اٹھارہ کروڑ ’’مخلص‘‘ پاکستانی

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

میں ایک ایسے پاکستانی کی تلاش میںہوں جواپنی (رسمی)گفتگو میں ملک کے لئے فکر مندی کا اظہار نہ کرتا ہو‘ اس کے مسائل پر کڑھتا ہوا دکھائی نہ دیتا ہواور بظاہر جس کے دل میں ملک کے لئے درد نہ اٹھتاہو۔تاحال مجھے کوئی نہیں ملا کیونکہ میں جس کسی سے بھی ملتا ہوں وہ ملک کا رونا روتا ہوا ہی نظر آتا ہے ‘اس کے مسائل کے حل کے لئے تجاویز کی گٹھری سر پر لئے پھرتا ہے اورملک کے لئے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے دل و جان سے قسمیں بھی کھاتا ہے مگر نہ جانے کیا وجہ ہے کہ ہم اٹھارہ کروڑ ’’مخلص‘‘ پاکستانی مل کر بھی اس ملک کا قبلہ درست نہیں کر پار ہے۔ یہاں لاکھوں صالح نوجوان ہر سال مدرسوں سے دینی تعلیم حاصل کرکے معاشر ے کا حصہ بنتے ہیں ‘یہاں حاضر اورریٹائرڈ سول و فوجی افسران اور ملازم‘ ملک کی دل و جان سے خدمت کرنے کے دعویدار ہیں اور معاشرے میں ان کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے ‘ہرسال لاکھوں مسلمان حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اورخانہ کعبہ میں گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافیاں مانگتے ہیں ‘ مسجدیں نمازیوں سے بھری پڑی ہیں جہاں ہر نماز کے بعد ملک کے حق میں دعائیں مانگی جاتی ہیں‘ہر سیاسی جماعت کے لیڈر کا یہ کہنا ہے کہ اسے سوائے ملک کی ترقی کے کچھ اور سوجھتا ہی نہیں‘ ہر فوجی آمرنے بھی یہی ڈھنڈورا پیٹا ہے کہ آج تک اس نے جو کیا ملکی مفاد میں ہی کیا… مگر نتیجہ وہی‘ صفر بٹا صفر!یہ معمہ آخر ہے کیا؟
ایک سادہ سی وجہ تو یہ ہے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں ‘ ہمارے دعو ے سوائے زبانی جمع خرچ کے اور کچھ نہیں ‘ ہم کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ اور ہیں ‘ہم سرکاری افسر کے پاس جاتے ہیں ‘ایک گھنٹہ تک اس کے ساتھ ملک کے گوناں گوں مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں ‘ ملک کی ترقی اور خوشحالی کی تمنائوں کا اظہار کرتے ہیں اور پھر اچانک ایک ناجائز کام کی سفارش کرکے اٹھ جاتے ہیں ۔ہم چالیس برس تک سرکار ی نوکری کرتے ہیں ‘ ریاست کے کلیدی عہدوں پر فائز رہتے ہیں اور پھر بغیر کوئی ڈھنگ کا کام کئے ایک دن ریٹائر ہو کرگھر چلے جاتے ہیں ‘اس کے بعداگرکوئی سرکار کے مسائل کا حل پوچھے تو اسے وہ تمام خوبصورت حل بتاتے ہیں جن پر خود پوری نوکری کے دوران کبھی عمل نہیں کیا ہوتا۔ہم ٹی وی پروگرامز میں سوٹ بوٹ پہن کر ٹائی لگا کر معزز بن کر بیٹھتے ہیں ‘اعلیٰ اقدار کا پرچار کرتے ہیں ‘ قانون کی عملداری کی دہائی دیتے ہیں ‘ بد عنوانی کے خلاف بھاشن دیتے ہیں ‘ فرقہ واریت کو ملک کے لئے زہر قاتل گردانتے ہیں ‘ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور سیاست دانوں کو لتاڑتے ہوئے اس امید پر پروگرام ختم کرتے ہیں کہ ہماری ریٹنگ سب سے بہتر آئے گی۔اگر ان ٹی وی پروگرامز میں پیمرا کے قواعد کی خلاف ورزی پر مبنی کوئی مواد نشر کیا جائے اور کوئی شریف آدمی اس طرف توجہ مبذول کروائے تو اینکر نہایت ڈھٹائی سے جواب دیتا ہے’’اگرہم کسی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو پیمرا ہمیں بند کردے !‘‘حالانکہ مہذب ممالک میں پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں نا کہ دھمکی دیتے ہیں کہ ہمت ہے تو ہمیں پکڑ کر دکھائو‘اپنے ہاں چونکہ باوا آدم ہی نرالا ہے اس لئے یہ دھمکی بھی ہٹ ہو جاتی ہے ۔
ہم ان اصولوں سے لا تعلق ہیں جو دنیا میں کامیابی کے لئے رائج ہیں ‘ کامیاب دنیا نے جن اصولوں کو اپنا رکھا ہے ان میں سچائی ‘محنت ‘ روشن خیالی ‘شفافیت‘ پابندی وقت‘ پوری تنخواہ پورا کام‘ انصاف پسندی ‘ اعلی ظرفی‘وعدے کی پاسداری ‘دیانت ‘ اخلاق‘ صفائی اوراحترام آدمیت جیسی اقدار شامل ہیں ۔دوسری طرف ہماری معاشرتی اقدار خاندان سے جڑی ہوئی ہیں جو بلاشبہ قابل فخر پہلو ہے ‘ہمارے معاشرے میں مہمان نوازی ‘ گرم جوشی اور خیرات کرنے کا جذبہ اور مذہب سے لگائو بھی حیران کن ہے مگر صرف یہی کافی نہیں ۔معاشروں کی مجموعی کامیابی اس سے کہیں زیادہ کی متقاضی ہوتی ہے ‘یہی وجہ ہے کہ اٹھارہ کروڑ’’مخلص‘‘ پاکستانی آج تک ملک کی حالت بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔آپس کے معاملات میں ہم زبان کے پکے ہیں نہ ہمیں وقت کا کوئی تصور ہے ‘ آپ کہیں کوئی مکان کرائے پر لیں ‘ مالک مکان سے کرائے نامے پر دستخط کروائیں ‘اسے زر ضمانت کے طور پر طے شدہ رقم ادا کریں اور پھر دیکھیں کیا وہ مکان خالی کرنے کے وقت آپ کو بغیر کسی جھنجھٹ کے سیکورٹی واپس کرتا ہے یا الٹا آپ کے ذمے کچھ نکال دیتا ہے!کاروبار میں اگر کسی نے آپ سے مال سپلائی کرنے کا وعدہ کیا ہے تو وہ وقت پر سپلائی نہیں دے گا ‘اگر کسی نے رقم ادا کرنی ہے تو وہ وعدے کے مطابق ادا نہیں کرے گا ۔روز مرہ کے معاملات میںہمارے ہاں چھوٹا موٹا ادھار لینے کا مطلب ہے کہ اسے واپس کرنا ضروری نہیں ‘نوکری کا مطلب صرف تنخواہ لینا ہے کام کرنا نہیں ‘ مسکراہٹوں کے تبادلے کی ہمیں عادت نہیں ‘ ایک دوسرے کو تیکھی نظروں سے دیکھتے ہیں ‘ شکریہ اور معاف کیجئے گا کہ الفاظ ہماری لغت میں تو ہیں مگر زبان میں نہیں ‘ سچ صرف اس وقت بولتے ہیں ۔جس وقت ہمیں اس کی ضرورت ہو اور اس سے کوئی خطرہ بھی نہ ہو‘ صفائی کا حال تو ہمارے گلی محلوں سے ہی ظاہر ہے جبکہ احترام آدمیت کا عالم یہ ہے کہ مزاح پیدا کرنے کی غرض سے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات ‘ اقلیتوں اور جنسی معذوریوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور اس رویے کو بالکل نارمل سمجھتے ہیں۔ان معاشرتی رویوں کو راتو ں رات درست تو نہیں کیا جا سکتا ہے البتہ سمجھا ضرور جا سکتا ہے ‘اور کسی مسئلے کا آدھا حل اسے سمجھنے میں ہی ہے ۔گزشتہ برس فضائی سفر کے دوران ایک کنیڈین خاتو ن سے ملاقات ہوئی ‘ باتوںباتوں میں اس نے بتایا کہ حال ہی میں اس کا ’’بریک اپ‘‘ ہوا ہے ‘میں نے پوچھا کہ وہ مرحلہ کب اور کیسے آیا جب اس نے اپنے بوائے فرینڈ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تواس نے بہت دلچسپ جواب دیا’’سب کچھ بظاہر نارمل تھا‘ ہم دونوں مل کر اپنے نئے گھر کے لئے خریداری کر تے پھررہے تھے ‘مگر میں مطمئن نہیں تھی ‘ اس میں پہلی جیسی محبت اور گرمجوشی نہیں رہی تھی ‘ وہ اظہار محبت ضرور کرتا تھا مگر وہ محبت دکھائی نہیں دیتی تھی ‘ اس لئے میں نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ‘ ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ لوگ کہتے کیا ہیں ‘ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ اصل میں وہ کرتے کیا ہیں !‘‘ پاکستانیوں کے معاشرتی تضادات کو سمجھنے کے لئے بھی ہمیں یہی کلیہ اپنانا پڑے گا !ملک کی معاشی حالت پر ماتم کرنے والے کنسلٹنٹ جب پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پر اعداد و شمار کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ ملک کی حالت بہت دگرگوں ہے تو بظاہر وہ ملک کے لئے نیت نیتی سے ہی بات کرتے ہیں مگر یہی کنسلٹنٹ آمروںکے بوٹوں کے تسمے باندھتے ہیں اور کوئی شرم بھی محسوس نہیں کرتے ۔سائنس کے شعبے میں ترقی کے مشورے دینے والےبعض ڈاکٹر بھی بظاہر ملک کی بہتری ہی چاہتے ہیں مگر فوجی آمر کے دربار میں رکوع کی حالت میں کھڑے رہنے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔لہٰذایہ مت دیکھیں کہ’’مخلص‘‘ پاکستانی دعوی کیا کرتے ہیں ‘یہ دیکھیں کہ اصل میںوہ کرتے کیا ہیںاورچونکہ ہم سب پاکستانی ہیں اس لئے یہی کلیہ خود پر بھی لاگو کر کے دیکھنا چاہئے ‘کافی افاقہ ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *