نیب نے شریف فیملی کو طلب کرلیا!

نیب نے شریف خاندان کی تحقیقات کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے دیں جو چار ریفرنسز تیار کریں گے، ذرائع۔ فوٹو: فائل

 راولپنڈی -قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین کی طلبی کے سمن جاری کر دیے۔ ذرائع کے مطابق نیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی تیاری کے لیے دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب کے اجلاس میں پاناما کیس کے فیصلے کے تناظر میں اہم فیصلے کیے گئے۔ نیب کی جانب سے دو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں ٹیم راولپنڈی اور ٹیم لاہور شامل ہیں۔ نیب راولپنڈی کی ٹیم نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف تحقیقات کرے گی جبکہ نیب راولپنڈی مریم نواز کے فلیٹس اور اسحاق ڈار کے اثاثوں کی تحقیقات کرے گی۔

ذرائع کے مطابق 7 رکنی ٹیم راولپنڈی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی رضوان خان کر رہے ہیں جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم لاہور کی سربراہی نذیر اولک کر رہے ہیں۔ یہ دونوں مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں شریف خاندان کے خلاف 4 ریفرنسز تیار کریں گی۔ نیب لاہور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس تیار کرے گی جب کہ 7 رکنی راولپنڈی کی ٹیم نواز شریف کی عزیزیہ اسٹیل ملز کے معاملات اور حسن و حسین نواز کے اثاثے چیک کرے گی۔

 ذرائع کے مطابق نیب لاہور کی تحقیقاتی ٹیم 3 ارکان پر مشتمل ہے جس کی سربراہی نذیر اولک کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں نادر جان اور عمران ڈوگرشامل ہیں۔ نیب کے تفتیش کار کی جانب سے گھروں میں نوٹس دیئے گے ہیں جبکہ شریف خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی نوٹس نہیں ملے تاہم اس سلسلے میں مختلف آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ  نیب لاہور کی ٹیم نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور اسحاق ڈار کے اثاثوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ نیب لاہور نے کمپنیوں کے ریکارڈ کے لیے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو خط لکھ دیا ہے اور اس سے اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کی کمپنیوں کا ریکارڈ طلب  کر لیا گیا ہے۔ نیب لاہور کی ٹیم مریم نواز کے لندن فلیٹس اور اسحاق ڈار کے اثاثہ جات کا ریکارڈ اکٹھا کرے گی۔

یاد رہے کہ 31 جولائی کو نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئندہ 6 ہفتوں کے دوران شریف خاندان کے خلاف 4 ریفرنسز دائر کیے جائیں گے، یہ تمام ریفرنسز راولپنڈی اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں دائر کیے جائیں گے جب کہ ریفرنسز پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ اور اکٹھے کیے گئے مواد کی روشنی میں دائر ہوں گے، ریفرنسز سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیراگراف 9 میں درج کمپنیوں سے متعلق دائر ہوں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز سمیت ان کی صاحبزادی مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *