جنرل ضیااور اقلیتوں کے حقوق

محمد اقبال قریشی

muhammad iqbal qureshi

جنرل ضیاء الحق مرحوم کے بارے میں میں نے بھٹو اور ایوب خان کے بعد لکھنا تھا لیکن اعجاز الحق صاحب کا تازہ اخباری بیانیہ پڑھ کر مجھ سے رہا نہ گیا ۔۔۔۔۔ جناب اعجاز الحق نے اپنے اس بیانیہ میں فرمایا کہ نواز شریف ضیاء کی پیداوار ہیں ، اگر انھوں نے آئین سے چھیڑ چھاڑ کی یا جنرل ضیاء کی شان میں کوئی الٹی سیدھی بات کی تو یاد رکھیں کہ وہ بھی ان کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور سارا کچھا چھٹا کھول کر سامنے لے آئیں گے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قارئین کرام ! میں اس ضمن میں نہ نواز شریف کا حامی ہوں نہ ہی اعجاز الحق کا مخالف لیکن آپ سب کو بتاتا چلوں کہ جس طرح جنرل ایوب خان تہ دل سے جمہوریت کو پاکستان کے لیے ضرر رساں سمجھتے تھے بالکل اسی طرح ملکی آئین کو مملکت خداد کے لیے حد درجہ نقصان دہ سمجھتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوب خان نے جس چابکدستی سے جمہوریت کا راستہ روکا ، بالکل اسی جنرل ضیاء نے آئین کو بار بار گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنرل ضیاء آئین کو اپنے اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتے تھے اس لیے انھوں نے اپنا وہ حلف بھی فراموش کر دیا جو وہ آئین پاکستان کی پاسداری اور حرمت کے ضمن میں اٹھا چکے تھے ۔ روئیداد خان اپنی کتاب ، '' پاکستان انقلاب کے دہانے پر'' کے صفحہ نمبر 107پر اس بارے میں لکھتے ہیں :
'' سچ تو یہ ہے کہ جنرل ضیاء کے دل میں آئین اور جمہوریت کے لیے سوائے تحقیر و تضحیک کے کچھ نہ تھا ، اس کا ثبوت انھوں نے تہران میں ایک اخباری کانفرینس میں دیا ۔ انھوں نے کہا:

Image result for zia ul haq' آئین آئین آئین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہے یہ آئین ؟ دس بارہ صفحوں کا ایک کاغذی پرزہ جسے میں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں ۔۔۔۔ اگر میں آج اعلان کر دوں کہ کل ہم ایک مختلف نظام کے تحت زندگی بسر کریں گے تو مجھے کون روک سکتا ہے ؟؟ میں جس طرف چاہوں ، سب اسی طرف چلیں گے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کسی زمانے میں بڑے تیس مار خان سورما ہوا کرتے تھے ، وہ بھی اور باقی سب سیاستدان بھی دُم ہلاتے میرے پیچھے پیچھے چلیں گے ۔ ' ''
جنرل ضیاء نے آئین پاکستان کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا اس کے بارے میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کا روزنامہ جنگ 8جون 2010 کی اشاعت میں سامنے آنے والا یہ بیان تاریخ کا حصہ بن چکا ہے :
'' قرارداد مقاصد میں اقلیتوں کے حقوق کے ھوالے سے ربدیلی ایک مجرمانہ غفلت تھی ۔ جنرل ضیا ء الحق نے 1985 میں RCO کے ذریعے قرار داد مقاصد میں سے جعلسازی کے ذریعے اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے الفاظ حذف کروا دئیے تھے ۔ اس طرح جنرل ضیاء الحق قرار داد مقاصد میں جعلسازی کے مرتکب ہوئے ۔ ''
درج بالا بیان میں جسٹس افتخار چودھری نے جنرل ضیاء کی جس فریب دہی کی نشان دہی کی ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ 7مارچ 1949کو لیاقت علی خان شہید کی پیش کردہ دستاویز قرار داد مقاصد کی پانچویں شق کے الفاظ :
'' اقلیتیوں کو اپنے عقائد اور مذہبی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہوگی ۔ اقلیتیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ریاست ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی ۔''
جنرل ضیاء الحق نے اپنی قائم کردہ سیاسی مساکین پر مشتمل مجلس شوریٰ کی ملی بھگت ست لیاقت علی خان کے الفاظ درج ذیل الفاظ سے بدل دئیے :
'' اقلیتیوں کو اپنے عقائد اور تہذیبی اقدار کے اندر رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے لیے ریاست ہر مکن اقدامات کرے گی ۔''
یاد رہے کہ قرار داد مقاصد میں اس لفظی الٹ پھیر کو بدنام زمانہ آٹھوین ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنایا گیا ۔ یوں جنرل ضياء آئین پاکستان سے اقلیتیوں کے حقوق دانستہ حضف کرنے کے مرتکب ہوئے ۔ جنرل ضیاء کے فریب دہ انداز و اطوار اور سطحی ذہنیت کا عکس دکھانے کے لیے اور جناب اعجاز الحق کی تسلی کے لیے اس وقت اسی پر اکتفا کروں گا -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *