا گیا ۔ آخر عجلت میں دھرنہ ختم کرنے کے کیا محرکات تھے ؟ کیا ڈاکٹر صاحب اب چند سالوں کے وقفے کے بعد قصاص کی تحریک میں وہ momentum پیدا کر سکیں گے جو تحریک قصاص کے دوران قائم ہو گیا تھا ؟
4۔ ڈاکٹر صاحب نے دھرنہ ختم کرتے وقت یہ اعلان کیا تھا کہ اب یہ دھرنے بڑے بڑے شہروں میں دئیے جائیں گے لیکن ایسا بھی کچھ دیکھنے کو نہ ملا بلکہ ایک طویل خاموشی چھائی رہی ۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان تشریف لاتے اور واپس جاتے رہے لیکن کوئی بڑی سرگرمی اس حوالے سے دیکھنے میں نہ آ سکی ۔ اس طویل خاموشی کے بعد حالیہ احتجاجی دھرنوں پر سوال اٹھنا ایک فطرتی امر ہے اس کا بھی جواب تحریک کے ذمہ داران کو دینا چاہئے ۔
5۔ ڈاکٹر صاحب کے دھرنوں کی ٹائمنگ بھی خاصی معنیٰ خیز ہوتی ہے ۔ وہ ان دنوں ہی ان سرگرمیوں کو شروع کرتے ہیں جب اسٹیلیشمنٹ اور حکومت کے مابین تناوُ کی کیفیت پیدا ہو چکی ہوتی ہے ۔ اگرچہ یہ انکا حق ہے کہ وہ جس ٹائمنگ کو موزوں سمجھیں اسے اختیار کر لیں لیکن یہ اشکال ضرور وارد ہوتا ہے کہ آخر ہر دفعہ وقت کا چناوُ مخصوص حالات میں ہی کیوں کیا جاتا ہے ۔
یہ سوالات اس لئے اٹھائے ہیں کہ اس سانحہ سے پوری طرح آگاہ ذمہ داران تحریک ان کا جواب دے سکیں تاکہ لوگوں کو شرح صدر نصیب ہو سکے اور رائے عامہ ان کے حق میں مزید ہموار ہو جائے ۔ احباب  نامناسب کمنٹس دینے سے گریز فرمائیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *