اہل سیاست کی فنکاریاں 

Mrs Jamhaid khakwani

ترکمانستان کا بادشاہ لمبی عمر کا خواہاں تھا وہ مرنا نہیں چاہتا تھا اس کے طبیبوں نے بتایا ہندوستان کی سرزمین پر کچھ ایسی جڑی بوٹیاں ملتی ہیں جو آب حیات کی تاثیر رکھتی ہیں اگر آپ وہ جڑی بوٹیاں منگوا لیں تو ہم ایسی دوائی تیار کر لیں گے جس سے آپ جب تک چاہے زندہ رہ سکیں گے بادشاہ نے دس لوگوں کا ایک وفد تیار کیا جس چند طبیب،اس کے چند قریبی لوگ اور مشیر شامل تھے یہ وفد جا کر ہندوستان کے راجہ سے ملا اور بادشاہ کا پیغام دیا راجہ نے بادشاہ کا پیغام پڑھ کر ایک قہقہ لگایا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا وفد کو گرفتار کر لیا جائے گرفتاری کے بعد وہ انہیں لے کر اپنی سلطنت میں واقع ایک بلند و بالا پہاڑ کی طرف لے گیا اور پہاڑ کے قریب ایک خیمہ لگوایا ان لوگوں کو اس خیمے میں بند کروایا سپاہیوں کا ایک دستہ وہاں تعینات کیا اور اس وفد سے کہا جب تک یہ پہاڑ نہیں گرتا تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتے اگر تم میں سے کسی نے یہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو اس کی گردن مار دی جائے گی راجہ نے اپنا فوجی دستہ وہیں چھوڑا اور واپس شہر آ گیا ترکمانی وفد کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی وہ پہاڑ کو اپنے لیے مصیبت سمجھنے لگے مشکل کی اس گھڑی میں ان کا اللہ تعالٰی کے سوا کوئی مددگار نہیں تھا وہ زمین پر سجدہ ریز ہوئے اور گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگے وہ صرف کھانا کھاتے ،رفع حاجت کرتے ،اور پھر باوضو ہو کر اللہ کے حضور سجدے میں پڑے رہتے آخر اللہ کو ان پر رحم آ گیا ایک دن زلزلہ آیا زمین دائیں سے بائیں ہوئی پہاڑ جڑوں سے ہلا اور پتھر زمین پر لڑھکنے لگے وفد کے ارکان اور سپاہیوں نے بھاگ کر جان بچائی سپاہی انہیں لے کر راجہ کے دربار پہنچے اور راجہ کو سارا ماجرا کہہ سنایا راجہ نے یہ سن کر ایک قہقہ لگایا اور وفد سے کہا اب تم بادشاہ کے پاس واپس جاؤ اسے جا کر یہ واقعہ سناؤ اور اس میرا پیغام دینا کہ اے بادشاہ اگر دس افراد کی بد دعائیں اتنے بڑے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہیں تو بالکل اسی طرح لاکھوں لوگوں کی بد دعائیں باشاہ کے اقتدار اور زندگی کو خاک میں ملا سکتی ہیں تم اگر لمبی زندگی اور اقتدار کی طوالت چاہتے ہو تو لوگوں کی بد دعاؤں سے بچو تمہیں کسی جڑی بوٹی کی ضرورت نہیں رہے گی یہ ہمارے اہل سیاست کے لیے بڑی سبق آموز کہانی ہے جو ہر ایک سے پوچھتے پھرتے ہیں ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ پرانے دور کے بادشا تو پھر بھی یا ظالم ہوتے تھے یا عادل ہوتے تھے لیکن ان کا رویہ قوم کو تقسیم نہیں کرتا تھا عادل باشاہ سب کے لیے عادل ہوتا تھا اور ظالم سب کے لیے ظالم لیکن یہ ہمارے سیاست دان تو بالکل ہی ایک الگ مخلوق ہیں سیاست خدمت تو خیر کبھی بھی نہیں رہی پہلے بڑے زمیندار ،انگریزوں کے مرعات یافتہ جاگیردار سیاست کے ذزیعے اقتدار میں حصہ لے لیا کرتے تھے کچھ تو اس وقت لوگ بھی شریف النفس اور بھولے بھالے راضی بہ رضا قسم کے ہوتے تھے دوسرا امیر لوگ بھی عوام الناس کا اس قدر استحصال نہ کرتے تھے لیکن غنڈہ گردی اس وقت بھی سیاست کی ضرورت سمجھی جاتی تھی ہمارے ایک چچا جو باہر سے بیرسٹر بن کر آئے زمیندار بھی تھے لیکن شریف آدمی تھے ایک بار سہروردی صاحب سے ملے تو انہوں نے پوچھا خان صاحب کچھ غنڈے ونڈے بھی پالے ہوئے ہیں کہ نہیں ؟ چچا نے جواب دیا نہیں سہروردی صاحب میں تو شریف آدمی ہوں سہروردی صاحب بولے پھر آپ سیاست میں قدم نہ رکھیں سیاست میں شرافت نہیں چلتی آپ جلسہ کریں گے مخالف کے غنڈے آکر آپ کا جلسہ الٹا دیں گے تو آپ کیا کریں گے یوں چچا بے چارے سیاست اور زمینوں دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اب تو سیاست ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے آپ کچھ بھی کر کے دو تین کروڑ اکھٹا کر لیں اور مضبوط پارٹی (جس کی جیب میں غنڈے موالی بھرے ہوں)کا ٹکٹ حاصل کر لیں اس کے بعد ان کروڑوں کے اربوں بنانا آپ کو پارٹی سکھائے گی بس آپ کو اسمبلی میں بیٹھ کر ان کے بنائے بل منظور کرنے ہیں ،ڈیسک بجانے ہیں ،ان کی ہاں میں ہاں ملانی ہے ان کے ہر ظلم اور جرم میں آنکھیں بند کر کے ان کا ساتھ دینا ہے سوال نہیں کرنا صرف پیسے پکڑنے ہیں پروٹوکول کے مزے لیں دنیا گھومیں ،مفت علاج کے نام پر باہر جائیں جی بھر کے شاپنگ کریں ،چاہے تو جوئے میں لاکھوں ڈالر ہار آئیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کیونکہ یہ عوام کے ٹیکسوں کا ہیسہ سیاسی پارٹی کے سربراہ کے باپ کی کمائی نہیں ہے جو ان کو ڈوب جانے کا ڈر ہو ان کے سیاسی گرگے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں یہ ضمیر سلانے کے ماہر ہوتے ہیں ضمیر نہ سلا سکیں تو بندہ ہی ابدی نیند سلا دیتے ہیں اس ڈر سے بھی لوگ اپنا ضمیر سلائی رکھتے ہیں سیاست کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے کوئی عامآدمی جیل چلا جائے تو معاشرے میں منہ چھپائے پھرتا ہے اس کو کوئی نوکری نہیں دیتا لیکن ایک سیاستدان جیل جا کر سوالاکھ کا ہو جاتا ہے نہ صرف سینہ چوڑا کر کے وکٹری کا نشان بناتے جیل سے نکلتا ہے بلکہ بڑے سے بڑے عہدے سے بھی نوازہ جاتا ہے ایک عام سپاہی اپنی فٹ نیس ثابت نہ کر سکے تو ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے سیاستدان ذہنی مریض کا مستند سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد بھی ایوان کو ہیڈ کرتا ہے بینک کی ادنی سی جاب کے لیے بھی کم از کم گریجویٹ ہونا لازمی ہوتا ہے جبکہ سیاستدان چٹا ان پڑھ ،انگوٹھا چھاپ بھی ہو تو وزیر تعلیم بن جاتا ہے جس نے کبھی گلی ڈنڈا نہ کھیلا ہو سپورٹس کا وزیر بن جاتا ہے ،جس نے زندگی کی ابتدا سائیکل چوری سے کی ہو ریلوے کا محکمہ اس کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے لوگ ساری عمر محنت کر کے ایک سر چھپانے کو گھر نہیں بنا سکتے ان کے بیرون ملک پلازے ،فلیٹس اور جائیدادیں ہیں یہ کس کا ہیسہ ہےِ جب یہ سوال عدالت پوچھتی ہے تو بجائے جواب دینے کہ اس کو سازش کا نام دیا جاتا ہے کچھ اہل قلم میاں صاحب کی سیاست کو فکری اور نظریاتی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں فکر اور نظریات میاں صاحب کے قریب سے بھی نہیں گذرے چن چن کر مجرم اور ضمیر کے قیدی اہم اداروں پہ مسلط کیے گئے جونیئر لوگوں کو راتوں رات اپر گریڈز میں ترقی دے کر میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں ،ہر اہم ریکارڈ کو انتہائی بے شرمی سے جلا دیا گیا اور آگ بھی اتنی سیانی ہوتی ہے جو انکی مرضی کا ریکارڈ جلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کو ہر چیز میں فوج کی سازش نظر آتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اس ایک ادارے کے سوا کسی میں اتنی صلاحیت اور جرات نہیں جو ان کے خلاف ثبوت لے آئے ،لہذا اب مظلوم بن کر اپنے ہی بٹھائے مہروں سے انصاف لینے کی کوششیں ہو رہی ہیں باپ کا سوال ہے مجھے کیوں نکالا گیا داماد بنگلہ دیش بنانے کا نعرہ لگاتا ہے تو بیٹی حسینہ واجد بن کر انتقام لینے کے عزم کا اظہار کرتی ہے لیکن اتنا معمولی ساکام ان سے نہیں ہوتا کہ عدالت کو منی ٹریل پیش کر دیں ان الزامات کو جھوٹا قرار دیں جو ان پر لگائے گئے ہیں کیا یہ سیاست کی فنکاریاں ہیں یا حکمرانوں کے لیے مکافات عمل اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا اور وقت بڑا ظالم ہوتا ہے جب ساتھ چھوڑ دے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *