اگر آپ اے سی چلاتے ہیں اور بل زیادہ آتا ہے تو یہ طریقہ آزمائیں

درجہ حرارت کے بڑھنے کے ساتھ ہی اے کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے جو بجلی کے بل میں اضافے کا باعث بنتا ہے، فوٹوفائل

گرمیوں میں جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے آپ کا اے سی بھی اتنا ہی زیادہ چلتا ہے اور ساتھ ہی بجلی کا بل بھی بڑھنےلگتا ہے لیکن اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ چند ایسے طریقے ہیں جن کا استعمال کرکے آپ نہ صرف کولنگ حاصل کریں گے بلکہ بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔

ونڈو اے سی کیلیے: اگر آپ کے گھر ونڈو اے سی لگا ہوا ہے تو اسے ایسی جگہ لگائیں جہاں سورج کی روشنی کم پڑ رہی ہو اس طریقے سے آپ کا اے سی 10 فیصد زیادہ مؤثر طریقے سے کام  کرے گا۔ اگرآپ کی کھڑکی پر شیڈ لگا ہو تو اس کو موسم کے مطابق تبدیل ہوجانے والی پٹیوں سے ڈھانپ دیں تاکہ ٹھنڈی ہوا باہر نہ جا سکے اور کمرہ ٹھنڈا رہے۔

فلٹر کی صفائی: عام طور پر لوگ اے سی تو خوب استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے فلٹر کی صفائی کا خیال نہیں کرتے جس سے اے سی کی رننگ میں خلل آتا رہتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ فلٹر کو ایک ماہ میں ایک بار ضرور صاف کریں۔ فلٹر کی صفائی کے لیے کسی کاریگر کو بلانے کی ضرورت نہیں بلکہ سامنے کے کور کو کھولیں اور فلٹرنکال لیں پھر اسے گرم پانی سے دھوئیں یہاں تک کہ اس میں موجود مٹی او دیگر کچرہ نکل جائے، دھونے کے بعد اسے اچھی طرح خشک کر کے دوبارہ فٹ کردیں۔ اس عادت کو معمول بنالیں اور آپ دیکھیں گے کہ حیرت انگیز طور پر اے سی کی توانائی کا استعمال 15 فیصد کم ہو جائے گا یعنی ہر ماہ آپ کے بجلی کا بل کم ہوتا جائے گا۔

سینٹرل اے سی کیلیے: اگر آپ کے پاس سینٹرل اے سی لگا ہوا ہے تو اس کے لیے پروگرام ایبل تھرمو اسٹیٹ کا استعمال کریں تاکہ جب آپ گھر پر نہ ہوں تو بجلی کے زیادہ خرچ سے بچا جا سکے۔ جب آپ گھر پر موجود ہوں تو تھرمو اسٹیٹ کو 78 ڈگری پر رکھیں جب بھی آپ کمرے کو ٹھنڈا اورآرام دہ محسوس کریں گے اس طرح آپ 20 فیصد تک بجلی کا خرچہ کم کر سکیں گے۔

چھت والے پنکھے کا استعمال کریں: اے سی کے ساتھ اگر پنکھے کا بھی استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف تھرمو اسٹیٹ کو زیادہ درجہ حرارت پر رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کا خرچہ ایک گھنٹے میں ایک پیسے سے بھی کم ہوگا۔ یاد رکھیں اے سی کا تھرمو اسٹیٹ جتنا زیادہ درجہ حرارت پر رکھیں گے بل اتنا ہی کم آئے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *